ASEAN: “Diversity means there is no one answer” – آسیان میڈیا

جنوب مشرقی ایشیاءمیں صحافیوں کو وہاں کی طرح طرح ثقافت کے باعث رپورٹس کی تیاری میں کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، آئندہ برس کے شروع میں آسیان تنظیم کے دس رکن ممالک ایک برادری کی شکل اختیار کرلیں گے، آسیان ممالک کے صحافیوں کے اس حوالے سے خیالات بتارہے ہیں کمیونٹی افیئرز ڈویلیپمنٹ آف دا آسیان سیکریٹریٹ کے ڈائریکٹرڈینی لی، انکا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں

ڈینی لی”جب نجی میڈیا کسی حکومت پر تنقید کرتا ہے، یعنی دس میں سے ایک ملک میں تو اس کی ساکھ کیا ہوتی ہے؟ انہیں کیا معلومات حاصل ہوتی ہے؟ اور یہ کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ صاف ظاہر ہے سننے والے اس بات کا فیصلہ کریں گے، اگر سامعین کو علم ہوا کہ آپ کی تنقید فرضی یا جعلی ہے، تو وہ پھر آپ کو دوبارہ نہیں سنیں گے، یا وہ آپ کی ویب سائٹ پر جانا چھوڑ دیں گے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مارکیٹ کو قوانین کے دائرے میں لانا چاہئے، یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ لوگ بہت تند و تیزقسم کے بیانات سے لطف حاصل کرتے ہیں، مگر اچھی بات یہ ہے کہ ہم ہر بات کو نظرانداز نہیں کرتے، درحقیقت انتہاپسند سوچ رکھنے والے اقلیت میں ہے، اکثریت ان افراد کی ہے جو اس بات کو تسلیم کرتی ہے ہم دیگر ممالک سے مختلف ہیں، یا ان کی سوچ ہوتی ہے کہ ہمارا ملک مسائل کو دیگر ممالک سے مختلف انداز میں حل کرتا ہے، کئی بار آپ کسی اور ملک، کسی غیرملکی شخص کو زیادہ بہتر نہیں جانتے “۔

سوال”مگر آپ دیگر ممالک کی خبروں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، لسانی اور ثقافتی خبروں میں 2015ءکے بعد مزید تقسیم پیدا ہوگی یا آسیان میں نیوز روم کی تعداد بڑھے گی؟

ڈینی لی”اگر آپ موجودہ دور کا جائزہ لیں تو انٹرنیٹ اور ہمارے نوجوان نمایاں نطر آئیں گے، ہمارے نوجوان زیادہ منفرد اور مختلف معلومات چاہتے ہیں، ٹیکنالوجی جیسے انٹرنیت کے ذریعے مختلف آوازیں سامنے آرہی ہیں، کیا یہ رجحان کم ہوگا یا بڑھے گا؟ یہ بڑھے گا، مختلف آوازیں بڑھے گی، رنگا رنگ ثقافت کا مطلب ہی یہ ہے کہ کسی سوال کا ایک جواب نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کے کئی جواب ہوں گے، مختلف معاملات پر لوگوں کی آراءایک دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے یا وہ اسے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں، یہ چیز بحث کا موضوع بنتی ہے اور ان پر طرح طرح کی آراءسامنے آتی ہے، 2015ءکے بعد مجھے یقین ہے کہ آسیان میڈیا کے کام میں زیادہ تیزی آئے گی”۔

سوال”کیا میڈیا آسیان کی نئی شناخت بناسکے گا؟ اور یہ کیسے ہوگا؟

ڈینی لی”آسیان ہماری شناخت اور مختلف ثقافتوں کی عکاسی کرتا ہے، تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ ہم آپ واحد نہیں، خطے میں امن و استحکام ہو تو تنہا شناخت کو تسلیم کیا جاسکتا ہے، ہمیں ہر حکومت کا احترام کرنا چاہئے، اس چیز کو وسیع نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے، ہر ایک کے خیالات مختلف ہوسکتے ہیں، یہی آسیان ممالک کی خاصیت ہے، اور یہ رجحان برقرار رہے گا”۔

سوال”آپ کے خیال میں موجودہ عہد اور مستقبل میں سنگل برادری کے قیام کے بعد رپورٹنگ میں کیا بنیادی مسئلہ سامنے آئے گا؟

ڈینی لی”مختلف معاشرتی سوچ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ کسی بات پر کچھ لوگ متفق ہوں گے کچھ اس کے خلاف ہوں گے، تو گیم کا حصہ ہے یہ، یہاں کسی بات کا ایک جواب نہیں ہوسکتا کیونکہ ہر ایک اس جواب سے خوش نہیں ہوگا، آپ کو متعدد اور مختلف جوابات دینے ہوں گے تاکہ ہر ایک اسے پسند کرسکے”۔

سوال”اب صحافتی آزادی کی بات ہوجائے، ہر ملک میں پریس کا زیادہ آزادی حاصل نہیں، مثال کے طور پر انڈونیشیاءمیں کچھ جگہوں پر رپورٹرز کیلئے کام کرنا آسان نہیں، اسی طرح برما اور فلپائن کا معاملہ ہے، آپ کے خیال اس طرح کے مسائل پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے؟

ڈینی لی”اگر ہم صحافتی آزادی کی بات کریں گے، تو میں کہنا چاہوں گا کہ اس آزادی کا تعلق ہر ملک کی سوچ پر ہوتا ہے، ہر ملک میں پریس کی ترقی کا اپنا پیمانہ ہے، ہر ملک فیصلہ کرتا ہے کہ پریس کو کس حد تک آزادی دی جانی چاہئے، یا میڈیا کو کس حد تک سرگرم رکھنا چاہئے، یہ وہ معاملہ ہے جس پر آسیان خود کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی، ہر رکن ریاست کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ہر ملک میں کچھ حصوں میں حالات ہوسکتا ہے کہ زیادہ بہتر نہ ہو مگر میرے خیال میں مجموعی صورتحال اتنی بری بھی نہیں”۔

سوال”تو آپ کے خیال میں حکومتوں کی سوچ میں لچک پائی جاتی ہے؟

ڈینی لی”جی ہاں میرے خیال میں سرگرمیاں بڑھ رہی ہے، تاہم ہر جگہ ایک ہی جیسی سوچ نہیں پائی جاتی اور نہ ایسا ہوسکتا ہے۔ ہر ایک کا نظریہ ایک نہیں ہوسکتا ہے جیسا میں نے کہا کہ ترقی ہورہی ہے مگر وہ یکساں نہیں، بلکہ اس میں ثقافتی تضاد پایا جاتا ہے، اس سے مسائل تو پیدا ہوتے ہیں مگر مواقع بھی سامنے آتے ہیں۔ آپ کو مسائل کیساتھ ساتھ مواقعوں سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے، اسی سے توازن پیدا ہوگا”۔