ایک دس سالہ افغان لڑکی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پر صوبہ ہلمند میں ایک پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا گیا، اور آخری منٹ میں اس نے اپنی خودکش جیکٹ اتار کر پولیس سے مدد طلب کرلی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سپوز مائی نامی بچی چھ جنوری یعنی اس وقت سے اس سیف ہاﺅس میں موجود ہے،جب وہ ایک بم کیساتھ پکڑی گئی تھی۔
سپوز مائی “میرے بھائی ظاہر اور ایک اور شخص جسکا نام جبار تھا، نے میرے کپڑے اتار کر خودکش جیکٹ پہنائی اور پھر مجھے دوسرے کپڑے دیکر کہا کہ میں جاکر سیکیورٹی فورسز کے اسٹیشن پر خودکو دھماکے سے اڑا لوں”۔
سپوز مائی کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی جو کہ ایک طالبان کمانڈر ہے ،اسی نے اس کام کیلئے حوصلہ افزائی کی۔
سپوز مائی “جب میں نے خودکش جیکٹ پہن لی، تو میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ مجھے سردی لگ رہی ہے، اور میں ایسا کام نہیں کرنا چاہتی، مگر اس نے حملہ کرنے کیلئے میری حوصلہ افزائی کی، جب میں اپنے ہدف کے قریب پہنچی، تو مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا مگر اچانک میں اسٹیشن سے دور چلی گئی اور پولیس کی مدد مانگنے لگی”۔
ہلمند پولیس کے سربراہ حمید اللہ صدیقی کا کہنا ہے کہ انہیںسپوز مائی روتے ہوئے ملی۔
حمید”وہ مدد کیلئے چلا رہی تھی، پولیس نے اس جگہ کو گھیرے میں لے لیا تھا، سپوز مائی کا بھائی پہلے ہی بھاگ گیا تھا تاہم ہم نے اسکی مدد کی”۔
طالبان نے اس حملے کی کوشش میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، مگر اقوام متحدہ کی 2012ءکی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں عسکریت پسند گروپس نے ساٹھ سے زائد بچوں کو اپنی صفوں میں شامل کیا ہے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ ایک چھوٹی بچی کو خودکش حملہ کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ عبداللہ عابد افغان ہیومین رائٹس کمیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔
عبداللہ”ہم نے سنا تھا کہ طالبان خودکش حملوں اور بم لگانے کے واقعات کیلئے بچوں کو استعمال کررہے ہیں، مگر یہ پہلی بار ہے کہ ایک بچی کو خودکش حملہ کرنے کیلئے بھیجا گیا”۔
افغان پولیس اب اس بچی کے بھائی کو ڈھونڈ رہی ہے،سپوز مائی کے والد عبدالغفور آٹھ سال قبل بہتر زندگی کی تلاش میں صوبہ ہلمند منتقل ہوئے تھے، انکا کہان ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو طالبان سے تحفظ نہیں دے سکتے۔
عبدالغفور”ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں، میں خود کو تو بچاسکتا ہوں مگر اپنی بیٹی کا تحفظ نہیں کرسکتا”۔
اب حفاظتی حراست میں ہے، اور صدر حامد کرزئی نے پولیس کو اسے گھر واپس لانے کا حکم دیا ہے، مگر ہیومین رائٹس کمیشن اسے اچھا فیصلہ قرار نہیں دے پاتی۔
عبداللہ”وہ محفوظ نہیں، وہ خود بھی کہہ چکی ہے کہ وہ دوبارہ بھی نشانہ بن سکتی ہے”۔
سپوز مائی کے والد نے صدر کرزئی سے کسی اور صوبے میں زمین کا ٹکڑا دینے کی درخواست کی، تاہم سپوز مائی خود حکومتی تحویل میں مزید کچھ عرصہ رہنا چاہتی ہے۔
سپوز مائی “میں یہاں رہنا چاہتی ہوں اور واپس نہیں جانا چاہتی، اگر میں واپس گئی تو میرے پھر ویسا ہی ہوگا، مجھے خودکش حملے کیلئے مجبور کیا جائے گا، جیسا پہلے کیا گیا تھا”۔