Burma’s Oil Rush in Magwayبرما میں خام تیل کی دریافت

وسطی برمی صوبے ما گا وے کے لاکھوں کاشتکار خام تیل کی دریافت کی دوڑ مین شریک ہورہے ہیں، اور ان کے خاندان اب زرعی سرگرمیوں کے مقابلے میں چھوٹے پیمانے پر کام تیل نکال کر زیادہ کمارہے ہیں، تاہم یہ کافی خطرناک کام بھی ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ہٹا ن گانگ آ ئل فیلڈمیں بڑی تعداد میں عارضی خیمے لگے ہوئے ہیں، یہ جگہ اس وقت ایک لاکھ افراد کا مسکن بنی ہوئی ہے، جو کہ وسطی برما سے یہاں تیل نکالنے کیلئے آئے ہیں۔

یہاں دن رات انجنوں کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں، ایک سال قبل یہاں لوگ کاشتکاری کا کام کرتے تھے مگر اب یہاں ہر طرف تیل کی تلاش کیلئے کھودے گئے گڑھے نظر آتے ہیں۔ تھیٹ نائنگ ون ایک چھوٹے سرمایہ کار ہیں۔

تھیٹ نائنگ ون”نوے فیصد افراد نے یہاں آنے کیلئے اپنے فارمز یا مویشی فروخت کئے ہیں”۔

ین ہٹوے ایک کاشتکار ہیں جو اپنے خاندان کو یہاں چار ماہ قبل لیکر آئے تھے۔

ین ہٹوے”گھر میں فارم سے ہمیں زیادہ آمدنی نہیں ہوتی تھی اور ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا”۔

اس آئل فیلڈمیں ین ہٹوے کی اہلیہ دا کیی تیل اٹھائے ہوئے آرہی ہیں تاکہ آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔

دا کیی”گاﺅں میں ہماری روز کی آمدنی صرف ڈالرز تھی، مگر یہاں ہم تیل اٹھانے کے کام کے ذریعے صرف آدھے گھنٹے میں چار سے پانچ ڈالرز کمالیتے ہیں”۔

مگر پھر بھی ایک بہت بڑا جوا ہے، تیل کے ایک گڑھے کی خریداری کیلئے تین ہزار ڈالرز درکار ہوتے ہیں، جس کے بعد انہیں پائپس، انجنوں اور کھدائی کے اخراجات بھی ادا کرنا پڑتے ہیں، مگر یہ مشکلات بھی علاقے کے نوجوان اور بیروزگار افراد کو اس جوئے سے دور نہیں رکھ سکیں۔ Ko Soe ایک طالبعلم ہے۔

کو سویی”میں اپنے اسکول کی چھٹیوں کے بعد سے یہاں موجود ہوں، میں نے یہاں ایک دکان کھول رکھی ہے اور پانی فروخت کرکے اپنے اسکول کے اخراجات کیلئے رقم جمع کررہا ہوں”۔

دا میابھی خام تیل کے ایک گڑھے پر رقم خرچ کررہی ہیں۔

دا میا”گھر میں مشکلات کے باعث میں یہاں آئی ہوں، دیگر آئل فیلڈز میں مجھے دشواریوں کا سامنا تھا تاہم یہاں حالات بہتر ہیں”۔

یہ کام کافی خطرناک ہے، اور اس فیلڈ میں رہائش کیلئے صورتحال کافی خراب ہے، جبکہ سیوریج کا نظام تو موجود ہی نہیں، اور سب سے بڑا خطرہ حکومت اور آئل فیلڈز کی زمینوں کے مالکان کے درمیان ملکیت کے تنازعے کا ہے۔ جس سے اس علاقے میں خونریز تصادم بھی ہوچکا ہے۔ تھیٹ ناینگ ون اس بارے میں بتارہے ہیں۔

تھیٹ ناینگ ون ” 2006ءمیں حکام نے یہاں کی زمینوں پر قبضہ کرلیا اور مقامی رہائشیوں پر فائرنگ کی،جس سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ اگر ہم یہاں ڈر سے آزاد ہوکر کام کرسکیں تو ہم اپنے ملک کیلئے زیادہ سرمایہ جمع کرسکیں گے”۔

کچھ لوگ ایک سے دوسرے آئل فیلڈ میں منتقل ہوتے رہتے ہیں، ین ہٹوے کا کہنا ہے کہ ایسے افرد کے بچے رسمی تعلیم سے محروم ہورہے ہیں۔

ین ہٹوے “بچوں کیلئے اسکول جانا مشکل ہوگیا ہے، ہم نے اپنی بیٹی کو چھٹی جماعت سے اٹھالیا ہے، اگر ہم اپنے گاﺅں میں ہوتے تو وہ اسکول جاتی رہتی، مگر ہم نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا، اسی لئے ہم نے اسے اسکول سے نکال لیا”۔

ہٹلان گانگ آئل فیلڈ میں حد سے زیادہ ہجوم ہونے کے باعث تیل کے سوتے خشک پڑنے لگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والے افراد کی بڑی تعداد اپنا قرضہ چکانے میں مشکل محسوس کررہے ہیں۔

ین ہٹوے “ہمارے لئے اپنے گاﺅں واپس جانا بھی ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ وہاں کام کیلئے کچھ بھی نہیں بچا۔ یہاں ہمارے پاس کچھ تیل کے گڑھے ہیں اور ہم ان کے ذریعے اپنے خاندان کیلئے کچھ رقم کماسکتے ہیں”۔