گزشتہ دنوں بھارتی ریاست گجرات میںتمباکو سے تیار کئے جانے والے گٹکے کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کردی گئی تھی، اس کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ ماہ قید اور لاکھوں روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔تاہم سماجی کارکن اس نشے پر ملک گیر پابندی کا مطالبہ کررہے ہیں
Devender Singh ایک اسکول میں پڑھاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ شہری صحافی بھی ہیں۔ وہ گزشتہ تین برس سے ٹی وی چینلز پر تمباکو چبانے کی عادت کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔
ایک اشتہار میں Devender Singh کہہ رہے ہیں کہ گٹکا کھانا چھوڑ دیں یہ آپ کی صحت کے لئے خطرناک ہے۔Devender Singh خود بھی برسوں تک تمباکو استعمال کرتے رہے اور پھر ان میں گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔
سنگھ(male) “میں اپنی غذا کی نالی میں لگائی جانے والی ایک ڈیوائس کے ذریعے بولنے پر مجبور ہوں۔ میری اصل آواز اب میرے ساتھ نہیں۔ مجھے اتنا بڑا نقصان صرف گٹکا استعمال کرنے کی وجہ سے ہوا”۔
گٹکا تمباکو، سپاری اور دیگر اجزاءکے امتزاج سے تیار کیا جاتا ہے، یہ تمام اجزاءکینسر کا سبب بنتے ہیں۔32 سالہ بشیر خان ایک رکشہ ڈرائیور ہیں، وہ گزشتہ پانچ سال سے گٹکا استعمال کررہے ہیں۔
خان(male) “مجھے سیگریٹ پسند نہیں، اس کا دھواں میرے گلے میں پھنس جاتا ہے، مجھے تمباکو چبانا پسند ہے۔ تاہم سادہ تمباکو بہت تیز ہوتا ہے اور اسے استعمال کرنے سے آپ کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں گٹکا زیادہ تیز نہیں ہوتا، یہ میٹھا اور اس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں گٹکے کو پسند کرتا ہوں”۔
صرف بالغ افراد ہی نہیں اٹھارہ سال سے کم عمر 50 لاکھ بچے بھی اس نشے کے عادی ہیں۔ Public Health Foundation کے صدر ڈاکٹر سری ناتھ ریڈی کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
ڈاکٹر ریڈی(male) “پندرہ سال کی عمر کے 26 فیصد افراد تمباکو استعمال کرنے لگے ہیں۔ خواتین اور بچوں میں گٹکے کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اگر آپ خواتین کو دیکھیں تو تمباکو نوشی کرنے والی دو فیصد خواتین کے مقابلے میں اٹھارہ فیصد گٹکا استعمال کرتی ہیں۔ اسی طرح بچوں میں بھی تمباکو چبانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے”۔
بھارت بھر میں گٹکا تلاش کرنا بہت آسان ہے، یہ چند روپوں میں باآسانی دکانوں سے مل جاتا ہے، مگر بیس سالہ سائیکل رکشہ چلانے والے صدام حسین اب حسرت سے سوچتے ہیں کہ کاش انھوں نے گٹکا استعمال نہ کیا ہوتا۔ صدام کو منہ کا کینسر ہے اور ان سے صحیح طرح بولا بھی نہیں جاتا۔
حسین(male) “اس وقت میں سات یا آٹھ سال کا ہوگا جب میں نے گٹکا استعمال کرنا شروع کیا، اس کا ذائقہ اچھا اور یہ آسانی سے مل جاتا تھا۔ مجھے جب بھی پیسے ملتے تو میں گٹکا خرید لیتا۔ چند برس قبل میں نے اپنے منہ کے اندر سوجن اور غیرمعمولی سختی محسوس کی، میں ڈاکٹر کے پاس گیا، جس نے مجھے ایک ہسپتال بھیج دیا۔ وہاں کے ڈاکٹرز نے چند ہفتے قبل مجھے کینسر کے بارے میں بتایا اور کہا کہ اس کا علاج بہت مہنگا ہے۔ میرے پاس علاج کیلئے پیسے نہیں، اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے گٹکا استعمال کرکے کتنی بڑی غلطی کی”۔
تمباکو کے استعمال سے بھارت میں ہر سال دس لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں، صرف گٹکا استعمال کرنے والے اسی ہزار افراد میں ہر سال منہ کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔کینسر کی شرح میں تشویشناک اضافے کے بعد رواں سال اپریل میں ریاست مدھیہ پردیش نے گٹکے کے استعمال، تیاری اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کی، دس دیگر ریاستوں میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران اس پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔گٹکے کے خلاف مہم چلانے والے ڈاکٹر Sekharesh Ghoshal کا کہنا ہے کہ ملک گیر پابندی عائد کرکے ہی لوگوں کو گٹکا استعمال کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔
(male) Sekharesh Ghoshal “اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گٹکے کی وجہ سے ہمارے ملک میں کینسر کی شرح بڑھ رہی ہے۔ ایک اور نقطہ جو قابل ذکر ہے وہ یہ کہ گٹکا استعمال کرنے والے ہر جگہ یعنی شاہراﺅں، دفاتر، بازاروں اور ٹرینوں میں گٹکا تھوکتے ہیں، جس کی وجہ سے عوامی مقامات بہت گندے نظر آنے لگتے ہیں۔ہم گٹکے پر پابندی کو خوش آمدید کہتے ہیں، کیونکہ ہمارے نظر میں لوگوں کو اس بری لت سے بچانا کا کوئی اور طریقہ نہیں۔ تاہم چند ریاستوں میں گٹکے پر پابندی اس وقت تک فائدہ مند نہیں ہوگی جب تک پورے ملک میں اس پر پابندی نہیں عائد ہوجاتی”۔
اب تک کسی ریاست نے گٹکا کھانے والے افراد کے خلاف کسی سزا کا اعلان نہیں کیا، بلکہ ان کی ساری توجہ اسے بنانے یا فروخت کرنے والوں کے خلاف ہے، جنھیں پکڑے جانے پر چھ ماہ قید یا لاکھوں روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، تاہم بہت سے مقامات پر پابندی کے باوجود وہاں دیگر ریاستوں سے گٹکا اسمگل ہوکر پہنچ رہا ہے۔ رانی حیدر کے بیٹے ماں کی بازپرس کے باوجودگٹکا کھانے سے باز نہیں آتے۔
حیدر(female) “میرے تینوں بیٹے گٹکا کھاتے ہیں،ہر دکان میں گٹکے کی فروخت کی وجہ سے اس تک رسائی بہت آسان ہے۔ یہ صحت کے لئے مضر ہے مگر میرے بیٹے میری بات سننے کیلئے تیار ہی نہیں۔ہماری ریاست میں بھی گٹکے پر پابندی لگائے جانے کی ضرورت ہے، ورنہ میں اپنے بچوں کو اس خطرناک نشے سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکوں گی”۔