آنگ سان سوچی کی ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد اب برما میں تاریخی جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ چند روز قبل مسلح باغی گروپ Karen National Union اور برمی حکومت کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، جس کے بعد برسوں پرانی خانہ جنگی اختتام پذیر ہوگئی۔
برمی دارالحکومت رنگون میں مقامی صحافیوں اور مبصرین کی موجودگی میں Karen National Union یا کے این یو کے وفد اور حکومتی وزراءنے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر حکومتی مذاکرات کاروں کے سربراہ Aung Min کا کہنا تھاکہ بات چیت اچھے طریقے سے جاری ہے۔
(male) Aung Min “ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔ مسلح تنازعات ایک ایسا مرض ہے جو 63 برس پہلے ہمارے ملک کو لاحق ہوا تھا، ہر برمی حکومت نے اس مرض کا علاج کرنے کی کوشش کی، تاہم بدقسمتی سے کوئی دوا کام نہ کرسکی۔ ہم کئی کوششوں کے بعد اب نئے عزم سے یہ کام کررہے ہیں، اور ہمیں توقع ہے کہ ہماری دوا سے اس مرض کا خاتمہ کردیا جائے گا، کیونکہ اب ہم سب مذاکرات کی میز پر ہیں اور دوستانہ انداز میں بات چیت کررہے ہیں”۔
Naw Zipporah Sein کے این یو کی سیکرٹری جنرل ہیں، امن معاہدے پر دستخط کے بعد انھوں نے اپنے وفد کے ہمراہ برمی صدر سے بھی ملاقات کی۔
(female) Naw Zipporah Sein “جب ہماری ملاقات صدر سے ہوئی، تو ہم نے محسوس کیا کہ وہ ملک میں امن قائم کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں اور وہ اس مقصد کے حصول کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا چاہتے ہیں”۔
کے این یو برمی قبیلے Karen کی نمائندگی کرنے والا گروپ ہے، برما کی مجموعی آبادی کا سات فیصد حصہ اس برادری پر مشتمل ہے۔ برما میں دیگر باغی گروپ بھی موجود ہیں، مگر کے این یو سب سے مضبوط اور پرانا گروپ ہے، جسکا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس چودہ ہزار مسلح افراد کی فوج ہے، اور تھائی برما سرحد سمیت ملک کے بیشتر حصے اس کے کنٹرول میں ہیں۔ گزشتہ سال جنوری میں حکومت نے کے این یو کے ایک اور دھڑے سے جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا، تاہم لڑائی جاری رہنے کی وجہ سے وہ ناکام ہوگیا تھا۔ مگر اب نئے معاہدے سے توقع ہے کہ مستقل امن قائم ہوجائے گا۔ دونوں اطراف نے معاہدے میں تیرہ نکات پر اتفاق کیا ہے، جس میں شہریوں کے تحفظ، بے گھر ہونیوالے افراد کی مدد اور آئی ڈی پیز کی گھر واپسی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد Karen افراد نے سرحد پر واقع پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لی ہے، جن کی بحالی نو کے حوالے سے Aung Min مجوزہ منصوبے کی تفصیلات بتارہے ہیں۔
(male) Aung Min “آئی ڈی پیز نے اپنے گھر سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑے تھے، تو سب سے پہلی چیز ان دیہاتوں میں سیکیورٹی کو بہتر بنانا ہوگا، اگر ایسا ہوگیا تو یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں گے، انہیں سیکیورٹی کی ضمانت دیئے بغیر زبردستی گھر جانے پر مجبو نہیں کیا جاسکتا، اب کچھ لوگ واپس لوٹنا شروع ہوگئے ہیں، جن کی بحالی نو، خوراک کی فراہمی اور روزگار وغیرہ کے ذمہ دار ہم ہوں گے”۔
حکومتی امن وفد کے سنیئر رکن U Soe Thein کا کہنا ہے کہ امن عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے تاہم اس پر کام جاری رہنا چاہئے۔
(male) U Soe Thein “ہم سب بھائی ہیں، ہماری حکومت امن عمل کو سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ نہیں بنانا چاہتی، اس خانہ جنگی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ امن کے قیام کیلئے ہمیں لفاظی کی بجائے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔اس اجلاس میں موجود لوگ دس یا پندرہ سال تک ہی زندہ رہ سکیں گے، تاہم ہمیں اپنی مستقبل کی نسل کے بارے میں سوچنا ہوگا”۔
تاہم کے این یو اب بھی حکومت کی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے اور اسے دہشت گرد گروپ کہا جاتا ہے۔ ماضی میں اس گروپ پر متعدد بم دھماکوں کے الزامات بھی عائد ہوئے۔ Naw Zipporah Sein اس بارے میں بات کررہی ہیں۔
(female) Naw Zipporah Sein “یہ حقیقت کہ کے این یو ایک کالعدم گروپ ہے، اس امن عمل کو متاثر کرسکتا ہے، جب ہم نے صدر سے ملاقات کی تو ہم نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا، جس پر انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں جلد از جلد اقدام کریں گے”۔
امن مذاکرات میں ملک گیر جنگ بندی کے امکانات پر بھی بات چیت کی جارہی ہے، متعدد دیگر گروپس پہلے ہی حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدوں پر دستخط کرچکے ہیں۔ برمی صدر U Thein Sein ملک بھر میں امن قائم کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں اور اب کے این یو نے برمی شہروں میں اپنے دو دفاتر بھی قائم کئے ہیں، تاہم اس کا صدر دفتر ایک برمی جنگل میں واقع ہے۔
امن معاہدے پر دستخط کے دو روز بعد بھی کے این یو کے وفد نے حزب اختلاف کی رہنماءآنگ سان سوچی سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی، جنھوں نے اس معاہدے کو سراہا۔
آنگ سان سوچی(female) “یہ جنگ بندی پہلا مرحلہ اور پہلا قدم ہے۔ قومی امن جنگ بندی کے بغیر ممکن نہیں۔ جب جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہوجائیگا، تو اگلے مرحلے میں ملک میں امن بھی قائم ہوجائیگا”۔