نیپال میں ہیومین ٹریفکنگ طویل عرصے سے ایک بڑا مسئلہ ہے، چاریما ٹمانگ کو اس وقت فروخت کردیا گیا تھا جب ان کی عمر سولہ تھی، اپنے اس ہولناک تجربے کے باعث انھوں نے ہیومین ٹریفکنگ کی روک تھام کیلئے ایک این جی او ساکتی سا موہا قائم کی، ان کے ادارے کو گزشتہ برس ایشیاءکے نوبل انعام سمجھے جانے والے رامون ما گسا یا سے ایوارڑسے بھی نوازا گیا، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
پندرہ کے قریب افراد این جی او شاکتی سامو ہا کے دفتر میں کام میں مصروف ہیں، یہ تنظیم ہیومین ٹریفکنگ کیخلاف کام کررہی ہے۔
یہ لوگ این جی او کی صدر سنیتا دانووارکیساتھ اپنے آئندہ کے پروگرام پر بات چیت کررہے ہیں۔
سنیتا”ہم ہیومین ٹریفکنگ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے پر توجہ دے رہے ہیں، ہم ایسے محفوظ گھر بھی چلارہے ہیں، جہاں ایسے متاثرین کو پناہ دی جاتی ہے جو اپنے گھر یا گاﺅں واپس نہیں جاسکتے”۔
سنیتا کو ماضی میں بھارت کے معروف بازار حسن کمات پورمیں فروخت کردیا گیا تھا۔
سنیتا”ہم نے یہ این جی او اس توقع کیساتھ قائم کی ہے کہ کوئی اور نوجوان لڑکی کو ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جن سے ہمیں گزرنا پڑا، اور اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری این جی او دنیا کی پہلی ایسی انسداد ہیومین ٹریفکنگ تنظیم ہے جو متاثرہ افراد خود چلارہے ہیں”۔
اس این جی او کی بانی چاریما یا تمنگ جب سولہ سال کی تھی تو انہیں بھی بازار حسن میں فروخت کردیا گیا تھا، وہاں انہیں دو سال گزارنے پڑے، جس کے بعد بھارتی حکومت نے ان سمیت دو سو نیپالی خواتین کو وہاں سے بازیاب کرا لیا۔
چاریما یا تمنگ “مجھے وہ تاریخ اب بھی یاد ہے، وہ پانچ فروری 1996ءکا دن تھا، جب اچانک پولیس نے اس قحبہ خانے پر چھاپہ مارا، اس وقت میں دوپہر کا کھانا کھا رہی تھی، اس کے بعد مجھے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، میں خوفزدہ تھی، مگر وہ دن میری زندگی میں نئی روشنی ثابت ہوا”۔
نیپال واپسی کے بعد چاریما یانے دیگر پندرہ متاثرین کے ہمراہ اپنی ایک این جی او کی بنیاد رکھی۔
چاریما یا”اس وقت کوئی بھی ہمیں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھا، اسی وجہ سے ہم نے متحد ہونے کا فیصلہ کیا، جب ہم قحبہ خانے میں تھے تو ہم نے ملکر اپنے آنسوﺅں کو بہایا تھا، ہم نے آزادی کے بعد ان آنسوﺅں کو اپنی طاقت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا”۔
مگر شروع میں حالات آسان نہیں تھے، سنیتا کو اب بھی وہ وقت یاد ہے۔
سنیتا”آغاز میں ہمیں متعدد چیلنجز کا سامنا تھا، ہم اپنے تجربات پر بات تک نہیں کرسکتے تھے، مگر اب معاشرے نے ہمیں قبول کرلیا ہے، حکومت نے بھی ہماری خدمات کو تسلیم کیا ہے”۔
سب سے پہلے چاریما یانے ایک فوجداری مقدمہ اپنے پڑوسیوں پر دائر کیا، جنھوں نے انہیں اغوا کیا تھا، جس کے بعد چار افراد کو دس برس قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بعد انھوں نے دیگر متاثر کی مدد کیلئے شاکتی ساموہاکو قائم کیا۔
چاریما یا”ہم صرف اخلاقی حمایت نہیں بلکہ متاثرین کو قانونی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں، ہمارے تعاون کے بعد کچھ متاثرین نے ہیومین ٹریفکنگ میں ملوث افراد کیخلاف مقدمات درج کروائے، ہم اس وقت متاثرین کیلئے دو پناہ گاہیں بھی چلارہے ہیں، جہاں وہ محدود مدت کیلئے رہ سکتے ہیں۔ ہم متاثرین کو قانونی معاونت تو فراہم کرتے ہیں مگر یہ کافی نہیں، ہمیں متاثرین کی طویل المعیاد معاونت کیلئے مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔ حکومت ہمیں تعاون تو فراہم کررہی ہے مگر یہ کافی نہیں”۔
چاریما یا اور ان کی این جی او کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جارہا ہے، انہیں 2007ءمیں نیپالی حکومت کی جانب سے پہلا ایوارڈ ملا، اور گزشتہ برس انہیں نیپال میں ہیومین ٹریفکنگ کیخلاف جدوجہد پر معتبررامون ماگسے سے ایوارڈسے نوازا گیا۔
چاریما یا”جب ہمیں بھارت میں بچایا گیا اور ہم اپنے ملک واپسی کی کوشش کررہے تھے، تو ہماری حکومت نے ہمیں قبول کرنے سے اناکر کردیا تھا، مگر اب ہمیں ہماری حکومت کی جانب سے اعزازات سے نوازا جارہا ہے، ملکی اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے ہمیں سراہا جارہا ہے، جس نے ہمارے اندر نئی توانائی بھر دی ہے”۔
نیپال میں ہیومین ٹریفکنگ کے حوالے سے کوئی درست ڈیٹا دستیاب نہیں، مگر کئی اداروں کا دعویٰ ہے کہ ہر سال پانچ ہزار کے قریب خواتین کو ٹریفک کیا جاتا ہے۔
چاریما یا”جب میں نے بائیس ماہ قحبہ خانے میں گزارے، تو ہر ماہ متعدد نیپالی خواتین کو وہاں لایا جاتا تھا، کچھ کی عمریں تو صرف دس سال تھیں، جبکہ کچھ بیوائیں بھی تھیں۔ میں نے اپنی پوری زندگی نیپال میں خواتین کی ٹریفکنگ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کیلئے صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ میرے گاﺅں میں بیٹیوں کو آمدنی کیلئے بھارت بھیجنے کا رجحان کافی عام ہے”۔
چاریما یاکا ماننا ہے کہ یہ ایک طویل جدوجہد ثابت ہوگی۔
چاریما یا”ہم شعور اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور حکومت بھی یہی کوشش کررہی ہے، تاہم اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کئے جانیکی ضرورت ہے”۔