پاکستان سمیت آج پوری دنیامیں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد دنیا کے مختلف معاشروں میں خوا تین کیساتھ ہونے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ خواتین کو ان کے بنیادی سماجی، سیاسی اور معاشی حقوق کے بارے میں روشناس کروانا ہے۔ خواتین کہیں تشدد کا سامنا کررہی ہیں تو کہیں تعلیم ور صحت کے شعبے میں نا انصافی ان کامقصدر بن چکی ہے۔ اس وقت عالمی ناخواندہ آبادی کا دو تہائی بدستور خواتین پر مشتمل ہے اور بیشتر ممالک میں خواتین کے لئے تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ خواتین کی تعلیمی بدحالی کا اندازہ یونیسکو کے ان اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ افریقی اور عرب خطوں میں ہر دوسری جبکہ ایشیائی خطے میں ہر 5 میں سے 3 خواتین ناخواندہ ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں خواتین تعلیمی شعبے میں نمایاں مقام حاصل نہ کرسکیں اور ملک میں صرف 45 جبکہ بھارت میں 46.5 فیصد خواتین ناخواندہ ہیں۔ ملک میں خواتین کی خواندگی کے حو الے سے پنجاب 51 فیصد خواندہ خواتین کے ساتھ بدستور سرفہرست ہے جبکہ 42.5 فیصد کے ساتھ سندھ دوسرے، 30.5 کے ساتھ خیبر پختونخوا تیسرے اور 25 فیصد کے ساتھ بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتیوں کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے غذائی قلت کے کل شکار افراد کا 60 فیصد خواتین پر مشتمل ہے۔
