Lack of patience معاشر تی عد م بر د ا شت میں اضا فہ

     یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی معاشرے میںصبر وتحمل اور برداشت کا مادہ تیزی سے ختم ہوتا جارہا ہے۔ غم ہو یا خوشی، عوام کا ردعمل انتہاپسندانہ رویے کا مظہرہوتا ہے، جسکی ایک حالیہ مثال پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ورلڈکپ کے سیمی فائنل کے دوران خوشی میں کی گئی ہوائی فائرنگ سے متعدد افراد کا زخمی ہونا ہے۔واضح رہے کہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران پاکستان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔مگر سیمی فائنل میں قومی ٹیم کا سامنا روایتی حریف بھارت سے ہوا، جس میں اسے 29رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کرکٹ ورلڈکپ کے سیمی فائنل کے دوران کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ کی زد میں آکر ایک بچی اور ایک نرس جاں بحق جبکہ80 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں تو یہ صورتحال ہوگئی تھی کہ مساجد اور میگافون پراحتیاطا یہ اعلانات کئے گئے کہ جیت کی صورت میں جشن کے وقت ہونے والی ہوائی فائرنگ کے دوران عوام چھتوں پر جانے سے گریز کریں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہ سکیں۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہءنفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد کا کہنا ہے کہ ماضی میں وادیءسندھ،یعنی بحیرہءعرب کے ساحل سے لیکرکشمیر تک پوراعلاقہ ایک پرامن خطہ تھا اور یہاں کے لوگوں میںبہت صبرو برداشت تھی۔

یہ تو میچ کے دوران عوام کے جذبات تھے، شکست کے بعد سوات اور لاہور میں دو افراد دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے، جبکہ متعدد افراد نے پاکستان کی ہار پر اپنے ٹی وی سیٹس توڑ ڈالے۔ بعض شہروں میں قومی ٹیم کیخلاف مظاہرے بھی کئے گئے جبکہ کئی جگہ نوجوانوں نے خود کو زخمی کرلیا۔ماہرین سماجیات کے مطابق جب کسی معاشرے میں انارکی، تشدد، کرپشن اور خود غرضی حد سے زیادہ بڑھنے لگتی ہے تو عوام میں برداشت کا مادہ ختم ہو جاتا ہے۔سماجی کارکن سیمسن سلامت کا تعلق سینٹرفور ہیو مین رائٹس ایجوکیشن نامی ادارے سے ہے۔

مولانا مفتی محمد نعیم کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اتنا تنگ کیا جارہا ہے کہ اسکی وجہ سے بھی انکے اندر قوت برداشت ختم ہورہی ہے۔
اس سے بڑھ کر پاکستان میں لسانی، نسلی، مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر بھی عدم برداشت کا رجحان زور پکڑ چکا ہے۔ عام طور پر کوئی طبقہ اپنے موقف سے ہٹ کر بات سننے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔کہنے کو تو پاکستان ایک ملک ہے مگرظاہری حالات سے لگتا ہے کہ ہر صوبے میں رہائش پذیر افراد دوسری قومیت کے لوگوں کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔
عوامی عدم برداشت کی ایک اور مثال صوبہ پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال ہے، جس کے دوران طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اب تک چار بچوں سمیت اٹھارہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ متعددمریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سماجی کارکن سیمسن سلامت کا کہنا ہے کہ میڈیا کے طاقتورہونے سے کچھ قوتیں اس طاقت کو استعمال کرکے معاشرے میں عدم برداشت کے رجحان کو فروغ دے رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *