Female Police Patrol in India Striking Fear into Young People بھارتی خواتین پولیس اسکواڈ

بھارتی شہر بھوپال میں حال ہی میں نربھایا پٹرولنگ موبائل سروس متعارف کرائی گئی، یہ خواتین سروس ہے، جو نئی دہلی میں دو ہزار بارہ میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کے نام پر شروع کی گئی ہے، اس کا مقصد خواتین کو ذہنی طور پر مضبوط بنانا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

یہ بھوپال میں حال ہی میں متعارف کرائی جانے والی نربھایا پٹرولنگ موبائل سروس کی وین کی آواز ہے، یہ وین شہر بھر میں صبح سے رات گئے تک گھومتی رہتی ہے، اس سروس میں چھ خواتین اہلکاروں پر مشتمل اسکواڈ کام کررہا ہے۔

بھارتی کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میںدو ہزار گیارہ کے دوران زیادتی کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا، آئی جی ایس کے جھاکا کہنا ہے کہ اس خواتین پٹرولنگ سروس کا مقصد اس تعداد میں کمی لانا ہے۔

ایس کے جھا”بھارت اپنی نصف آبادی کیلئے محفوظ ملک نہیں، دو ہزار بارہ کے اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد بھارتی شہریوں میں خواتین کیخلاف جرائم کے حوالے سے شعور بڑھا ہے، یہ ہماری طرف سے اس طالبہ کو خراج تحسین ہے، اس کا نعرہ ہی یہ ہے کہ وومن فار وومن اینڈ بائی وومن ہم خواتین اور لڑکیوں کو مدد فراہم کرنا چاہتے ہیں”۔

مگر متعدد افراد کا کہنا ہے کہ یہ پٹرولنگ اسکواڈ اپنی حد سے تجاوز کررہا ہے، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو پارکوں میں اکھٹے بیٹھنے پر بھی سزا دی جارہی ہے، لڑکوں کو موقع پر مختلف سزائیں دی جاتی ہیں، جبکہ لڑکیوں کے والدین کو بلایا جاتا ہے۔

انیس سالہ طالبعلم نرمل پاٹھک بھی ایک بار ایک لڑکی کیساتھ پارک میں پکڑا گیا تھا، جس کے بعد پہلے تو اسے مختلف ورزشیں کرائی گئیں اور پھر پولیس لے جایا گیا۔

نرمل”کیا آپ کے خیال میں کسی پارک میں ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھنا جرم ہے؟ میرا نہیں خیال کہ انھوں نے درست اقدام کیا، ہم ایک معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہمیں کسی کے ساتھ بیٹھنے اور چلنے پھرنے کی آزادی ہے، اسکواڈ کے اقدامات بالکل غلط ہیں”۔

اسکواڈ کی سربراہ نمیتا ساہو اپنے اقدامات کا دفاع کررہی ہیں۔

نمیتا ساہو”ہم پولیس کے اصولوں پر کام نہیں کررہے، ہمارا اسکواڈ خواتین کو تحفظ دینے کیلئے قائم کیا گیا ہے، ہم خواتین اور لڑکیوں کو کہتے ہیں کہ وہ الگ تھلگ مقامات پر نہ بیٹھیں، کیونکہ وہاں انہیں ہراساں کئے جانے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں”۔

ایک اور کالج کی طالبہ عاصمہ خان کا کہنا ہے کہ یہ اسکواڈ نوجوانوں میں صرف خوف و ہراس پیدا کررہا ہے۔

عاصمہ خان”ہم اس اسکواڈ سے خوفزدہ ہیں، انہیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ نوجوان جوڑوں کو سرزنش سے بھوپال جیسے شہر میں خواتین کیخلاف صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، اس کے برعکس وہ خوف کی فضاءپیدا کررہے ہیں”۔

اس اسکواڈ کو ہندو انتہا پسند گروپس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ایشو تو ش جےسوال ایک سخت گیر ہندو گروپ بجرنگ دل سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایشو تو ش جےسوال”میں ان کے اقدامات کی پرزور حمایت کرتا ہوں، وہ بھارتی ثقافت اور روایات کا تحفظ کررہے ہیں، لوگوں کو ایسی آزادی نہیں دی جاسکتی جیسے یہ جوڑے حرکات کررہے ہوتے ہیں، یہ پارکوں میں قابل اعتراض حرکات کرتے ہیں، ہم اس طرح کی چیزوں کی اجازت نہیں دے سکتے”۔

تاہم کچھ خواتین گروپس زیادہ خوش نہیں، وی جیا پاتھک ایک گروپ ماہیلا ویرودھ اتھپیدن مورچا سے تعلق رکھتی ہیں۔

وجے پاتھک”انہیں اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ کسی پارک میں یا کسی اور جگہ بیٹھنا مجرمانہ اقدام نہیں، اگر ایک لڑکا اور لڑکی اکھٹے بیٹھے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ارادے خراب ہیں، اس اسکواڈ کو اپنا دماغ بھی استعمال کرنا چاہئے”۔