Transgender Community in Pakistan Finding Kidnapped Childrenپاکستانی خواجہ سراءبرادری گمشدہ بچوں کی تلاش کیلئے سرگرداں

پاکستان میں خواجہ سراﺅں کی برادری گمشدہ بچوں کی تلاش میں پولیس کی مدد کررہی ہے، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں کے مطابق ہر سال صرف کراچی سے ہی چالیس ہزار بچے غائب ہوجاتے ہیں، جن کو بچانے کیلئے خواجہ سرا برادری بھی ہرممکن کوشش کررہی ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پاکستان میں اکثر خواجہ سرا بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ بچوں کے اغواءاور ٹریفکنگ کے حوالے سے کافی معلومات رکھتے
ہیں۔

بندیا رانا نے ان معلومات کے ذریعے گمشدہ بچوں کی تلاش کا خیال پیش کیا تھا۔

بندیا”ہمیں گمشدہ بچوں کی تصاویر مہیا کی جاتی ہیں، جنھیں ہم مختلف علاقوں میں رہنے والے خواجہ سراﺅں تک پہنچادیتے ہیں، ہم انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ اپنے ارگرد اس بارے میں بچے کی تلاش کریں اور اگر کوئی معلومات حاصل ہو تو ہمیں اطلاع دیں”۔

بندیا کے پاس ایسے دو ہزار خواجہ سرا ہیں جو یہ کام کررہے ہیں، گزشتہ برس کے دوران انھوں نے کراچی میں چالیس اغواءشدہ یا گم ہوجانے والے بچوں کو بازیاب کرایا،وہ اپنے اس کام پر بہت فخر محسوس کرتی ہیں۔

بندیا”ایک خواجہ سرا جس نے ایک گمشدہ بچے کی تلاش میں مدد کی، وہ اس وقت رونے لگا جب بچے کی ماں نے اپنے لعل کو گلے لگایا اور پیار کیا، وہ ملزمان کے خوف سے نہیں رو رہا تھا بلکہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار ملنے والے پیار اور احترام کی وجہ سے اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکا تھا”۔

بندیا اور ان کی ٹیم یہ کام گمشدہ بچوں کی تلاش کا کام کرنے والے گروپ روشنی فاﺅنڈیشن کیساتھ ملکر کررہی ہے، پروگرام آفیسر محمد علی اسے کامیاب شراکت داری قرار دیتے ہیں۔

علی”ہمارے ایک رضاکار خواجہ سراءنے ہمیں ایک اغواشدہ لڑکی کے بارے میں اطلاع دی کہ اسے ایک قحبہ خانے میں رکھا گیا ہے، اس خواجہ سراءنے ہمیں اس بچی کو تحفط دینے اور اپنی شناخت راز میں رکھنے کی درخواست کی، ہم نے اس مقام پر پولیس کیساتھ چھاپہ مارا اور نہ صرف وہ لڑکی بلکہ 12 سے 14 سال کی دیگر تین لڑکیوں کو بھی بازیاب کرایا”۔

تاہم ایسی کامیابی بہت کم ہی ملتی ہے، گزشتہ سال غائب ہونے والے بیس فیصد سے بھی کم بچوں کو بازیاب کرایا جاسکا ہے۔

بیشتر گم ہونے والے بچوں کا تعلق غریب علاقوں سے ہوتا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ غربت اور بڑے خاندان اس مسئلے کی اہم وجوہات ہیں۔

سندھ کے فلاحی امور کی وزیر روبینہ قائم خانی چاہتی ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی زیادہ بہتر دیکھ بھال کریں۔

روبینہ”والدین کو اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہئے، ہم سب ملکر ہی اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں”۔

مگر متعدد بچے ایسے ہیں جو اپنے والدین سے محروم ہیں، ایدھی ہومز پاکستان میں بے گھر بچوں کیلئے کام کرنے والا ادارہ ہے، ڈاکٹر ریحانہ اس ادارے کے مرکز کی انچارج ہیں، وہ خواجہ سراﺅں کی مدد سے گمشدہ بچوں کی تلاش کے پروگرام سے کافی متاثر ہیں۔

ریحانہ”یہ ایک مثبت خیال ہے، اگر ہم پاکستانی اپنے ذہن کو اس طرح کے اچھے خیالات کیلئے استعمال کریں تو ہم بہت کچھ تبدیل کرسکتے ہیں، اگر ہم منفی راستے پر چلتے رہے تو کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا”۔

بندیا اور ان کے دوست اپنے کام کیلئے کوئی معاوضہ نہیں لتے، وہ تو بس اپنی کوششوں کے بدلے میں احترام کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔