Life among the logs – لکڑیوں کیساتھ زندگی

برما میں رواں برس اپریل سے لکڑی کی برآمد پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد شروع ہوجائے گا، جس سے اس صنعت سے وابستہ افراد کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ

تھاکیتا کی بندرگاہ میں روزانہ ہر عمر کے افراد لکڑیوں کے ڈھیر اٹھائے انہیں کاٹ کر فروخت کیلئے دکانوں میں جاکر بیچتے ہیں،ایک چائلڈ ورکر کے مطابق لکڑیوں کے ایک بیگ سے چالیس سینٹس کی آمدنی ہوجاتی ہے۔

تھاکیتا”میں روزانہ کم از کم بیس بیگز فروخت کرلیتا ہوں، ایک بیگ کی قیمت دوسو ہے”۔

متعدد افراد نے غیرقانونی اڈے بنارکھے ہیں، جہاں پورے پورے خاندان دن رات کام کرکے لکڑیوں کو کاٹتے ہیں،تھین تھین ایک مقامی رہائشی ہیں، انکا کہنا ہے کہ وہ دن بھر اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کیلئے کام کرتی ہیں، اور ایک اچھے دن میں وہ دس ڈالرز تک کمالیتی ہیں، مگر روزانہ اتنی رقم نہیں ملتی۔

تھین تھین “اگر میں کام نہ کروں تو ہمیں کھانے کو کچھ نہ ملے اور ہم پر قرض کا بوجھ بڑھ جائے گا، میرا شوہر کوئی کام نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ اپنے تین بچوں کیلئے مجھے کام کرنا پڑتا ہے”۔

انتظامیہ نے اس غیرقانونی کام کی جانب آنکھیں بند کررکھی ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ غریب ہیں، مگر یہاں فکرمندی کے متعدد اسباب موجود ہیں، کیونکہ جتنے لوگ روزگار کیلئے اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس سے علاقہ پرہجوم ہوگیا ہے،تھین تھین کی والدہ ڈاتن ای لکڑی کے ٹکڑے اٹھانے کا کام کررہی ہیں، تاکہ دیگر افراد انہیں چوری نہ کرسکیں۔

ڈاتن”میں بانس کے ایک چھوٹے ٹکڑے کے ذریعے لکڑیاں جمع کررہی ہوں، میں نے لوہا اس بانس سے باندھ کر اسے نیزے کی شکل دیدی ہے، ہمارا روزگار کا ذریعہ یہی ہے تاہم ہماری آمدنی بہت زیادہ نہیں”۔

یہ کام کافی خطرناک ہے اور متعدد افراد لکڑی کے ٹکڑے اڑ کر لگے سے زخمی ہوچکے ہیں، تاہم ان لوگوں کو خطرات کی زیادہ پروا نہیں، نامی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ لکڑی کا ایک بیگ ایک دن کے کھانے کیلئے کافی ثابت ہوتا ہے۔

ڈامیا “میری دادی روزانہ کام نہیں کرسکتیں، ہفتے کے روز بچوں کو جانا ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود ایک اضافی دن کام کرکے ہم گھریلو اخراجات کا خرچہ پورا کرلیتے ہیں”۔

رواں سال اپریل میں ایک نیا قانون نافذ ہورہا ہے، جس کے تحت خام لکڑی کی برآمد پر پابندی عائد ہوجائے گی، جس کے بعد لکڑیوں سے بھرے ٹرک ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔ ڈاتن کا کہنا ہے کہ چند ماہ سے ٹرکوں کی تعداد میں تبدریج کمی آئی ہے۔

ڈاتن ای”جب کوئی لکڑی نہیں ہوگی اور تو میں دھلائی کا کام کروں گی، اگر میں لکڑی نہیں ڈھونڈ سکوں گی تو میں کپڑے دھو کراپنے اخراجات پورے کروں گی”۔