پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبرپختونخواہ میں گزشتہ سال سات سو سے زائد اسکولوں کو تباہ یا نقصان پہنچایا گیا، تاہم اس صورتحال کے باوجود عیسائی خواتین پڑھانے سے پیچھے نہیں ہٹی ہیں۔
لنڈی کوتل میں چند ماہ قبل اسکول تباہ ہونے کے باعث بچے کھلے آسمان تلے بچے اردو پڑھ رہے ہیں۔
انیس سالہ Carole گزشتہ پانچ ماہ سے یہاں پڑھا رہی ہیں۔ شروع میں تو انھوں نے ہم سے بات کرنے سے انکار کردیا، تاہم ان کے ایک دوست کی مدد سے وہ ہم سے بات کرنے کیلئے تیار ہوگئیں۔ Carole عیسائی ہیں اور انکا کہنا ہے کہ وہ یہاں پڑھا کر بہت بڑا خطرہ مول لے رہی ہیں۔
(female) Carole “ہمیں متعدد دھمکیاں مل رہی ہیں، عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ ہم پر تیزاب پھینک دیں گے۔ ان دھمکیوں کی وجہ سے متعدد بچیوں نے اسکول آنا چھوڑ دیا ہے۔ میں جب بھی گھر سے باہر نکلتی ہوں تو خدا سے اپنی حفاظت کی دعائیں کرتی ہوں، مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ میں زندہ گھر واپس آبھی سکوں گی یا نہیں، مگر ان سب کے باوجود مجھے یہاں پڑھانا پسند ہے، میں یہاں کے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہوں”۔
یہاں پڑھانے والے بیشتر اساتذہ عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے علاقہ چھوڑ کر پشاور چلے گئے ہیں۔ اس وجہ سے مقامی انتظامیہ عیسائی خواتین جیسے Carole کو ملازمتوں پر رکھ رہی ہے۔Carole نے پڑھانے کی پیشہ وارانہ تربیت حاصل نہیں کررکھی، تاہم انھوں نے اپنے خاندان کی کفالت کے لئے یہ ملازمت قبول کی۔ انہیں اس تباہ شدہ اسکول میں پڑھانے پر ماہانہ ساڑھے تین ہزار روپے ملتے ہیں۔
کیرول(female) “میری چار بہنیں اور ایک بھائی ہے، میرا بھائی مجھ سے چھوٹا ہے، درحقیقت میں اپنے گھر میں سب سے بڑی ہوں۔ میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ہمیں متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ میں اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہوں اس طرح میں کسی پر بوجھ بنے بغیر اپنے خاندان کی کفالت کرسکوں گی”۔
اس وقت سرکاری طور پر تو معلوم نہیں کہ کتنی عیسائی خواتین پڑھا رہی ہیں، تاہم اس نئے پیشے نے عیسائی مردوں کے مقابلے میں خواتین کی عزت مقامی لوگوں میں زیادہ بڑھا دی ہے۔ 30 سالہ زیب النساءعیسائی خاتون ہیں، وہ تمام تر خطرات کے باوجود پڑھانے سے محبت کرتی ہیں۔
زیب النسائ(female) “ہمارے لئے اسکول جانا خطرناک ہے، اسکول جاتے ہوئے میرے راستے میں بم دھماکے ہوتے ہیں، اب تک متعدد اسکول تباہ کئے جاچکے ہیں، ہم خوفزدہ ہیں، مگر ان تمام مسائل کے باوجود میں اپنے طالبعلموں کو پڑھانے اسکول آتی ہوں”۔
لنڈی کوتل میں آٹھ سو کے لگ بھگ عیسائی مقیم ہیں، تاہم انہیں شناختی کارڈز کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، کیونکہ انہیں قبائلی علاقوں کا رہائشی نہیں سمجھا جاتا۔ شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث انہیں کام ڈھونڈنے میں مشکل ہوتی ہے، جبکہ وہ حکومتی معاونت کیلئے بھی درخواست نہیں دے پاتے۔
ہم لوگ اس وقت مقامی محکمہ تعلیم کے دفتر میں موجود ہیں، یہاں کے عہدیدار عیسائی اساتذہ کو پسند نہیں کرتے۔
محکمہ تعلیم کا ایک کلرک الزام لگارہا ہے کہ عیسائی اساتذہ بچوں میں عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں، مگر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر خیبرایجنسی ہدایت اللہ کا کہنا ہے کہ عیسائیوں کو سرکاری طور پر تعلیم دینے سے روکنے کی کوئی پالیسی موجود نہیں۔
ہدایت اللہ” (male) قبائلی علاقوں میںلڑکیوں کو پانچ جماعت کے بعد اسکول جانے کی اجازت نہیں دی جا تی، یہاں لڑکیوں کی تعلیم میں کوئی دلچسپ نہیںکی جا تی۔ یہاں تعلیم کے فروغ کیلئے موزوں ماحول موجود نہیں، علاقے کی سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوجائے تو ہم تعلیم دوست ماحول کو فروغ دیں گے۔ عیسائیوں سمیت ہر ایک کو پڑھانے کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی گروپ اسے پسند نہیں کرتا تو اس کی سوچ غلط ہے۔ ہم نسل و مذہب کے امتیاز کے بغیر تمام اساتذہ کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے”۔
چوبیس سالہ Qasam Afridi پشاور یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت اور قبائلی رہنماﺅں کو طالبان سے اسکولوں کو بچانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے۔
(male) Qasam Afridi “گزشتہ پانچ یا چھ برسوں سے عسکریت پسند اسکولوں کو تباہ کررہے ہیں، مگر حکومت قبائلی عوام خصوصاً خواتین تک تعلیم کی رسائی کیلئے مناسب اقدامات کرنے میں سنجیدہ نہیں۔میرے خیال میں حکومت، قبائلی رہنماﺅں اور طالبان عسکریت پسندوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ قبائلی افراد تعلیم یافتہ افراد کو پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ ان کی حاکمیت کو چیلنج کرتے ہیں۔ حکومت ایسے علاقوں میں اسکول تعمیر کرتی ہے جہاں باآسانی گھر بنالئے جاتے ہیں۔ میں طالبان کی جانب سے اسکولوں کو تباہ کرنے کی حمایت نہیں کررہا، مگر حکومت اور قبائلی رہنماءبھی تعلیم دشمنی کے یکساں ذمہ دار ہیں۔ ہماری حکومت کو عیسائی اساتذہ کو اچھی تنخواہیں دینی چاہئے”۔