گزشتہ دنوں دنیا بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام کا عالمی دن منایا گیا، اس موقع پر اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلق ادارے نے نئی مہم کا آغاز کیا، جس کے سلسلے میں تھائی دارالحکومت بینکاک میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی منعقد ہوئی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
تھائی تارکین وطن کاایک تھیٹر گروپ ماہی گیری سے تعلق رکھنے والے ورکرز میں ایک ڈرامے کے ذریعے ایڈز سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایک این جی اوریکس تھائی فاﺅنڈیشن سے تعلق رکھنے والے پاک پوم سوانگ خوم کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے لیے ایڈز سے متعلق اطلاعات اور علاج وغیرہ دستیاب ہے۔
پاک پوم سوانگ خوم”گزشتہ دہائی میں ہمیں کارخانوں تک رسائی حاصل نہیں تھی کیونکہ مالکان ہمیں مزدوروں تک پہنچنے سے روک دیتے تھے، مگر اب ہمارے لئے کارخانوں میں جانا آسان ہوگیا ہے، اب حکومت بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ تعاون کررہی ہے”۔
مگر اس خطے میں مریضوں تک ادویات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کی شرح کافی کم ہے، جبکہ 2008ءکے بعد سے اس مرض میں مبتلا ہونے کی شرح میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔انڈونیشیاءمیں اس عرصے کے دوران اس کی شرح میں تین جبکہ پاکستان میں آٹھ گنا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے ایڈز کے ایشیا پیسیفک کے ڈائریکٹراسٹیو کراس کا کہنا ہے، کہ اس مہلک مرض کے خلاف جدوجہد اب اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
اسٹیو کراس”ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم خطے میں اس وقت ہونے والی کوششوں کو جاری رکھیں تو زیرو شرح یعنی نئے مریضوں کی روک تھام کا ہدف پاناممکن نہیں، ہمیں نیا راستہ ڈھونڈنا ہوگا، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس خطے میں ایڈز کی شرح میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی”۔
اسٹیو کراس کا کہنا ہے کہ نئے خیالات کی اشد ضرورت ہے۔
اسٹیو کراس”خطے میں ہم جنس پرستی کے حوالے سے کافی قوانین موجود ہیں، بیشتر ممالک میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی نقل و حرکت کے حوالے سے کافی پابندیاں موجود ہیں، ہمیں اس اسٹیٹس کو کو چیلنج کرنا ہوگا، کیونکہ ان قوانین، پالیسیوں اور معاشرتی سوچ کی وجہ سے مریض اکثر علاج سے محروم رہ جاتے ہیں، جبکہ روک تھام کے پروگرام بھی زیادہ موثر نہیں رہتے”۔
اقوام متحدہ کو نوجوانوں میں اس مرض کی شرح میں اضافہ پر شدید فکر لاحق ہے ، اسٹیفن برال امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے وبائی امراض کے ماہر ہیں۔
اسٹیفن” میرے خیال میں موجودہ حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وباءجلد ختم ہونے والی نہیں، خصوصاً اس وقت جب ہم نوجوانوں میں اس کی شرح میں خطرناک اضافہ دیکھتے ہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر میں جب اس کے پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے اس پر قابوپانے کا ہدف حاصل کر نے میں ہم ناکام ہوچکے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ مزید کام کیا جائے”۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سالانہ دس سے انیس سال کی عمر کے بیس لاکھ سے زائد نوجوان ایچ آئی وی کا شکار ہورہے ہیں، 2001ءکے بعد سے اس شرح میں تینتیس فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔لیکسما نرائن ٹریپاٹھی،ایشیا پسیفک نیٹ ورک کی بانی ہیں۔
لیکسما”اس خطے میں بیشتر خواجہ سرا برادری کی شکل میں رہتے ہیں، ان میں اس مرض کو پھیلنے سے روکنے کیلئے سیاسی اور معاشرتی عزم
ضروری ہے، اقوام متحدہ کے اداروں کا عزم بھی ضروری ہے، تاکہ خواجہ سراﺅں کو درپیش مسائل کو سامنے لایا جاسکے، جو کہ ویسے تو سامنے ہیں مگر ان کے حل کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جاتا”۔
ایڈز کے مریضوں کے اس خطے میں تعصبانہ روئیے اور قانونی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مولو مارین ایک این جیاو سیون سسٹر کی کوآرڈنیٹر ہیں، انکا کہنا ہے کہ پالیسی کی کمی کے باعث ایڈز سے ہونیوالی اموات کی روک تھام کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔
مالو مارین”یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہوسکا، خصوصاً اس وقت جب ایڈز سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اندر تعصب، مرض کے پھیلاﺅ اور اموات کی شرح صفر فیصد تک لانے کا عزم نہیں، ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہٰں آئی، کوئی فنڈز نہیں ملے، قانونی اصلاحات اور سیاسی عزم بھی نہ ہونے کے برابر ہے”۔
تھائی لینڈ کو بیشتر ایشیائی ممالک ایڈز کی روک تھام کے سلسلے میں ایک رہنماءملک کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، مگر تھائی لینڈ میں بھی ساڑھے چار لاکھ افراد اس وائرس کا شکار ہیں، اور ان میں سے صرف دو لاکھ کو ہی ادویات تک رسائی حاصل ہے۔معروف تھائی سماجی کارکن میخائی ویراویداکا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ وائرس کا پھیلاﺅ ہے۔
میخائی ویراویدا”ہماری حکومت اس وقت سوئی ہوئی ہے، اس نے گاڑی کا اسٹیرنگ تو پکڑا ہوا ہے، مگر پھر بھی سو رہی ہے، کافی عرصہ پہلے بینکاک اور تھائی لینڈ کی بڑی شاہراﺅں پر ایڈز کے بچاﺅ سے متعلق ہدایات موجود تھیں، یہ مہم اب ختم ہوچکی ہے، مگر اب وقت ہے کہ اسے دوبارہ شروع کیا جائے”۔
انکا کہنا ہے کہ ایڈز کیخلاف جنگ کی قیادت نوجوانوں کو کرنا ہوگی۔
میخائی ویراویدا”بدقسمتی سے ہم نے اس جنگ کی ذمہ داری ان افراد کے ہاتھوں میں دیدی ہے جو ماضی کا حصہ ہیں، جبکہ یہ قیادت ان لوگوں کے پاس ہونی چاہئے جو ہمارا مستقبل بنیں گے۔ تو میری تجویز ہے کہ نوجوانوں پر زیادہ اعتماد کرکے ان پر توجہ دی جائے”۔