صوبہ پنجاب میں نوجوان ڈاکٹر وں کی تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کے حق میں یکم مارچ سے سات اپریل تک آﺅٹ ڈور اور ان ڈورمیں ہڑتال کی،جبکہ آخری دنوں میں ڈاکٹروں کے احتجاج میں تیزی آئی اور ا±نھوں نے ایمرجنسی سروسز یعنی شعبہ ہنگامی خدمات میںبھی کام بند کر دیا،جس سے صوبے بھر میں مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا،تاہم وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کیساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم کردی۔ڈاکٹر حامد بٹ پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
پنجاب میں ڈاکٹروں کا مطالبہ تھا کہ ہاﺅس سرجن کو تیس ہزار روپے، میڈیکل افسر کو اسی ہزار روپے، سینئر رجسٹرار کو ڈیڑھ لاکھ روپے، اسسٹنٹ پروفیسر کو دو لاکھ روپے، ایسوسی ایٹ پروفیسر کو اڑھائی لاکھ روپے اور پروفیسر کو تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملنی چاہیے،جبکہ حکومت پنجاب کا موقف تھا کہ ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں گزشتہ برس 50 فیصد اضافہ ہو چکاہے اور آئندہ مالی سال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ تاہم ڈاکٹر بجٹ تک انتظار کرنے کو تیار نہ تھے اور ا±نھوں نے ہڑتال کر دی ۔ ڈاکٹر ابوبکر،جناح اسپتال لاہور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدرہیں۔
پنجاب حکومت نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے نمٹنے کیلئے نئے ڈاکٹروں کو بھرتی کرنیکا منصوبہ تیار کیا تھا،جس پر عملدرآمد مذاکرات کے بعد روک دیا گیا۔وزیر اعلی پنجاب کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار کھوسہ کا کہنا ہے کہ شدید اقتصادی بحران کے اس دور میں سیلابی آفت کی وجہ سے صوبے کو 40 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ ان کے بقول ڈاکٹروں کے مطالبات ماننے کی صورت میں حکومت کو سالانہ16 ارب روپے مزید خرچ کرنا ہوں گے۔پنجاب کے ڈاکٹروں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بھی ڈاکٹروں نے علامتی طور پر ہڑتال کی۔ڈاکٹر عباس علی شاہ صوبہ سندھ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
لیکن کامیاب مذاکرات کے بعد حکومتی موقف میں تبدیلی آئی، ڈاکٹر سعید الٰہی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ہیں۔
ہڑتال کی وجہ سے پنجاب بھر کے ہسپتالوں میںبر وقت طبی امداد نہ ملنے کے سبب درجنوں مریض جاں بحق ہوچکے ہیں ۔جناح اسپتال لاہور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ابوبکراس بارے میںجواز پیش کرتے ہیں۔
لیکن چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ،جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے مریضوں کی ہلاکتوںکا نوٹس لے لیااور ایک کمیشن قائم کرنیکا حکم دیا جو ایک ماہ میںان ہلاکتوں کی وجوہات سے عدالت کو آگاہ کریگا۔ڈاکٹر حامد بٹ اس حوالے سے بتارہے ہیں۔
جناح اسپتال لاہور ،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ابوبکر کے بقول ینگ ڈاکٹروںنے پنجاب بھر میں کسی بھی جگہ ایمرجنسی سروسز میں تالہ بندی نہیں کی اور ہنگامی حالات میں بھی اپنے فرائض سرانجام دیئے۔
اپریل کوسندھ میں بھی ینگ ڈاکٹروںنے علامتی احتجاج کیا۔
پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کا خاتمہ یقیناً ایک اچھی پیشرفت ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کشمکش میں ایک ماہ سے زیادہ وقت ضائع ہوا ،جس دوران عوام الناس کوبے انتہاتکالیف اور مشکلات برداشت کرنا پڑیں اورقیمتی جانیں ضائع ہوئیں جن کامداوا ہونا ناممکن ہے۔
