پینکھاو تھیٹر چین کا پہلا آزاد تھیٹر ہے، 2008ءمیں تشکیل پانے والے اس تھیٹر سے ایک نئے عہد کا آغاز ہوا، جس سے لوگوں کو اظہار رائے کی نئی آزادی ملی۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
وانگ ییان نے اپنے دو دوستوں چن زی اولنگ اور گوئی لا کے ہاتھ تھام رکھے ہیں، اور یہ تینوں سوئیڈن کے سب سے بہترین تھیٹر دہ رائل ڈریمیٹک تھیٹر جارہے ہیں۔
یہ تینوں سوئیڈش فنکاروں کیساتھ ملکر کر چین میں ماڈرن تھیٹر کے موضوع پر ڈرامے پر کام کررہے ہیں، وانگ ییان نے بیجنگ میں چین کے پہلے آزاد و خودمختار پینکھاو تھیٹر کا آغاز کیا تھا۔
وانگ اونگ “آج متعدد بلند و بالا عمارات تعمیر ہوچکی ہیں اور معیار زندگی بہتر ہوچکا ہے، اسٹاک مارکیٹ امریکہ کی وال اسٹریٹ کے برابر آچکی ہے، مگر ہم اپنے اقدار اور ثقافت کو کھو رہے ہیں، میں نے یہ تھیٹر اسی لئے شروع کیا کہ چین کی گمشدہ ثقافتی روح کو واپس لاسکوں”۔
جب وانگ نے 2008ءمیں تھیٹر کیلئے اجازت طلب کی تو انتطامیہ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اسطرح کی درخواستوں پر کیا جواب دیا جانا چاہئے، اسی لئے ان کی درخواست منظور ہونے میں دو سال کا عرصہ لگ گیا، اس وقت سے اب تک وہ بیجنگ میں ایک ہزار سے زائد پرفارمنسز دکھا چکے ہیں۔
وانگ “جب لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوتا ہے تو انہیں بہتر روحانی زندگی کی بھی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ثقافت تشکیل پاتی ہے”۔
وانگ ییان ایک اور شعبے میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں، وہ ایک دندان ساز ہیں اور انھوں نے چین کے پہلے نجی ڈینٹل کلینک کا آغاز کیا تھا، انھوں نے اپنی تمام آمدنی اپنے تھیٹر پر لگادی ہے۔
آج وہ لوگوں کو دہائیوں پرانے ملی نغمہ سنا رہے ہیں، ماضی میں انتطامیہ کی جانب سے صرف آٹھ ڈراموں کی اجازت ملتی تھی مگر ثقافتی انقلاب کے بعد صورتحال میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ چن زی او لنگ کے لکھے ہوئے ڈرامے پر سوئیڈش فنکار کام کررہے ہیں۔اس میں چین کے اہم ترین پلے رائٹر کاو یو کی زندگی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔
کاو یونے اپنا تخلیقی کام ثقافتی انقلاب کے اصولوں پر عمل کرنے کیلئے تباہ کردیا تھا، اس فیصلے پر وہ پوری زندگی پچھتاتا رہا، ایک بڑی شخصیت پر تنقید چن زی اولنگ کیلئے چینی اسٹیج پر اس وقت تک ناممکن تھا، جب تک یہ تھیٹر قائم نہیں ہوگیا۔ پینکھاو تھیٹر میں ہر طرح کی سیاسی تنقید پر مبنی کھیل دکھائے جاتے ہیں، تاہم اب تک چینی حکومت نے اس حوالے سے کافی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
چن”اب مجھے پینکھاو تھیٹر میں اپنے ڈراموں میں صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا، کیونکہ پلے رائٹنگ آپ کو محدود کرکے رکھ دے گا”۔
پلے رائٹر گولائی کا کھیل ایک شخص کی فوج سے گھر واپسی کے اوپر مشتمل ہے، اس کا خاندان حکومت کی جانب سے نظرانداز کئے جانے پر سب کچھ کھو چکا ہوتا ہے، گو لائی دیہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، اور وہ اسی ماحول کے بارے میں لکھتے ہیں۔
گو لائی”تھیٹر میں ہمیں یہ فائدہ حاصل ہے کہ ہم ناظرین سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں، اور ڈرامے کے بارے میں انکی رائے بھی جان لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں پراعتماد ہوں کہ مستقبل میں اس طرح کی مزید تھیٹر کمپنیاں سامنے آئیں گی”۔
چینی حکومت کی جانب سے پینکھاو تھیٹر کو لوگوں کو اس فن کی جانب لانے پر فنڈز بھی دیئے جارہے ہیں، وانگ ییان اپنے خواب کی تعبیر پر خوش ہیں۔
وانگ ییان”بیس ڈراموں اور چھ فیسٹیولز میں شرکت کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ آخر ہمارا تھیٹر مستحکم ہوگیا ہے، ہم اب آگے بڑھ رہے ہیں”۔