پا کستان سمیت آ ج پو ری دنیا میں ڈا ک کا عا لمی دن منا یا جا رہا ہے اقوا م متحدہ کی جا نب سے منا ئے جا نے والے پوسٹ کے عالمی دن کا مقصد دنیا بھر میں خطوط و روا بط اور پو سٹ کی اہمیت کو اجا گر کر نا ہے دنیا میں پو سٹ کا عالمی دن 9 اکتو بر 1980 کو منا یا گیا تھا ۔
مو جو دہ عہد فیکس ، ای میل اور ایس ایم ایس کا سمجھا جا تا ہے لیکن قلم سے لکھے گئے محبت کے الفا ظ آ ج بھی اپنی جدا شنا خت رکھتے ہیں کاغذ پر لکھے الفا ظ کہنے کو سا کت و جا مد ہو تے ہیں لیکن ان میں دنیا جہا ں کے رنگ ، ذا ئقے ، لمس ، خو شبو ئیں اور جذبے حر کت کرتے ہیں ۔
یو نیورسل پوسٹل یو نین کے مطا بق دنیا میں پو سٹ کئے جا نے والے کل خطو ط اور دیگر پو سٹ آ ٹمز میں سے صرف پا نچ سے گیا رہ فیصد عا م افراد پو سٹ کرتے ہیں جبکہ اسی فیصد ڈا ک کا رو با ری اور حکومتی امو ر سے متعلق ہو تی ہے یہ امر قا بل ذکر ہے کہ دنای میں پو سٹ کئے جا نے والے کل خطو ط اور دیگر پو سٹ آ ئٹمز میں سے بیا سی فیصد صنعتی مما لک میں پو سٹ کئے جا تے ہیں دوسرے نمبر پر دس فیصد ایشیا ءاور بحرا لاکا ہل میں چا ر فیصد یو رپ ڈھا ئی فیصد لا طینی امریکہ اعشا ریہ پا نچ فیصد افریقہ جبکہ اعشا ریہ چا ر فیصد عرب مما لک میں پو سٹ کئے جا تے ہیں اگر دنیا میں خط بھیجنے کا فی کس جا ئزہ لیا جا ئے تو دنیا میں اوسط فی کس 66 خطو ط اور پو سٹ آ ئٹمز بھیجے جا تے ہیں ۔
عشرے ڈیڑھ عشرے پہلے تک شادی بیاہ، خوشی غمی یا کسی اور اہم تقریبات میں شرکت کیلئے رشتے داروں اور دوستوں کو دعوت نامے بذریعہ خط یا ٹیلیگرام دیئے جاتے تھے۔ امتحانی رزلٹ بھی ڈاکیا تقسیم کرتا تھا۔ڈاکیا بھی اس وقت تک زرلٹ نہیں دیتا تھا جب تک منہ میٹھا نہ کرلیتا۔اب رابطوں کیلئے موبائل فون، انٹرنیٹ ہے، جبکہ منی آرڈر کی جگہ ہنڈی، فارن ایکسچینج اور منی ٹرانسفر کمپنیوں نے لے لی ہے۔خط کی جگہ ای میل آگیا ہے، سو ڈاکئے کا انتظار کون کرے۔گزشتہ 4برسوں کے دوران دنیا بھر میں خطوط کی ترسیل میں 15جبکہ پاکستان میں 6فیصد کمی ہوئی۔