Indonesian Shia Cycle to Jakarta to Demand Rights – انڈونیشین شعیہ برادری

انڈونیشیاءکے انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے صدارتی مشیر کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص برادری کو زبردستی دوسری جگہ منتقل کرنا غیرانسانی فعل ہے، انڈونیشین علاقے سیمپینگ میں مقیم شعیہ برادری کو ان کے گھروں سے نکالا جارہا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی ر پورٹ

چوبیس سالہ محمد رشید اپنے دیگر بے گھر ساتھیوں کے ہمر ہ سیمپینگ سے جکارتہ سائیکلوں پر پہنچے ہیں، انھوں نے سینکڑوں کلومیٹر کا یہ سفر چودہ روز میں طے کیا۔

محمد رشید”ہم سائیکل پر جکارتہ آئے ہیں، تاکہ صدر سے پوچھ سکیں کہ وہ ہم سے کئے گئے وعدے کب پورے کریں گے۔ صدر نے کہا تھا کہ وہ ہمارا معاملہ جلد حل کریں گے مگر اب تک کوئی حل سامنے نہیں آسکا، اس وقت ہم اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں”۔

سیمپینگ کی شعیہ برادری کے افراد ایک برس سے ایک اسپورٹس کمپلیکس میں مقیم ہیں، اس برادری کے گاﺅں پر گزشتہ برس نامعلوم افراد نے دھاوا بول کر انہیں گھربار چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔حال ہی میں مقامی انتظامیہ نے ان بے گھر افراد کو ایک اور شہر منتقل کرنے پر مجبور کیا، جس کا مقصد امن عمل کی رفتار بڑھانا بتائی گئی۔ یہ سب اس وقت ہوا جب انڈونیشین صدر سوسیلو بامبانگ یودھیونو کو انسانی حقوق اور بھائی چارے کے فروغ پر ایک عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ہادی جوبن بھی سائیکل میں جکارتہ پہنچے ہیں، انکا کہنا ہے کہ صدر سوسلو ہی ہماری آخری امید ہیں۔

ہادی جوبن”ہمارے پاس اب کچھ نہیں بچا، ہمارے پاس پیسے، گاڑیاں یا موٹرسائیکلیں نہیں، ہمارے پاس بس یہ سائیکلیں ہی باقی بچی ہیں، اور ہم اس کے ذریعے صدر کے دل کو چھونے کی کوشش کررہے ہیں”۔

مگر یہ افراد صدر سے مل نہیں پائے، صدر کے انسانی حقوق کے مشیرایبرٹ ہاسیبوآن نے اس گروپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ شعیہ برادری کو کسی اور جگہ منتقل کرنے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔

ایلبرٹ”یہ فیصلہ مقامی حکومت کا ہے کہ شعیہ برادری کو زبردستی منتقل کیا جائے، یہ لوگ دس ماہ سے اسپورٹس کمپلیکس میں مقیم ہیں، انکی منتقلی کا فیصلہ غیرانسانی اور بالکل غلط ہے۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور یہ صدر کی بھائی چارے اور صبر کو فروغ دینے کی پالیسی کے مطابق بھی نہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ صدارتی مشیروں کی کونسل نے صدر کو اس مسئلے کے حل کیلئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔بجھادن اسپورٹس کمپلیکس میں اپنی اہلیہ اور چار سالہ بیٹے کے ہمراہ مقیم ہیں، اور انکا بیٹا ہروقت گھر واپس جانے کی ضد کرتا رہتا ہے۔

بجھا “وہ کہتا ہے کہ ابو گھرواپس چلیں، اور میں اسے کہتا ہوں، ہم اب وہاں نہیں جاسکتے، کیونکہ ہمارے گھر کو جلا دیا گیا ہے اور اب ہمارے پاس کوئی گھر نہیں”۔
رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا ہے اور محمد رشید کا کہنا ہے کہ وہ یہ مقدس مہینہ اپنے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں۔

محمد رشید”اسپورٹس کمپلیکس کے تمام پناہ گزین رمضان اپنے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں، اگر ہمیں ایسا نہ بھی کرنے کی اجازت دی گئی تو بھی ہم واپس چلے جائیں گے۔ ہم یہ مقدس مہینہ اپنے اپنے گھروں میں گزارنا چاہتے ہیں”۔