جنوبی کوریا آنے والے شمالی کورین تارکین وطن کی تعداد میں کمی آرہی ہے، جس کی وجہ جنوبی کورین حکومت نے سخت سرحدی سیکیورٹی قرار دی ہے، مگر سماجی کارکنوں کے مطابق ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شمالی کورین تارکین وطن کی بڑی تعداد وطن واپسی کی خواہشمند ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سن جیونگ ہن دس برس قبل شمالی کوریا سے بھاگ کر جنوبی کوریا آئے،جس کے بعد وہ بڑی تعداد میں اپنے ہم وطنوں کی جنوبی کوریا میں بسنے کیلئے مدد کرچکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ متعدد افراد اس وقت حیران رہ گئے جب انھوں نے وطن واپسی کا اعلان کیا۔
سن جیونگ ہن”اس سے پہلے کبھی کسی نے شمالی کوریا دوبارہ جانے کا نہیں کہا تھا، حکومت کا کہنا ہے کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں اور یہ غیرقانونی عمل ہوگا۔ مجھے بتایا گیا کہ اگر میں شمالی کوریا جانا چاہتا ہوں تو مجھے سے کسی قسم کے دعوت نامے کی ضرورت پڑے گی”۔
انکا کہنا ہے کہ وہ بیمار ہیں اور مرنے سے پہلے پیانگ یانگ میں مقیم اپنے خاندان سے ملنا چاہتے ہیں۔ انکا دل ٹوٹنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ قرضہ واپس نہ کرپانے پر اپنے اپارٹمنٹ سے محروم ہوچکے ہیں، اب وہ جنوبی کوریا آنے کے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں۔
سن”میں ہی اس معاملے کو اٹھا نہیں رہا، بلکہ ہر سو میں سے اسی80 شمالی کورین افراد واپس جاکر اپنے خاندانوں سے ملنا چاہتے ہیں، وہ مناسب خوارک نہ ملنے کی صورت کے باوجود بھی وہاں جانے کیلئے تیار ہیں”۔
اپنے اس اعلان کے بعد ان پر غیرملکی سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، مگر کچھ دیگر تارکین وطن بھی وطن واپسی کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔
گزشتہ ایک برس کے دوران بڑی تعداد میں ایسے تارکین وطن کو شمالی کوریا کے ٹی وی چینیل پر دکھایا گیا ہے، انکا کہنا تھا کہ جنوبی کورین حکومت نے ہمیں رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر اپنا وطن چھوڑنے کے بعد انہیں کچھ بھی نہیں ملا۔
سن کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز نے انہیں پراعتماد کردیا ہے اور توقع ہے کہ وطن واپسی پر انہیں کوئی سزا نہیں ملے گی۔
سن”میں نے اپنی زندگی کے 36 سال پیانگ یانگ میں گزارے، میں حکومت کیلئے کام کرتا تھا اور میں جانتا ہوں کہ وہاں کام کیسے ہوتا ہے۔ مجھے وطن واپسی پر گرم جوش استقبال کی توقع نہیں، کنگ جونگ یل کی حکومت میں ہزاروں افراد وہاں سے بھاگ نکلے تھے، مگر میرے خیال میں اب حکومت میری صلاحیتوں کو استعمال کرکے وہاں کے حالات بہتر دکھانا چاہتی ہے، وہ دنیا کو دکھانا چاہتی ہے کہ کنگ جونگ یل بہتر کام کررہی ہے”۔
ان تارکین وطن کے حامی سماجی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ اب تک سو سے زائد شمالی کورین افراد خاموشی سے سرحد پار کرکے واپس جاچکے ہیں، تاہم جنوبی کوریا کی منسٹری آف یونیفیکیشن کا کہنا ہے کہ صرف تیرہ تارکین وطن ہی واپس گئے ہیں، ان میں سے تین جنوبی کوریا واپس آگئے ہیںکو بوینگ سیم، اس وزارت کے بحالی نوپروگرام کے سربراہ ہیں۔
کو بوینگ سیم”ان پرپیانگ یانگ کی جانب سے واپسی کیلئے دباﺅ ڈالا گیا یا اپنے خاندانوں کی یاد کے باعث انھوں نے ایسا کیا، تاہم ان میں سے بیشتر وہاں دوبارہ ایڈجسٹ نہیں ہوسکے”۔
اس وزارت کے سابق عہدیدار کم سک وو کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا جانے والے بیشتر افراد جنوبی کوریا واپس آنے کی کوشش میں بھاری اخراجات کے باعث اپنی تمام جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
کم سک وو”ان لوگوں نے اسمگلرز کو دو ہزار ڈالرز ادا کئے، اگرچہ انہیں جنوبی کورین حکومت کی جانب سے چالیس ہزار ڈالرز ملے، تاہم اپارٹمنٹ کی خریداری یا دیگر چیزیں خریدنے کے باعث ان کے پاس زیادہ رقم نہیں بچی تھی”۔
کم سک ووکا کہان ہے کہ شہری گروپس کو ایسے متاثرین کی مدد کرنی چاہئے جبکہ حکومت کو ان کی بحالی نو کیلئے فنڈز میں اضافہ کرنا چاہئے۔ انکا کہنا ہے کہ دیگر تارکین وطن سے بھی اس حوالے سے مدد لی جاسکتی ہے، اور ستائیس سالہ کم اون جوایک رول ماڈل ثابت ہوسکتی ہیں۔
وہ اس وقت سیول سوگانگ یونیورسٹی کی میں زیرتعلیم ہیں، جبکہ حال ہی میں انکی سوانح حیات پر مبنی کتاب بھی سامنے آئی ہے۔ وہ لڑکپن میں جنوبی کوریا آئی تھیں، انکا کہنا ہے کہ وہ خود کو کامیاب تو قرار نہیں دے سکتیں، تاہم وہ خود کو درست راہ پر گامزن ضرور سمجھتی ہیں۔
کم اون جو”تارکین وطن کی حیثیت سے ہمیں یہاں کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم جنوبی کوریا آنے پر ہمیں کسی سے مدد مانگتے ہوئے شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہئے، مجھے دیگر افراد کی جانب سے بہت زیادہ مدد ملی اور اب میں اس مقام پر پہنچ چکی ہوں، یہاں شمالی کورین افراد کے بارے میں تعصب ضرور ہے مگر متعدد ایسے افراد بھی ہیں جو مدد کرنا چاہتے ہیں”۔
انکا کہنا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے ہوتے دوبارہ شمالی کوریا واپسی کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔
کم اون جو”اگرچہ لوگوں کے اندر واپسی کی خواہش کی متعدد وجوہات موجود ہیں، مگر مجھے لگتا ہے کہ وہ بیوقوفی کررہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا واپس جاکر اس امداد کے ذریعے زندگی گزار سکتے ہیں جو انہیں جنوبی کوریا میں ملی، مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہاں کسی قسم کی آزادی نہیں، اور یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوگی”۔
تاہم وطن واپسی کے خواہشمند سن جیونگ ہن کا خیال مختلف ہے۔
سن جیونگ ہن”کافی تارکین وطن مجھ سے بات کرنے کے خیال سے ہی خوفزدہ ہیں، جنوبی کورین پولیس میری نگرانی کررہی ہے اور جو بھی مجھ سے ملتا ہے اسے پوچھ گچھ کرتی ہے، میرے دوست اس تفتیشی عمل سے نہیں گزرنا چاہتے، میری سماجی زندگی اس وقت تباہ ہوکر رہ گئی”۔