برما کی ممتاز ترین یوینیورسٹی کے دروازے دو دہائیوں کے بعد ایک بار پھر گریجویشن کرنے والے طالبعلموں کیلئے کھول دیئے گئے ہیں، ینگون یونیورسٹی کی اس نئی پالیسی کے بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
اُنیس سو کی احتجاجی تحریک کے بعد برما میں جمہوری تحریک کی نرسری بننے والی یونیورسٹی کے دروازے ایک بار پھر طالبعلموں کیلئے کھول دیئے گئے ہیں، ینگون یونیورسٹی ہمیشہ سے شہریوں کی بے چینی ظاہر کرنے کا مرکز رہی ہے، جب ایک سال قبل امریکی صدر باراک اوبامہ نے یہاں خطاب کیا تو وہ اسی جگہ کھڑے ہوئے جہاں ماضی میں برطانوی راج کے خاتمے کیلئے شروع ہونے والی تحریک کے آغاز کا اعلان ہوا تھا۔
باراک اوبامہ :۔یہ وہی جگہ ہے جہاں اونگ سین تحریک آزادی کی قیادت سے پہلے ایک جریدے کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے تھے، یہ وہی جگہ ہے جہاں اوو تھینٹ نے دنیا کو سیکھایا کہ کس طرح اقوام متحدہ کو چلایا جانا چاہئے”۔
اونگ سین کو جدید برما کا بانی سمجھا جاتا ہے جبکہ اوو تھینٹ اقوام متحدہ کے تیسرے سیکرٹری جنرل تھے،اُنیس سو اٹھاسی میں فوجی حکومت کیخلاف اس یونیورسٹی کے طالبعلموں نے ایک بڑی احتجاجی تحریک شروع کی، جسکے جواب میں حکومت نے یہ یونیورسٹی ہی بند کردی، اور اُنیس سواٹھاسی کے بعد پہلی بار یونیورسٹی میں گریجویشن کرنے والے طالبعلموں کو داخلہ دینے کا آغاز ہوا ہے۔کو کو گئی کو یاد ہے کہ 1988ءمیں یونیورسٹی کیمپس کا ماحول کیسا تھا، انھوں نے اس وقت فوجی حکمرانی کیخلاف تحریک کی قیادت کی تھی۔
کو کو گئی”ہمارے سیاسی رہنماءاور معروف عالمی عالم ینگون یونیورسٹی سے نکلے ہیں، ہم اس روایت کا احیاءچاہتے ہیں”۔
اب نوجوان اس تاریخی یونیورسٹی میں پڑھنے کا خواب پورا کرسکیں گے مگر یہ آپشن ہر ایک کیلئے دستیاب نہیں۔ابھی صرف تین سو طالبعلموں کو داخلے کی پیشکش کی گئی ہے۔ میو مینت تن نے حال ہی میں اچھے نمبرز کیساتھ انٹرمیڈیٹ کیا ہے اور اب وہ اس یونیورسٹی میں داخلے کے حوالے سے پرجوش ہے۔
میو مینت تن”جب میں نے انٹر میں داخلہ لیا اس وقت سے ہی میں ینگون یونیورسٹی میں پڑھنے کا خواہشمند تھا، اب میں خوش ہوں کہ میرا خواب پورا ہونے والا ہے”۔