Psychological Problem in Aged Women بڑھتی عمر کی خواتین میں نفسیاتی مسائل

خواتین میں ڈپریشن اور ذہنی تناﺅ کی شرح مردوں کی نسبت کئی گنا زیا دہ ہے، معاشرتی ناہمواریاں ،عدم مساوات پر مبنی رویے اور خواتین کا استحصال نفسیاتی بیماریوں کی اہم وجہ سمجھی جا سکتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خواتین پر سماجی اور خاندانی دباﺅ میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے جس سے ذہنی دباﺅ ڈپریشن اور چڑ چڑا پن جیسی علامات دیکھنے میں آتی ہیں، اس بارے میں ماہر نفسیات ڈاکٹر اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ نفسیاتی امراض سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں لیکن ہارمونزسے جڑی پیچیدگیوں کے باعث خواتین میں نفسیاتی امراض کی شرح نسبتاً زیادہ ہے:
معاشرے میں بڑھتا تشدد کا رجحان ، امن و امان کی بدترین صورتحال اور اس سب کے نتیجے میںخوف و ہراس اور خاندانی نظام میں آنے والی دراڑوں کے باعث خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں خصوصاً بڑھتی عمر کے ساتھ جہاں ذمے داریوں میں اضافہ ہوتا ہے وہیں نئے رشتے ہماری زندگیوں میں اہمیت اختیار کرجاتے ہیں ایسے میں رشتوں سے جڑی فکر یںاورپریشانیاں خواتین کو اعصابی تناﺅ سے دوچار کرتی ہیں،اس سلسلے میںڈاکٹر اقبال آفریدی کا کہنا ہے:
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خواتین میں نیند اور بھوک میں کمی ، یادداشت کی کمزوری اور تھکاوٹ جیسے مسائل دیکھنے میں آتے ہیں، جبکہ ہمارے معاشرے میں تاحال اعصابی تناﺅ کی صورت میں مردوں کی نسبت خواتین میں الکوحل کا استعمال کم دیکھنے میں آتا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں مغربی طرز زندگی کے فروغ کے باوجود خواتین میں شراب نوشی کی شرح اب بھی نسبتاً کم ہے جبکہ دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں میں نفسیاتی اور جسمانی امراض کے باعث خواتین میں پان ، گٹکا،نسواراورچھالیاکا استعمال زیادہ ہے:
ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں مردوں کی نسبت خواتین کو اپنے جذبات کے اظہار کی آزادی دی جاتی ہے قریبی عزیز کی موت سے لے کر کسی واقعے پر خوف و ہراس محسوس کر نے تک خواتین جذبات کے اظہار میں آزاد ہوتی ہیں ، جبکہ مردوں پراس معاملے میں کافی سماجی دباﺅہوتا ہے ۔ہمارے ہاں ایک عام خیال نفسیاتی امراض کے حوالے سے یہی پایا جاتا ہے کہ نفسیاتی بیماری کا مطلب پاگل پن یا اس سے منسلک کوئی اور بیماری ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ نفسیاتی بیماریوں کو اہل خانہ ،دوستوں اور ماہر نفسیات سے ڈسکس کرتے ہوئے گھبراتے ہیں:
ہمارا لائف اسٹائل ہمیں کافی حد تک جسمانی اور نفسیاتی مسائل کی جانب لے جا رہا ہے ،محنت و مشقت سے عاری سہل پسند طرز زندگی نہ صرف فطرت سے دوری کا باعث ہے بلکہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کوبھی ورثے میں مشینی زندگی دے رہے ہیں ۔جسمانی امراض کے ساتھ ساتھ دماغی اور نفسیاتی عوارض بھی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں اس حوالے سے عمومی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *