Analysts say North Korea Faces Crystal Meth Epidemic – شمالی کوریا میں منشیات کی وبائا

ایک جریدے نارتھ کو ریا ریویو کی تحقیق کے مطابق نارتھ کو ریا میں میتھم فیمائن نامی منشیات بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے، اس منشیات کو مقامی طور پر آئس یا برف بھی کہا جاتا ہے، شمالی کوریا سے بھاگ کر جنوبی کوریا آ جانے والے افراد بھی اس نشے کی لت میں مبتلا نظر آتے ہیں۔اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ

ہماری ملاقات اس پچیس سالہ طالبعلم سے ایک پرشور کیفے میں ہوئی، کم ہین بین نامی اس طابعلم نے بتایا کہ اس نے آخری بار منشیات کا استعمال 2009ءمیں شمالی کوریا سے فرار کے وقت کیا تھا۔

کم”دریا عبور کرکے چین میں داخل ہونے سے قبل میں نے منشیات کی بڑی ڈوز لی، میں اس وقت بہت نروس تھا، میں نے دو گرام منشیات استعمال کرڈالی جسکی وجہ سے مجھے دریا عبور کرنے میں مدد ملی، اور میری پوری توجہ صرف وہاں سے نکلنے پر مرکوز ہوکر رہ گئی، مگر اس کے بعد میں دو روز تک سو نہیں سکا”۔

کم کے مطابق شمالی کوریا میں وہ اور اس کے دوست تین برسوں تک اس لت میں بمتلا رہے، اس کو خریدیا بہت آسان ہے اور ڈیلرز اس برف نامی منشیات کو کھلے عام گلیوں میں فروخت کرتے ہیں۔

کم ایچ بی”یہ دوستوں کے استعمال کرنے کیلئے پرلطف چیز تھی، ایک بار ہم نے جنوبی کورین ٹی وی سیریز کی ڈی وی ڈی بلیک مارکیٹ سے خریدی، جو کہ ساٹھ گھنٹے کے دورانیے کی تھی، برف کے استعمال نے ہمیں جگائے رکھنے میں مدد دی اور ہم نے پوری ڈی وی ڈی دیکھ ڈالی”۔

کم ہین بن واحد شمالی کورین تارک وطن نہیں جس نے اس منشیات کا تجربہ کیا ہے، بلکہ اکثر لوگ خصوصاً ٹرک ڈرائیورز جاگنے کیلئے اسکا استعمال عام کرتے ہیں۔ ایک اور نوجوان خاتون نے ہمیں بتایا کہ وہ اس منشیات کو جلد صاف کرنے کیلئے کرتی رہی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق شمالی کورین شہری میں اس منشیات کے استعمال کی شرح وباءکی حد تک بڑھ چکی ہے، کم سیوک ہیانگ، سیﺅل کی ایوہا وومینزیو نیورسٹی کی پروفیسر ہیں۔

کم ایس ایچ”اس عادت میں مبتلا ہونے کی شرح انتہائی سنگین ہے، لگ بھگ ہر بالغ شخص اس کا تجربہ کرچکا ہوتا ہے، میرے خیال میں چالیس سے پچاس فیصد تو مکمل طور پر اس کے عادی ہوچکے ہیں”۔

پروفیسر کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس منشیات کی تیاری درحقیقت حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ایک ادارے نے شروع کی، مگر تبدریج اس کی پرڈوکشن کارخانوں سے گھروں تک جاپہنچی اور پھر مقامی مارکیٹ میں یہ عام ہوگئی۔کم سیوک ہیانگ کا کہنا ہے کہ بیشتر شمالی کورین شہریوں کے خیال میں یہ منشیات نقصان دہ نہیں۔

کم سیوک”انکا کہنا ہے کہ برف ایک اچھی چیز ہے، اس سے ہر چیز کا علاج ہوسکتا ہے، شمالی کوریا کے دیہی علاقوں میں ہسپتال یا ڈاکٹرز موجود نہیں، تو آپ اس منشیات کو ہنگامی حالات میں استعمال کرسکتے ہیں”۔

مگر کچھ شمالی کورین افراد تو برف سے پیچھا چھڑانے کیلئے دیگر منشیات کا استعمال شروع کردیتے ہیں،کم یو نگ ا ل ایک اور شمالی کورین تارک وطن ہیں۔

کم یو نگ “برف آپ کو ساری رات جگائے رکھتی ہے، اسے استعمال کرنے والے متعدد افراد نیند کے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں، ان افراد کو بلیک مارکیٹ سے نیند کی گولیاں لینا پڑتی ہیں، کچھ برس حکومت نے ان گولیوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کیا، شمالی کورین حکومت اس مسئلے سے واقف ہے اور اسے روکنے کی کوشش بھی کرچکی ہے، مگر حکام سمیت متعدد افراد اس منشیات کے عادی بن چکے ہیں”۔

ان کے بقول یہ پہلی بار نہیں شمالی کوریا منشیات کی وباءکا شکار ہوا ہے، 90ءکی دہائی میں بھی افیون کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا تھا، جنوبی کورین حکام کے مطابق شمالی کوریا سے آنیوالے یہ تارکین وطن اب بھی منشیات کی لت میں مبتلا ہیں، سماجی رضاکار جیسےشن می نیوکا کہنا ہے کہ ان رجحان سے شمالی کوریا میں قانونی اور غیرقانونی ڈرگز کے حوالے سے شعور کی کمی کی عکاسی ہوتی ہے۔

شن می”اگر شمالی کورین افراد منشیات جنوبی کوریا لائیں یا یہاں اسے استعمال کریں تو وہ ایسا تفریح کیلئے نہیں کررہے، بلکہ ان کے خیال میں تو یہ ایک دوا ہے، جو کہ صحت کیلئے محفوظ ہے”۔

سیﺅل کے کیفے میں واپس چلتے ہیں، جہاں کم ہیون بن اس نشے کے استعمال کے دنوں کو یاد کرکے خوش ہورہا ہے، اس نے یہ عادت سرحد عبور کرتے ہی ترک کردی تھی۔

کم “نہیں اب میں اسے کبھی استعمال نہیں کروں گا، کبھی بھی نہیں، اب اس طرح کے تجربات کا دور گزر چکا ہے”۔