کمبوڈیا کے معروف ترین مندر اینگکور واٹ کو دیکھنے کیلئے گزشتہ سال تیس لاکھ سے زائد افراد آئے، مگر ان میں سے بیشتر سیاح اس مندر کو لاحق خطرات سے واقف ہیں، یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل اس مندر کے تحفظ کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں
پھنم پنھ کے شمال میں تین سو کلو میٹر دور واقع اینگکور واٹ کمبوڈیا کا سب سے معروف سیاحتی مقام ہے، یہ ہندو مندر 1992ءسے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہے، حالیہ برسوں میں یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد مٰں اضافہ ہوا ہے، جس سے اس یادگار کو نقصان پہنچنے کے خدشات بھی بڑھے ہیں۔
نوجوان خمرزکا ایک گروپ مندر کے ایک کونے میں پتھروں کی بحالی کا کام کررہا ہے، یہ لوگ ہتھوڑوں اور مختلف قسم کے اوزار استعمال کررہے ہیں، انیس سالہ ساﺅ رٹا نا ک بھی اس کام میں مصروف ہیں۔
ساﺅ رٹا نا ک”میرے خیال میں یہ مندر بہت زبردست ہیں کیونکہ ان کا طرز تعمیر انتہائی منفرد ہے، آپ کو معلوم ہی ہے ماضی میں لوگوں کے پاس جدید آلات نہیں تھے پھر بھی اس طرح کا عظیم مندر تعمیر کرلیا گیا ہے، یہ حیرت انگیز ہے”۔
ساﺅ رٹا نا ک بتارہے ہیں کہ اپنے کام کی مدد سے انھوں نے جانا ہے کہ کس طرح کے اوزار استعمال کرکے اس مندر اور مجسموں کی تعمیر کی گئی۔
ساﺅ ان بیس نوجوانوں میں شامل ہیں جو اس مندر میں استعمال کئے جانے والے پتھروں کے بارے میں جان رہے ہیں، دو سالہ تربیتی پروگرام کے دوران انہیں مجسموں کی تاریخ اور انہیں بچانے کی نئی تیکنیک کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔ 46 چھیالیس سالہ لانگ ناری اس گروپ کے سربراہ ہیں۔
لانگ ناری”یہ نوجوان ابھی ہائی اسکول سے فارغ ہوئے ہیں، تاہم ان میں کچھ یونیورسٹیوں کے طالبعلم بھی شامل ہیں، ہمارے ملک میں ایسا کوئی اسکول نہیں جہاں نوجوانوں کو قدیم پتھروں کی تیاری کے بارے میں سیکھایا جائے، یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف اداروں اور غیرملکی ماہرین کے ذریعے یہ کام سیکھتے ہیں”۔
لانگ ناری بیس سال سے ٹور گائیڈ کا کام کررہے ہیں، اور اب وہ خود بھی ان تاریخی آثار کے تحفظ کے ماہر بن چکے ہیں۔
لانگ ناری”میں نے سیکھا ہے کہ کس طرح ڈاکومینٹس کو ریکارڈ کرنا چاہئے، کس طرح پتھروں کی حفاظت کرنی چاہئے، مجسموں کو کیسے تحفظ دینا چاہئے، یہ سب ہمارا ثقافتی خزانہ ہے”۔
لانگ ناریکو ایک عالمی ادارے ICCROM نے تربیت دی، وہ پہلے کمبوڈین شخص تھے جنھیں تین ماہ کے کورس کیلئے روم بھیجا گیا۔ ICCROM کے سمن وراک کا کہنا ہے کہ مندر کے تحفظ کے عمل میں مقامی لوگوں کو شامل زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
سمن وراک “مرمت کی جانب توجہ نہ دینا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اگر آپ کسی مندر کو گرنے کی وجہ جانے تو معلوم ہوگا کہ اس کی وجہ کسی کی جانب سے اس کی دیکھ بھال نہ کرنا تھا۔ تو اس مقصد کیلئے لوگوں کی تربیت بہت اہم ہے، تحفظ و مرمت کا پروگرام ہمیشہ جاری رہنا چاہئے، تو لوگوں کو تربیت دینا سب سے اہم امر ہے تاکہ یہ تاریخی آثار ہمیشہ محفوظ رہیں”۔
ساﺅ اور ان کے دوست اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ساﺅ “مجھے یہ کام پسند ہے اور میں اس کورس کو مکمل کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ اس سے میں خمر ٹیمپل کو محفوظ رکھ سکوں گا، جو کہ روزانہ تباہ ہورہے ہیں، میں ان کو اس تباہی سے بچانا چاہتا ہوں”۔
لانگ ناری کو توقع ہے کہ نوجوانوں کو تربیت دینے سے انگکور واٹ کو بچانے میں مدد ملے گی۔
لانگ ناری”مجھے اپنے اس کام سے محبت ہے، متعدد افراد کو ہنردینے سے مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے، میں مستقبل میں زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہوں گا، مگر میرا علم آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتا رہے گا”۔