تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کا نیٹو سپلائی دھرنے کو ختم کرنے پر اتفاق کرلیا۔
تحریک انصاف ملک میں انتشار پیدا کررہی ہے، رانا ثناءاللہ۔
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں مکمل۔
بلدیاتی انتخابات کا انعقاد، سندھ کابینہ کا اجلاس بلانتیجہ ختم۔
اور
نیلسن منڈیلا کے انتقال پر ان کے زندگی کا احوال جانتے ہیں بلیٹن میں شامل اس رپورٹ میں۔
خبروں کی تفصیل:۔
تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں نے نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنے کو ختم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے تاہم دھرنے خاتمے کا اعلان عمران خان کی ملک واپسی پر کیا جائے گا۔پشاور کے سول آفیسرز میس میں ہونے والے اجلاس میں حکومتی اتحاد میں شامل تینوں جماعتوں نے نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنے کو ختم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ اجلاس میں تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی کے صوبائی صدر اعظم سواتی، جنرل سیکرٹری خالد مسعود، جماعت اسلامی کی جانب سے اسرار اللہ، کاشف اعظم اور حمد اللہ اور عوامی جمہوری اتحاد کی جانب سے اراکین اسمبلی بابر سلیم اور عبدالمنعم نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں نیٹو سپلائی کے خلاف کئے جانے والے دھرنے کو ختم کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے لیکن فیصلہ پر عمل درامد کو عمران خان کی وطن واپسی تک موخر کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے طورخم کے راستے نیٹو سپلائی کی بندش کا اعتراف کرکے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے اس لئے بدلتے حالات کے تناظر میں سفارشات مرتب کی ہیں جو منظوری کے لئے پارٹی قیادت کو بھجوائی جائینگیں۔
وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ملک میں انتشار جبکہ وزیراعظم میاں نواز شریف قومی اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ملک میں انتثار پید ا کر رہی ہے۔کبھی ڈرون ڈرامہ اور کبھی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا۔ اس سے عوام کی کوئی بھلائی نہیں ہو رہی۔ چاہیئے تو یہ کہ تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتیں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ ملیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت تحریک انصاف کی کرپشن، بری گورننس اور انتظامی ناکامیوں کی وجہ سے ختم ہو گی کیونکہ ڈرون حملوں پر دھرنا ناکام ہو چکا ہے۔
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کل ہورہے ہیں جس کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ پچاس ہزارسیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں سات ہزارایک سونوے نشستوں پرانتخابات ہوں گے، پولنگ اسٹیشن کی کل تعداد پانچ ہزارسات سو اٹھارہ ہے۔ پولنگ بوتھ گیارہ ہزارآٹھ سو سینتالیس بنائے گئے ہیں ،،چار ہزارایک سو ارسٹھ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، دو ہزار پانچ سو نو امیدواربلا مقابلہ کامیاب ہوگئے ہیں، جبکہ سات دسمبرکو پولنگ صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی اس دوران چونتیس لاکھ ووٹرزاپنا رائے حق دہی استعمال کریں گے،،جبکہ سیکورٹی کے معاملات سنبھالنے کیلئے پچاس ہزاراہلکار تعینات ہوں گے، پاک فوج کے دستے کوئیک رسپانس کے طورپرموجود رہیں گے۔
بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا، پیر کو دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکا، تاہم اجلاس کے شرکا کا کہنا تھا کہ بلدیاتی الیکشن کرانے کیلئے تیار ہیں۔اجلاس میں تجویز دی گئی کہ خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی کیلئے نظام میں ترمیم کی جائے، الیکشن کمیشن نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے ان قانونی رکاوٹوں کو بھی ختم کیا جائے۔بلدیاتی انتخابات سے متعلق فیصلے کیلئے صوبائی کابینہ کا اجلاس پیر کو دوبارہ ہوگا۔