انڈونیشیاءمیں ہر ایک کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں، خصوصاً پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیرافراد جدید دنیا کی اس سہولت سے محروم ہیں، مگر جاوا کے ماﺅنٹ سلیمٹ کی ڈھلانوں پر واقع ایک گاﺅں میں کئی برسوں سے لوگ انٹرنیٹ سے مستفید ہورہے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کسیم دھان کی فصل کی دیکھ بھال کررہی ہے۔
کسیم”یہاں بہت زیادہ چوہے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں سے آتے ہیں مگر وہ چاول کے کھیتوں میں سب کچھ کھا جاتے ہیں، خصوصاً رات کو تو چوہوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجاتی ہے”۔
کسیم اس وقت ایک درخت کے نیچے بیٹھی اپنے شوہر کیساتھ آن لائن کچھ کام کررہی ہے۔
کسیم”ہم انٹرنیٹ پر نامیاتی کھاد تیار کرنے کا طریقہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں، ہمیں بہت کچھ معلوم ہوا ہے، ہمارے پودوں پر کیڑے اور چوہے وغیرہ حملے کرتے ہیں اور مجھے انٹرنیٹ سے ان سے نمٹنے کا طریقہ معلوم ہوا ہے، ہم نے اسے آزمایا بھی ہے جو واقعی موثر ثابت ہوا ہے”۔
انڈونیشیاءکے دیگر دیہات کے برعکس اس پہاڑی گاﺅں کے رہائشی تیز ترین انٹرنیت کنکشنز سے لطف اندوز ہوتے ہیں،میلنگ ولیج کے سربراہ خوئرالدین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پراجیکٹ پر چار سال قبل کام شروع ہوا تھا۔
خوئرالدین “ہمارے پاس گاﺅں میں اب ایک سرور اور سات انٹرنیٹ ایکسس پوائنٹس موجود ہیں، جہاں سے یہاں کے لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کرسکتے ہیں”۔
اور صرف کاشتکار ہی اس سے فائدہ نہیں اٹھارہے ہیں، آٹھویں کلاس کی طالبہ لینڈاکا کہنا ہے کہ اس نے بھی انٹرنیٹ سے بہت کچھ جانا ہے۔
لینڈا”میں نے گوگل سے بہت کچھ جانا ہے،اپنے موبائل فون پر وائی فائی کنکشن کے ذریعے مجھے فزکس اور ریاضی کے بارے میں جاننے کا موقع ملا، ہمیں اب ہر قسم کی معلومات تک رسائی حاصل ہے”۔
انٹرنیٹ ولیج کا یہ خیال اس گاﺅں کے سابق سربراہ آگنگ بودی سیتریو نے پیش کیا تھا۔
آگنگ بودی سیتریو”ہمارا گاﺅں ماﺅنٹ سلیمٹ کی ڈھلان پر ہے، تو جب ہمیں کسی قسم کی معلومات حاصل کرنا ہوتی تو ہمیں پر واکرتو جانا پڑتا، معلومات کا حصول ہمارے لئے بہت اہم ہے، تاکہ تازہ ترین حالات سے باخبر رہ کر کسی اور سے پیچھے نہ رہ سکیں، ہم نے اخبارات کے حصول کی بھی کوشش کی مگر وہ زیادہ قابل اطمینان طریقہ ثابت نہیں ہوسکا، کیونکہ ہمیں اخبار ایک روز تاخیر سے ملتا تھا”۔
آگنگ کی قیادت میں اس گاﺅں میں بنیادی ضروریات کا انفراسٹرکچر قائم کیا گیا، جس کے لیے آگنگ نے اپنی جمع پونجی بھی خرچ کی۔
آگنگ “ہم نے چھ سو ڈالرز جمع کئے، اس کیلئے ولیج اور اسکول فنڈز کی رقم کیساتھ ساتھ میں نے اپنی بچت بھی استعمال کی، دو ہزار دس کے وسط میں ہم نے تین انٹرنیٹ ایکسس پوائنٹس تعمیر کئے، اگلے سال مقامی حکومت نے بھی انٹرنیٹ کی ضرورت کا اظہار کیا اور اس نے اپنے ایکسس پوائنٹس تعمیر کئے، تو اب ہمارے پاس سات انٹرنیٹ ایکسس پوائنٹس موجود ہیں”۔
مقامی کاشتکار اب انٹرنیت استعمال کرکے دنیا کو اپنے گاﺅں کے بارے میں بتاتے ہیں، اور اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ گاﺅں کی ویب سائٹ melung.desa.id پر کرتے ہیں۔
آگنگ”ہمارے لئے انٹرنیٹ صرف معلومات کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ ہم اِس کے ذریعے اپنی اطلاعات بھی باقی دنیا کو دیتے ہیں، اِس طرح توازن قائم رہتا ہے، گاﺅں کی اپنی آواز ہونی چاہئے تاکہ ہم اطلاعات کا توازن برقرار رکھ سکیں، اِسی طرح ہم اپنی اطلاعات باہرکی دنیا سے شیئر کرسکتے ہیں”۔
ویب سائت پر ماریکٹنگ سے کاشتکاروں کی مصنوعات کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے، گاﺅں کی سالانہ آمدنی میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے، انٹرنیٹ کی ہی بدولت کاشتکارتوفیق اپنے خریداروں سے براہ راست معاملات طے کرپاتا ہے۔
توفیق”ہمارا ایک خریدار جکارتہ سے تعلق رکھتا ہے، اسے انٹرنیٹ کے ذریعے ہمارے اور ہماری مصنوعات کے بارے میں معلوم ہوا، اب وہ براہ راست ہمارے پاس آتے ہیں”۔