آٹھ اکتوبر 2005 کا دن کوئی بھی پاکستانی کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ یہ وہ دن تھا جب وادی کشمیر اور خیبرپختونخواہ کے مختلف حصے زمین کی کروٹ سے تہہ و بالا ہوکر رہ گئے تھے۔
پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت قرار پانے والے 7.6 کی شدت کے زلزلے نے اسی ہزار سے زیادہ لوگوں کوہلاک اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ اس زلزلے کا مرکز اسلام آباد سے اسی کلو میٹر کے فاصلے پر تھا مگر اس کا اثر افغانستان اور مغربی بنگلہ دیش تک دیکھا گیا۔
آٹھ اکتوبر سے ستائیس اکتوبر تک پاکستان کے مختلف حصوں میں ایک ہزار سے زیادہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیئے گئے۔ ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک کی قدرتی آفات میں سے یہ سب سے بڑی آفت ہے، جبکہ اسے دنیا کے بیس بڑے زلزلوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔
سب سے زیادہ نقصان آزاد کشمیر اور خیبرپختونخواہ صوبہ تھا، جہاں مالی و جانی دونوں طرح کے شدید نقصانات ہوئے ہیں۔
اس زلزلے سے انہتر ہزار سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے تھے اور قریباً دس ہزار بچے معذور ہو گئے۔
زلزلے کے بعد عالمی برادری نے اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی تاہم بہت سے متاثرین تاحال بے گھر یا انتہائی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
زلزلے کے بعد سے تقریباً دس لاکھ کیمپ بے گھر خاندانوں کو مہیا کیئے گئے ہیں اور لاکھوں کو تارپولین اور پلاسٹک کی چادریں دی گئی ہیں تا کہ بارش اور برف باری سے بچا جا سکے۔
سب سے زیادہ نقصان زدہ علاقوں میں بالاکوٹ بھی شامل ہے جسے زلزلے نے قریباً ختم ہی کر دیا تھا۔ یہ شہر زلزلوں کی زد میں ہے اور ابھی بھی خطرے سے باہر نہیں ہے اس لیئے حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ بالاکوٹ کے چالیس ہزار شہریوں کو باکریال کے علاقے میں بسایا جائے گا تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
اس زلزلے نے چھ ہزار سے زیادہ سکولوں اور کالجوں کو تباہ کر دیا، جن میں سے بیشتر اب تک تعمیر نہیں ہوسکے ہیں جس کے باعث متاثرہ علاقوں کے بیشتر بچے تعلیم کی نعمت سے محروم ہیں۔