بالوں کے گرنے کے مسائل مرداور خواتین دونوں میں یکساںطور پر دکھائی دیتے ہیں لیکن خواتین کیونکہ بالوں کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتی ہیں لہذا بالوں کی حفاظت اِنھیں بڑھانے اور اِنکی چمک دمک بر قرار رکھنے کیلئے ہزار جتن کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ گرتے ہوئے بالوں کو لے کر تشویش میں مبتلا ہونے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔بیشتر خواتین میں50سے60سال کی عمر میں بالوں کے حوالے سے مسائل دیکھنے میں آتے ہیں لیکن آج کل کم عمر لڑکیاں بھی بالوں کے مسائل کا شکار ہیں۔
کراچی میںواقع ڈاکٹر سیما اسکن اینڈ لیزر کلینک کی اونر اور پراکٹر اینڈگیمبل ہیئر کیئر پروڈکٹس سے منسلک ڈاکٹر سیما ہرجی کہتی ہیں کہ بالوں کے گرنے کی سب سے عام وجہ فی زمانہ نت نئی پروڈکٹس خصوصاً ہیئر اسٹریکنگ اور کلرنگ کیلئے استعمال ہونے والے کیمیکلز ہیں:
اسکے علاوہ خواتین میں غذائی کمی بھی بالوں کے مسائل کی ایک اہم وجہ ہے، خواتین عموماً بالوں کی نگہداشت کیلئے ہزاروں ٹوٹکے آزماتی ہیں لیکن بالوں کی صحت کیلئے اپنی غذا پر توجہ نہیں دیتی ہیں جبکہ صحت بخش غذا بالوں اور جلد کی زندگی اور چمک دمک کیلئے بے حد ضروری ہے:
بالوں کے گرنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جس میں ماحولیاتی آلودگی،ذہنی دباﺅاور اسکے علاوہ اشتہاری مصنوعات کا استعمال بھی شامل ہے ۔شدید بیماری کی حالت میں، آئرن کی کمی کی صورت میں یا منشیات کے استعمال کے باعث بھی بالوں کے گرنے یا بال پتلے ہونے جیسی شکایات دیکھنے میں آسکتی ہیں۔
صحت مندپروٹین سے بھر پور غذا کا استعمال بالوں میں ایک نئی جان لے آتا ہے جو کسی بھی اشتہاری پروڈکٹ سے کسی صورت بھی ممکن نہیں اسکے علاوہ معیاری تیل سے بالوں میں مساج کے بھی مثبت نتائج سامنے آتے ہیں:
آج کل خواتین میں بالوں کو آئرن کرنے کیلئے ہیر اسٹریٹنر کا استعمال فروغ پارہا ہے،جبکہ کئی خواتین اسٹریٹنر کا استعمال روزانہ بھی کرتی ہیں، اس بارے میںڈاکٹر سیما کا کہنا ہے کہ اسٹریٹنر کا استعمال ہفتے میں ایک دفعہ مناسب ہے اسکے علاوہ اسٹریٹنر کے انتخاب میں بھی محتاط رہنا چاہئیے:
دیکھا گیا ہے کہ ٹی وی پر چلنے والے پر کشش اشتہارات سے متاثر ہوکر خواتین ہیر ڈائز، ہئیر اسٹائل لوشنز ، شیمپوز اور کنڈیشنرز استعمال کرتی ہیں جو بعدا ازاں اُنکے بالوں کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔اسکے علاوہ مارکیٹ میں ایسی پروڈکٹس کی بہتات ہے جن کا دعویٰ ہے کہ بالوں دنو ں میں لمبے ہو جائیں گے بالوں میں زبر دست چمک آجائے گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی پروڈکٹس بالوں کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں،ڈاکٹر سیما ہر جی کا کہنا ہے کہ بالوں اور جلد کیلئے کچھ بھی استعمال کرنے سے قبل ماہر اسکن اسپیشلسٹ سے مشورہ ضرور لینا چاہئیے تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہ سکیں:
صحت بخش ماحول، متوازن غذا اورپرسکون ذہنی کیفیت آپکے بالوں کو زندگی اور چمک دمک بخشتی ہے جو کسی بھی مہنگے ترین ہیر کیئر پروڈکٹ سے ممکن نہیںاسکے علاوہ صدیوں پرانانسخہ یعنی با لوں میں خالص تیل کا مساج آج بھی آزمودہ ہے، دوسری جانب بالوں کو نئی لُک دینے کیلئے کیمکلز اور جدید ٹریٹمنٹ کا استعمال متواتر کیا جائے تو بالوں کی اصل رنگت اور چمک ماند پڑسکتی ہے جسکے دیر پا نقصانات بھی سامنے آسکتے ہیں۔