بھارت جیسے قدامت پرست معاشرے میں کسی مسلم خاتون کا ریسلنگ جیسے کھیل میں حصہ لینے بہت کم نظر آتا ہے، مگر فاطمہ بانو ایک روایت شکن خاتون ثابت ہوئی ہیں۔ اپنے علاقے کی پہلی خاتون ریسلر ہونے کا اعزاز رکھنے والی فاطمہ بانو اب دیگر بھارتی خواتین کو تربیت فراہم کررہی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
فاطمہ بانو صبح کے چھ بجے اپنی تربیت کا آغاز کرتی ہیں، اس وقت وہ اپنے طالبعلموں کیساتھ وارم اپ ورزشیں کرتی ہیں۔
اڑتیس سالہ بھارتی قومی ریسلنگ کوچ کو مدھیہ پردیش حکومت نے اس کام کے لئے منتخب کیا ہے۔ اپنے بچپن سے ہی فاطمہ اس کھیل کی محبت میں گرفتار ہوگئی تھیں۔ کبڈی اور جوڈو میں مہارت کے بعد فاطمہ نے نئے چیلنج کو قبول کیا۔
فاطمہ”شروع سے ہی مجھے چیلنجز قبول کرنا پسند ہے، جب ریسلنگ بھارت میں مقبول ہوئی تو صرف مرد ہی اس میں حصہ لیتے تھے اور یہ حیرت انگیز نہیں کہ اس کھیل پر مردوں کا غلبہ ہوگیا تھا۔ میرا سوچنا تھا کہ آخر میں کیوں اس چیلنج کو قبول نہیں کرتی کہ کوئی خاتون بھی اس کھیل میں داخل ہوسکتی ہے۔ میں اس وقت جوڈو کی کھلاڑی تھی اور متعدد خواتین جوڈو کا حصہ بن رہی تھیں۔ تو میرا خیال تھا کہ مجھے اس میدان میں قدم رکھنا چاہئے جس میں ابھی تک کوئی خاتون داخل نہیں ہوئی”۔
ان کے شوہر شاکر نور اس وقت کو یاد کررہے ہیں، جب ان کی بیوی اپنے والدین کو قائل کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔
شاکر نور”اگرچہ فاطمہ کھیلوں میں حصہ لیتی تھی مگر اس کا خاندان اس بات پر راضی نہیں تھا کہ وہ ریسلنگ میں حصہ لے۔ مگر بہترین امر یہ تھا کہ وہ کھیلوں کے حوالے سے بہت پرجوش تھی ، اس کا خاندان ریسلنگ میں حصہ لینے کے فیصلے کا مخالف تھا کیونکہ اسے مردوں کا کھیل سمجھا جاتا تھا، اور کسی مسلم خاتون کیلئے ایسے کھیلوں کا حصہ بننا ممکن نہیں سمجھا جاتا تھا”۔
فاطمہ کو اپنی برادری کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مسلم عالم مفتی شیس بتارہے ہیں کہ آخر وہ کیوں فاطمہ کے فیصلے کی مخالفت کرتے رہے۔
مفتی صاحب “اسلام میں کچھ پابندیاں عائد ہیں اور ہر ایک کو اس کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ ایک خاتون کو اپنا سراپا مکمل طور پر ڈھانپنا ہوتا ہے اور مناسب لباس پہننا ہوتا ہے، مگر کھیل جیسے ریسلنگ میں خواتین کو مختصر ملبوسات پہننے پڑتے ہیں، جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہم کسی کی انفرادی سطح پر مخالفت نہیں کرتے، مگر ہمارا ماننا ہے کہ ہمیں اپنے مذہب کا احترام کرنا چاہئے”۔
دوہزار ایک میں فاطمہ کو وکرم ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ وہ اعلیٰ ترین اعزاز ہے جو کھیلوں کے شعبے میں مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے دیا جاتا ہے، فاطمہ کو 2008ءمیں اسپورٹس رائم ایوارڈ بھی دیا گیا، شاکر نور جو فاطمہ کے ریسلنگ کوچ رہے ہیں، اپنی بیوی پر فخر کرتے ہیں۔
شاکر نور”میں اس کے لئے بہت خوش ہوں، اس کی کامیابی میری کامیابی ہے۔اب وہ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جس کا میں نے کبھی تصور تک نہیں کیا تھا۔ وہ مجھ سے زیادہ بہتر اور برتر ہے۔ اس نے روزانہ کی بنیاد پر خود کو بہتر بنایا ہے”۔
جم کے اندر بارہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے بیس طالبعلم فاطمہ سے کشتی کے داﺅ پیچ سیکھ رہے ہیں، اس گروپ میں دس لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ سولہ سالہ سشما سریا بھی اس میں شامل ہیں۔
سشما”فاطمہ نے مجھے جم آکر ٹرائل دینے کا کہا تھا اور پھر مجھے ٹریننگ کیلئے منتخب کرلیا گیا۔ وہ ہماری کوچ بن گئیں اور ان کی سخت محنت کے باعث میں اب قومی سطح کے مقابلوں میں شرکت کررہی ہوں۔ میں نے قومی مقابلوں میں طلائی تمغے بھی جیتے ہیں”۔
فاطمہ کی مثال کو دیکھتے ہوئے دیگر بھارتی خواتین بھی ریسلنگ کے شعبے میں آئی ہیں، اس وقت صرف مدھیہ پردیش میں ہی چھتیس خواتین ریسلرز موجود ہیں۔
فاطمہ بانو”بھارت میں زیادہ سے زیادہ لڑکیاں اس کھیل میں آگے آرہی ہیں۔ تمام برادریوں کے بچے اس کھیل کا حصہ بن رہے ہیں، کچھ مسلم لڑکیاں بھی آگے آئی ہیں تاہم اب بھی ان کی تعداد بہت کم ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تمام برادریوں کے بچے کھیلوں کے میدان میں آئے، مجھے توقع ہے کہ زیادہ لڑکیاں اس گیم میں شامل ہوکر اپنے خوابوں کو سچ ثابت کرسکیں گی”۔