افغانستان سے طالبان کا اقتدار ختم ہوئے ایک دہائی سے زائدعرصہ گزر گیا ہے، تاہم اب بھی خواتین کے حقوق کے حوالے سے متعدد چیلنجز پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔افغان صوبے ننگرہار میں مرد اپنی بیویوں کو اجناس کی طرح فروخت کرتے ہیں۔
صوبہ ننگرہار کے ضلع Shinwar میں بیویوں کی فروخت معمول کا حصہ بن چکی ہے، بانجھ پن، ازدواجی مسائل یا نئی بیوی کی خواہش وہ بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث مرد اپنی بیویوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس خرید و فروخت کو انتہائی رازداری سے رکھا جاتا ہے، جبکہ بیویوں کو اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا جاتا اور ان سے بچے بھی چھین لئے جاتے ہیں۔
35 سالہ Hasibo Be Be ضلع Shinwar کے ایک گاﺅں Dragray کی رہائشی ہیں۔ ان کے شوہر نے انہیں فروخت کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ دوسری شادی کرسکے۔
(female) Hasibo“میں نے اپنے شوہر کے ساتھ چھ سال گزارے، چونکہ میں بانجھ تھی اس لئے میرے شوہر نے دوسری شادی کرلی اور پھر مجھے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم جب مجھے اس فیصلے کے بارے میں معلوم ہوا، تو میں رات کے وقت گھر سے فرار ہوگئی۔ اس وقت سے میں تنہا اس کرائے کے گھر میں زندگی گزار رہی ہوں”۔
Hasibo Be Be اپنے گاﺅں سے بھاگنے کے بعد رشتے داروں کے پاس پہنچی اور یوں انکا شوہر انہیں روکنے میں ناکام ہوگیا، اب وہ پچاس کلومیٹر دور واقع گاﺅں میں انڈے بیچ کر گزار ہ کر رہی ہیں۔تاہم Hasibo Be Be کا کہنا ہے کہ ہر عورت اتنی خوش قسمت ثابت نہیں ہوتی۔
(female) Hasibo Be Be “میری پڑوس میں ایک شخص نے شادی کی، پھر کچھ عرصے بعد اس نے دوسری شادی کی اور پہلی بیوی کو بیچ دیا، اور پھر اس نے تیسری بار شادی کی تو اپنی دوسری بیوی کو بھی ڈیڑھ ہزار روپے میں فروخت کردیا۔ بیشتر شوہر اپنی بیویوں کو دھوکہ دے کر فروخت کرتے ہیں، وہ انہیں کسی مزار کی زیارت کرانے کا کہتے ہیں اور اس طرح وہ خاتون بک جاتی ہے۔ ایسا ہی میری پڑوسن کے ساتھ بھی ہوا، جس کے شوہر نے اسے مزار لے کر جانے کا جھانسہ دیا، مگر اسے ایک شخص کے حوالے کردیا”۔
یہی وجہ ہے کہ اس ضلع میں کئی بار خواتین اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہیں، Sabreena Hameedi صوبہ ننگرہار میں افغان ہیومین رائٹس کمیشن کے امور خواتین کے شعبے کی سربراہ ہیں۔انکا کہنا ہے کہ اس علاقے میں خواتین کو مردوں کی جائیداد سمجھا جاتا ہے۔
(female) Sabreena Hameedi “خواتین کو اجناس کی طرح استعمال کیا جاتا ہے، ہمیں دیہاتی خواتین کی فروخت کے متعدد واقعات کے بارے میں معلوم ہے، مثال کے طور پر ایک خاتون کا شوہر ناقابل علاج مرض میں مبتلا تھا، جس پر خاتون کے سسرالی رشتے داروں نے اسے فروخت کرنا کا فیصلہ کیا، تاہم اس واقعے میں ملزم کو حراست میں لیا گیا، اور یہ مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔ یہاں اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں”۔
خواتین کی فروخت کے حوالے سے کوئی سرکاری اعدادوشمار تو دستیاب نہیں، تاہم Shinwarکے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اوسطاً روزانہ دو بیویاں فروخت ہوتی ہیں۔ 28 سالہ Angiza Shinwaree صوبائی اسمبلی کی رکن ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ اس ظالمانہ رواج کو روکنے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں۔
(female) Angiza Shinwaree“یہاں بہت سی مضحکہ خیز روایات رائج ہیں، مگر بیویوں کی فروخت سب سے بدترین ہے۔جب میں نے صوبائی اسمبلی کی رکنیت سنبھالی تو میں نے خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا، اور اب جب بھی مجھے کسی خاتون کی فروخت یا کسی اور مسئلے کی خبر ملتی ہے تو میں فوری طور پر صوبائی اسمبلی میں اس بات کو اٹھاتی ہو، اس کے بعد گورنر اور پولیس سے بھی رجوع کرتی ہوں”۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ صوبائی انتظامیہ انتہائی کرپٹ ہے اور اکثر وہ ملزمان کو پکڑنے کی بجائے انہیں رشوت لے کر چھوڑ دیتی ہے۔
(female) Angiza Shinwaree “بدقسمتی سے کرپٹ سرکاری افسران کے باعث اکثر ملزمان کو سزا نہیں مل پاتی۔ یہ عہدیدار رشوت لے کر ملزمان کو چھوڑ دیتے ہیں۔ کئی بار اپنی بیویوں کو فروخت کرنے والے یا خواتین کے حقوق غضب کرنے والے اپنا معاملہ چھپانے کے لئے مجھے دھمکیاں دیتے ہیں مگر میںبلا خوف و خطر اس بے ہودہ رسومات کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہوں”۔
70 سالہ Montazim ایک گاﺅں کے بزرگ رہنماءہیں، انکا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران بیویوں کی خریدوفروخت کی شرح میں کمی آئی ہے۔
(male) Montazim“ماضی میںتعلیم عام نہ ہونے کی وجہ سے یہ برائی عام تھی، مگر اب اس کی شرح میں کمی آئی ہے کیونکہ تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بڑھی ہے، وہ خواتین کے حقوق سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اب جو افراد اپنی بیویوں کو فروخت کرتے ہیں انہیں اکثر دیہات میں سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے”۔
2011ءمیں ہونے والے ایک سروے کے مطابق دوتہائی افغان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ طالبان عہد حکومت کے مقابلے میں اب خود کو زیادہ محفوظ تصور کرتی ہیں۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کو اب تعلیم اور طبی سہولیات تک زیادہ بہتر رسائی حاصل ہے، مگردیہات میں صورتحال کچھ زیادہ اچھی نہیں۔ Angiza کا کہنا ہے کہ دیہی سطح پر سہولیات کی فراہمی ہی خواتین کی خریدوفروخت روکنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(female) Angiza “جو خواتین دیہات میں رہائش پذیر ہیں اور انہیں مسائل جیسے بیویوں کی فروخت وغیرہ سامنا ہے، ان کے پاس زیادہ آپشنز موجود نہیں۔ وہ پولیس یا این جی اوز کا رخ نہیں کرسکتیں۔ ہمیں چاہئے کہ پولیس، قبائلی بزرگوں اور عام عوام کے لئے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کرائیں، تاکہ انہیں تعلیم دے کر اس مسئلے پر قابو پایا جاسکے”۔