پاکستان میں توانائی کا بحران ہر سال شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس وقت ایک جانب ملک میں بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے تو دوسری جانب گیس خصوصاً سی این جی کا بحران انتہائی تشویشناک ہوگیا ہے۔بجلی کی کمی پوری کرنے کے لئے ابھی ملک بھر میں 12 سے 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔اگرچہ بڑے ڈیموں کی تعمیر کیلئے حکومت کی جانب سے اعلانات سامنے آتے رہتے ہیں،مگر آبی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے چھ سے سات سال کا عرصہ درکارہوتا ہے،ایک اور آپشن رینٹل پاورپلانٹس ہیں، مگر مہنگی بجلی کے اخراجات اٹھانا پاکستانی عوام کے بس کی بات نہیں، اسی لئے توانائی کے متبادل ذرائع بھی اس بحران کے خاتمے کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔اس مقصد کیلئے دھوپ، ہوا اور توانائی کے دیگر قدرتی ذرائع کا استعمال ضروری ہے۔شیراز انور خان متبادل توانائی ڈویلپمنٹ بورڈ کے کراچی کیمپ آفس کے انچارج ہیں۔
متبادل توانائی کا ایک اہم اور لامحدود قدرتی ذریعہ ہوا ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں توانائی کے متبادل ذرائع پر 1980ءکی دہائی میں کام شروع ہوگیا تھااور 1991ءمیں وہاں پہلے ونڈپاور پلانٹ نے کام شروع کردیا تھا، جبکہ پاکستان میں متبادل توانائی کے ذرائع کے استعمال کی پالیسی دسمبر 2006ءمیں سامنے آئی تھی اور اسکے دوسال بعدہوا سے چھ میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہوئی تھی۔ہوا کی کم از کم 13کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو ونڈ انرجی کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہوا کے ذریعے تقریباً تین ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔اس وقت پاکستان میں بھی سب سے زیادہ اسی ذریعے پر توجہ دی جارہی ہے،کیونکہ ہوا سے توانائی کا حصول دیگر ذرائع کے مقابلے میں کافی سستا پڑتا ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی گزشتہ روز ہواسے بجلی پیدا کرنیوالے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ شیخ محمد افضل سندھ کابینہ میں ماحولیات و متبادل توانائی کے ذرائع کے وزیرہیں،وہ اس حوالے سے اپنے صوبے میں ہونیوالی کارکردگی بتارہے ہیں۔
پاکستانی ما رکیٹس میںدستیاب شمسی توانائی کے آلات خاصے مہنگے ہیں، تاہم متبادل توانائی ڈویلپمنٹ بورڈکراچی کیمپ آفس کے انچارج شیراز انور خان اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔
شمسی توانائی سے پیدا کی گئی بجلی ونڈپاور کے مقابلے میںمہنگی پڑتی ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس اہم ذریعے پر ابھی تک کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی۔مثال کے طور پر کراچی میں نیشنل ہائی وے پر ٹریفک سگنل، یوٹرن اوردیگرعلاقوں کی طرف مڑنے کیلئے ذیلی شاہراﺅں پر لگائی گئی لائٹس کو شمسی توانائی سے روشن کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا، مگر اس پر عملدرآمد زیادہ عرصے نہیں ہوسکا، اسی طرح کراچی کے گڈاپ ٹاﺅن میں ایک ہوٹل اور مسجد کو بھی شمسی توانائی کے ذریعے بجلی فراہم کی گئی، یہ منصوبہ بھی حکومتی بے اعتنائی کی وجہ سے ختم ہوگیا۔باسط علی انجینئرنگ کے طالبعلم ہیں، وہ شمسی توانائی کے حوالے سے بتارہے ہیں۔
شیراز انور خان کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار کافی مہنگی پڑیگی، اس لئے سستے ذرائع کو ترقی دینے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔
صوبہ سندھ میں توانائی کے متبادل ذرائع کے امور کے وزیر شیخ محمد افضل کا کہنا ہے کہ ان ذرائع کی ترقی کے حوالے سے صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔
عوام میں توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کیلئے نجی سطح پر کافی کام کیا جارہا ہے، تاکہ عوام تربیت حاصل کرکے اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کرسکیں۔انجینئرنگ کے طالبعلم باسط علی اس حوالے سے تجاویز دے رہے ہیں۔
درحقیقت پاکستان میں دستیاب توانائی پیدا کرنے کے مختلف ذرائع کا اگر 50فیصدبھی استعمال میں لایا جائے تو ہم اضافی توانائی پیدا کرکے اسے پڑوسی ممالک کو بھی برآمد کرسکتے ہیں، جوہمارے ملک کی کمزور معیشت کو مضبوط کرنے کی وجہ بھی بن سکے گی۔
