(Young Burmese long for brighter future) برمی نوجوان روشن مستقبل کیلئے سرگرداں

(Young Burmese long for brighter future) برمی نوجوان روشن مستقبل کیلئے سرگرداں

(Burma refugees part 3) برمی پناہ گزین کیمپ پارٹ تھری

برمی حکومت نے رواں برس اپنے بجٹ کا چار فیصد حصہ تعلیم کے شعبے پر مختص کیا ہے، جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں دوتہائی زائد ہے، تاہم تھائی سرحد پر واقع پناہ گزین کیمپوں میں مقیم افراد اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند نظر آتے ہیں۔

ساٹھ کے لگ بھگ طالبعلم گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے پر جشن منانے میں مصروف ہیں۔یہ تقریب تھائی لینڈ کے سرحدی علاقے Mae Hong Son میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ میں ہورہی ہے۔ یہ طالبعلم اپنے ثقافتی گیت گانے میں مصروف ہیں۔تاہم Joseph Nor کیمپ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ پرامید نہیں۔

Joseph Nor(male)”برمی فوجی ہمیشہ دیہات میں آکر مال برداری کیلئے لوگوں کو پکڑ لیتے تھے۔ وہ طالبعلموں سمیت سب کو اٹھا کر لے جاتے تھے، تاہم اس وقت میں اپنے اسکول میں چھپ جاتا تھا۔ میں فوجیوں سے بچنے کیلئے سوتا بھی دھان کے کھیتوں میں تھا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں کیمپ میں ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں مگر مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنا تعلیمی سلسلہ مزید آگے بڑھا سکوں گا”۔

چار ہزار بچے اس پناہ گزین کیمپ میں زیرتعلیم ہیں، مجموعی طور پر یہاں دس سے زائد اسکول چلائے جارہے ہیں، اور یہاں سے ہر سال سو بچے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرکے نکلتے ہیں۔Myar Reh ایک اسکول کے پرنسپل ہیں۔

Myar Reh(male)”ہم لوگوں کا طرز زندگی بہتر بنانا چاہتے ہیں، خصوصاً ایسے جن کے بنیادی حقوق چھین لئے گئے ہیں۔ ہم انہیں ایسی تربیت دے رہے ہیں کہ جب وہ برما واپس جائیں تو آگے بڑھ سکیں۔ ہم انہیں سیاست کی تربیت دے رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنے ملک میں جمہوری معاشرے کی تشکیل کیلئے کام کرسکیں”۔

ان اسکولوں میں نشستیں محدود ہیں، جو کیمپ میں موجود بچوں کی مجموعی تعداد کیلئے ناکافی ہے۔ اب چونکہ عالمی اداروں نے امداد دینے کا سلسلہ کم کردیا ہے، اس وجہ سے ان اسکولوں کو مالی مسائل کا بھی سامنا ہے۔کیمپ میں تعلیمی امور سنبھالنے والے ادارے کو اس سال بیس فیصد فنڈز کم ملے ہیں۔ Shwe Htoon اس ادارے کے ڈائریکٹر ہیں۔

Shwe Htoon(male)”اس وقت چونکہ برما کی سیاسی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور یورپ اقصادی کساد بازاری

کا شکار ہے، اس لئے عالمی امدادی اداروں کی جانب سے کم مدد فراہم کی جارہی ہے، اس چیز نے ہمیں بری طرح متاثر کیا ہے”۔

اس کیمپ میں اپنی 29 سالہ زندگی کا بڑا حصہ گزارنے والی Lo Reh Shan کو کبھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا۔

Lo Reh Shan(female)”مجھے اپنی پوری زندگی کے دوران اسکول میں رسمی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ہم ہمیشہ ایک جگہ سے دوسری جگہ برمی فوجیوں سے بچنے کیلئے بھاگتے رہے، میں نے اس پناہ گزین کیمپ مےںآکر اسکول جانے کا سوچا تھا مگر مالی مشکلات اور دیگر وجوہات کی بناءپر ایسا نہیں ہوسکا”۔

Matiyalayیہاں موجود اسٹوڈنٹ یونین کے سربراہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ان کی یونین، کیمپ کے طالبعلموں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔

Matiyalay(male)”ایک پناہ گزےن ہونے اور کسی ریاست سے محرومی کے باعث ہم یونیورسٹی جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے، کیونکہ ہمارے پاس سفری دستاویزات نہیں، یہاں متعدد طالبعلم ایسے ہیں جو یونیورسٹی میں داخل ہونے کے اہل ہیں، مگر ان کی راہ میں متعدد مشکلات حائل ہیں۔ متعدد نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر جب انہیں کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی تو وہ منشیات استعمال کرنے لگتے ہیں، یا کم عمری میں ہی شادیاں کرلیتے ہیں”۔

والی بال کھیلنے میں مصروف 23 سالہ Joseph Nor مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات بتارہے ہیں۔

Joseph Nor(male)”اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں بچوں کو تعلیم دوں گا، تاہم یہ میرا شوق نہیں۔ میں سیاست میں حصہ لینا چاہتا ہوں تاکہ اپنے لوگوں کی مدد کرسکوں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *