Women Universities وومین یو نیورسٹیز

تعلیم یافتہ ماں ہی آنے والی نسلوں کی بہترین تربیت کر سکتی ہے،گزرتے وقت کے ساتھ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے نظریات میں تبدیلی آئی ہے دوسری جانب لڑکیوں میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے،لیکن مخلوط تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو پڑھانے کے معاملے میں والدین کے خیالات میں بہت زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔موجودہ دور میں بھی والدین بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کی اجازت صرف اس وجہ سے نہیں دیتے ہیں کہ قدامت پسند گھرانوں میں مخلوط تعلیمی اداروں کے ماحول کو پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔
ملک بھر میں کئی لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش اس لئے پوری نہیں کر پاتی ہیں کہ گھر والوں کی جانب سے اُنہیں کو ایجوکیشن میں پڑھنے کی اجازت نہیں ملتی اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں خواتین یونیورسٹیز کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے خصوصاًمیڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں تو یہ تعداد محض گنتی کی ہے!
جناح یونیورسٹی برائے خواتین کے شعبہ ماس کمیونکیشن میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسراپنے فرائض انجام دینے والی صائمہ فرید کا کہنا ہے:

کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں رہنے والی اورچھوٹے قصبوںسے آنے والی طالبات کیلئے ملک کی چند خواتین یونیورسٹیوں تک رسائی حاصل کرناانتہائی مشکل ہے جبکہ ٹرانسپورٹ کے مسائل ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں،جناح یونیورسٹی برائے خواتین سے منسلک صائمہ کا اس حوالے سے کہنا ہے :

دوسری جانب یہ تاثر بھی پایا جا تا ہے کہ خواتین یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں میں پروفیشنل رجحان اور خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے:

سماجی اور نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو طالبات خواتین اساتذہ کے ساتھ زیادہ آرام دہ محسوس کرتی ہیںاور تعلیمی سفر کے دوران پیش آنے والے ذاتی اور گھریلو مسائل آسانی سے ڈسکس کر سکتی ہیں،اس بارے میںجناح یونیورسٹی برائے خواتین کے شعبہ ماس کمیونکیشن میں تعلیم حاصل کرنے والی فریال بلال کا کہنا ہے :

جناح یونیورسٹی میںپڑھنے والی فریال اور اِ س جیسی کئی لڑکیاں ہیں جو تعلیم اور کریئر کے معاملے میں تاحال سماجی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں:

صحت ، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولتیں مرد و خواتین دونوں کو یکساں طور پر میسر ہونی چاہئیں۔خواتین میں تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ افزائی اور اعلیٰ تعلیم کی راہ میں درپیش مسائل کے خاتمے کیلئے ہر شہر میں زیادہ سے زیادہ خواتین یونیورسٹیاں قائم کی جانی چاہئیں،میڈیکل، انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی اعلیٰ تعلیم کیلئے خواتین یونیورسٹیز کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ معاشی و اقتصادی صورتحال کے پیش نظر ہر شعبے میں مردوں کے مساوی تعداد میں خواتین پروفیشنلز کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، اس سلسلے میں خواتین یونیورسٹیز میں ایسی ورک شاپس کا انعقاد کیا جانا چاہئیے جو مستقبل کی پروفیشنلز کیلئے اُنکی عملی اور پیشہ ورانہ زندگی میں زیادہ سے زیادہ معاون ثابت ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *