تھائی لینڈ آج کل احتجاجی مطاہروں کی زد میں ہے، اور وزیراعظم کو 2010ءکے بعد اب تک کے سب سے بڑے احتجاج کا سامنا ہے۔ یہ احتجاج حکومت کے مستعفی ہونے کیلئے ہورہا ہے اور مطاہرین نے کئی سرکاری عمارات پر قبضہ بھی کرلیا ہے۔اسی حوالے سے معروف تھائی سیاسی تجزیہ کار تھیٹنان پونگسدھیرک کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں
تھیٹنان پونگسدھیرک “موجودہ صورتحال واقعی بہت تشویشناک اور واضھ ہے، کیونکہ یہ خبر ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، تو یہ واقعی سنگین صورتحال ہے۔ پانچ سال پہلے بھی ہم ایسے حالات دیکھ چکے ہیں، جب ائیرپورٹ کو بند کردیا گیا تھا، کیونکہ اس پر مظاہرین نے قبضہ کرکے حکومتی تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس بار کوئی ائیرپورٹ بند کرنے کی کوشش تو نہیں کررہا، مگر مظاہرین حکومتی رٹ ختم کرکے حکومت کے خاتمے کی کوشش ضرور کررہے ہیں، حکومت اس کا جواب دینے کی کوشش کررہی ہے اور اس نے انٹرنل سیکورٹی ایکٹ کا دائرہ بینکاک کے بیشتر علاقوں تک پھیلا دیا ہے، اور اب ہم زیادہ اتنشار دیکھ رہے ہیں، مطاہرین کا احتجاج جاری ہے اور حکومتی کریک ڈاﺅن بھی، مگر میرے خیال میں ابھی صورتحال پر قابو پانا ناممکن ہے، ہمیں حالات کی بہتری کیلئے چند روز انتظار کرنا ہوگا”۔
سوال”جیسا آپ کہہ رہے ہیں کہ حالات زیادہ خراب ہورہے ہیں اور وزیراعظم ینگ لک استعفی نہ دینے کیلئے پرعزم ہیں، تو اب ان کی حکومت اس صورتحال سے بغیر کسی بڑی مشکل کے کیسے نکل سکتی ہے؟
تھیٹنان پونگسدھیرک “حکومت کے پاس آپشنز بہت کم ہیں کیونکہ مطاہرین نے اس صورتحال سے نکلنے کے بیشتر دروازے بند کردیئے ہیں، مستعفی ہونا ہی کافی نہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ تحلیل کرنے سے کچھ بہتری کا امکان ہے، تو میرے خیال میں حکومت کو احساس ہے کہ مستعفی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اسکی پوزیشن کمزور ہے، اور نئے انتخابات کیلئے پارلیمنٹ تحلیل کرنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اپوزیشن 2006ءکی طرح انتخابات کا بائیکاٹ کرسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت احتجاج کے سامنے پرعزم کھڑی ہے اور سخت ردعمل کا اظہار کررہی ہے، اسے سیکیورٹی قوانین کا موثر اطلاق کرنا پڑے گا جس سے ہمیں مزید لڑائی نطر آئے گی، مگر ایسا ہم پانچ برس پہلے بھی دیکھ چکے ہیں اور اس وقت بھی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ اب میرے خیال میں ہم پانچ سال پہلے والا منطر اب دوبارہ دیکھنے والے ہیں، کیونکہ مظاہرین نے اسٹیبلشمنٹ کی کافی طاقتوں کو اپنی طرف کرلیا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومتی ردعمل بہت زیادہ سخت ہوچکا ہے”۔
سوال”اب اسٹیبلیشمنٹ کی فورسز کی بات کررہے ہیں، کیا اس میں فوج بھی شامل ہے؟
تھیٹنان پونگسدھیرک “فوج، سنیئر بیوروکریسی، طبقہ امرائ، یعنی وہ افراد جنھیں انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، سب نے اپنی آواز بلند کررکھی ہے، اگرچہ وہ اقلیت میں ہیں مگر یہ اقلیت بہت طاقتور ہے، جنھیں لگتا ہے کہ موجودہ حکومت میں انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے، تو ہم دوبارہ اس تنازعات سے بھرے چکر میں پھنس گئے ہیں جس کا سامنا ہمیں گزشتہ دہائی میںتھاکسن حکومت میں کرنا پڑا تھا، میرا نہیں خیال اس طرح تھائی لینڈ آگے بڑھ سکے گا، مظاہرین کو توقع ہے کہ غیرپارلیمانی مداخلت سے حکومت کا خاتمہ کردیا جائے گا، اور اگر ایسا ہوا تو پھر ہم دوسری جانب سے احتجاجی مطاہرے دیکھٰں گے، یعنی حکومت کے حامی سرخ پوش تحریک کے کارکن سڑکوں پر نکل آئیں گے، جیسا ہم نے 2009ءاور 2010ءمیں دیکھا تھا”۔
سوال” ڈاکٹر تھیٹنن مظاہرین وزیراعظم ینگ لک کی حکومت کوتھاکسن دور کا ہی تسلسل قرار دیتے ہیں، حالانکہ سابق وزیراعظم تھاکسن شنا ورتراخودساختہ جلاوطنی اختیار کئے ہوئے ہیں، آپ کے خیال میں کس حد تک ان کی شخصیت کا سایہ ان کی بہن کی حکومت پر اثرانداز ہورہا ہے۔
تھیٹنان پونگسدھیرک “ان کی شخصیت کا بہت زیادہ اثر موجودہ حکومت پر ہے، وہ جلاوطنی میں رہ کر بھی اپنی بہن کی وزارت عظمیٰ کا حصہ بنے ہوئے ہیں، تو اس طرح سکے کے دونوں رخ تھائی لینڈ پر حکومت کررہے ہیں،ینگ لک ایک طرف اور تھاکسن سکے کا دوسرا رخ ہیں، مگر میرے خیال میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ہم نے تھائی لینڈ کوتھاکسن کے اثر سے آزاد ہوکر ابھرتے دیکھا ہے، تاہم متعدد افراد اتھاکسن کے مخالف ہیں، کیونکہ تھائی لینڈ تبدیل ہوا ہے اور بیشتر حلقے اکیسویں صدی میں پرانی اصلاحات کے خیال سے خوش نہیں، جبکہ اس خطے میں بادشاہ کو اقتداراعلیٰ حاصل ہے، تو اسی وجہ سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے،تھاکسن کے اقدامات پر لوگ بہت زیادہ مشتعل ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث ہے، مگر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تھاکسن نے وہ راستہ تبدیل کردیا ہے جس کے تھائی عوام عادی ہوچکے ہیں”۔