ہر سال فروری میں بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے گاﺅں مالاج پور میں ایک انوکھے بھوت میلے کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ بھارت کا تاریخی میلہ ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
امرداس اپنی بیوی کی بہن دھرم پتی بائی کو مالاج پور گھوسٹ فیئرمیں لیکر جارہے ہیں، یہ ایک تاریخی میلہ ہے، جہاں جھاڑ پھونک کرنے والے لوگوں کو مبینہ بری روحوں سے نجات دلاتے ہیں، امرداس کو یقین ہے کہ ایک بھوت ان کی سالی کو کنٹرول کررہا ہے، اور وہ اکثر عجیب و غریب زبان میں چیخنے لگتی ہے۔
امرداس”میری سالی پر بھوت نے قبضہ کرلیا ہے، ہم یہاں مندر میں حاضری کیساتھ ساتھ اس کے علاج کیلئے بھی آئے ہیں، مجھے توقع ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائے گی”۔
مندر کے منتظم لعل جی یادو ایک جھاڑو اٹھا کردھراماتی کو مارنے لگے، کچھ وقت کے بعد انھوں نے اس خاتون کو پانی دیا اور اعلان کیا کہ وہ اب بھوت کے قبضے سے آزاد ہے۔
لعل جی یادو”ہم یہاں بھوت پکڑتے ہیں اور وہ پھر کبھی مریضوں کے جسموں میں واپس نہیں جاتے۔ ہم متاثرہ افراد کو مندر لاکر علاج کرتے ہیں، ہم بھوتوں کیلئے جھاڑو کا استعما کرتے ہیں، اس مندر میں ہم سینکڑوں برسوں سے یہ کام کررہے ہیں، ہر سال مختلف علاقوں سے لوگ یہاں خود کو بری روحوں کے پنجے سے نکالنے کیلئے آتے ہیں”۔
یہ مندر اٹھارویں صدی میں ایک سادھودیوجی نے تعمیر کیا تھا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بری روحوں کو پکڑنے کی طاقت رکھتے تھے، اور انکے عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ یہ طاقت مندر کے پنڈتوں میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ہر سال پانچ لاکھ کے لگ بھگ افراد یہاں آتے ہیں، میکم سنگھ راجپوت ایک مقامی رہائشی ہیں۔
میکم سنگھ”جو بھی یہاں آتا ہے اس کی خواہشات پوری ہوجاتی ہیں، لوگ یہاں اپنے خواہشات پوری کرنے کی دعا کرنے آتے ہیں، خصوصاً وہ افراد جو بری روحوں اور بھوتوں کے شکنجے میں پھنسے ہوتے ہیں، انکا مندر میں علاج بھی ہوتا ہے، ملک بھر سے لوگ اس میلے میں شریک ہوتے ہیں اور مندر میں علاج کراتے ہیں، اگر آپ کرشمہ دیکھنا چاہتے ہیں تو مندر ضرور جائیں”۔
بھارت کے دیہی علاقوں میں بھوتوں کو ماننے والے بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں، خواتین اس طرح کے بھوت میلوں میں شریک ہوتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہاں کی ان کی خواہشات پوری ہوسکیں گی۔اندرا واتی کھیرے وال ایک قریبی گاﺅں سے اس میلے میں شریک ہونے کیلئے آتئی ہیں، وہ یہاں اپنی بیٹی کے ہاں بچے کی پیدائش کی خواہش لیکر آئی ہیں۔
اندراواتی”میں یہاں گزشتہ پچیس سال سے آرہی ہوں، میرا ماننا ہے کہ یہاں کے مندر کے پنڈت ہماری خواہشات پوری کردیتے ہیں، میں نے جو بھی یہاں مانگا وہ مجھے ملا، اور جو لوگ بھی اس میلے میں آئے ہیں وہ یہاں کے کرشموں کے بارے میں جانتے ہیں”۔
بھارت میں جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود اب بھی متعدد افراد روایتی جھاڑ پھونک سے بھوتوں کے علاج پر یقین رکھتے ہیں، اور وہ مرگی اور دماغی امراض کو بھی بھوتوں کی کارروائیاں قرار دیدیتے ہیں،سرما نواری ہنس اپنے بھائی کے علاج کیلئے پرامید ہیں۔
سرما”وہ ہر ایک کو مارنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس نے گھر پر اپنے کپڑے بھی جلا دیئے ہیں، ہمین یقین ہے کہ اس پر بھوتوں نے قبضہ کرلیا ہے، ہم اسے علاج کیلئے یہاں لائے تھے اور اب اس کی حالت میں بہتری آرہی ہے”۔
تاہم رواں برس ضلعی انتظامیہ نے روایتی جھاڑ پھونک کی بجائے جدید طبی امداد یہاں متعارف کرائی ہے، راہول شرما ایک حکومتی میڈیکل کالج کے کلینکل سائکالوجسٹ ہیں۔
راہول”یہاں آنے والے افراد ان پڑھ ہوتے ہیں اور انہیں ان امراض کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتی جن کے شکار ان کے رشتے دار ہوتے ہیں، وہ یہاں معلومات کی کمی اور غیر مرئی قوتوں پر یقین کی وجہ سے آتے ہیں، ہم انہیں بس یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہاں مریضوں کیلئے طبی امداد بھی دستیاب ہے، اور انہیں مندر جاکر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے”۔