(Indonesia welcomes Rohingya refugees) برمی مسلمانوں کا انڈونیشیاءمیں خوش آمدید

 

دیگر ایشیائی ممالک میں برمی نژاد مسلمانوں کیلئے دروازے بند کئے جارہے ہیں، تاہم انڈونیشیاءنے برما میں تشدد کے باعث اپنے گھر بار چھوڑنے والے Rohingya افراد کیلئے دروازے کھل دیئے ہیں۔

انڈونیشین حکومت کے مطابق کشتیوں کے ذریعے گزشتہ چند برس کے دوران چارسو کے لگ بھگ Rohingya مسلمان انڈونیشیاءپہنچے ہیں۔ ان میں سے سو کو Sumatera کے ایک جزیرے Medan میں ٹھہرایا گیا ہے۔ 25 سالہ محمد نور نے یہ سفر تنہا کیا ہے۔

نور(male) “ماہ رمضان کے دوران جب بھی میں دعا کرتا ہوں تو اپنے والدین کو یاد رکھتا ہوں۔ کوئی شخص بھی اس طرح کی زندگی کو پسند نہیں کرسکتا”۔

اس نے چار برس قبل برما چھوڑا تھا، جس کے بعد وہ مدد کی تلاش میں بنگلہ دیش، تھائی لینڈ اور ملائشیاءپہنچا، مگر کچھ بھی حاصل نہ کرسکا۔ دو برس قبل وہ انڈونیشیاءپہنچا اور ابھی وہ ایک تارکین وطن کیلئے قائم حراستی مرکز میں مقیم ہے۔ اسے International Organisation of Migration یا آئی او ایم کی جانب سے ماہانہ اخراجات کیلئے ڈیڑھ سو ڈالرز اور خوراک فراہم کی جاتی ہے۔اس وقت محمد نور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے پناہ گزین قرار دیئے جانے کا منتظر ہے، اسے توقع ہے کہ ایک دن وہ آسٹریلیا میں سیاسی پناہ حاصل کرسکے گا۔ Muhammad Anshor انڈونیشین وزارت خارجہ کے ہیومین رائٹس ڈیسک کے ڈائریکٹر ہیں۔

 (male) Muhammad Anshor “ہم رجسٹریشن اور تصدیقی عمل میں مدد فراہم کررہے ہیں، تاکہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین ان افراد کو پناہ گزین قرار دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرسکے۔ ہم نے اس عمل کی رفتار کو بڑھا دیا ہے کیونکہ دیگر ممالک نے Rohingya برادری کے افراد کو شہریت دینے سے انکار کردیا ہے”۔

Rohingya نژاد یہ مسلمان صدیوں سے برما میں آباد ہیں، مگر برمی حکومت انہیں غیرقانونی تارکین وطن قرار دیتی ہے۔ برما کے پڑوس میں واقع بنگلہ دیش بھی اس برادری کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، اور حال ہی میں بنگلہ دیشی حکومت نے امدادی گروپس کو بھی ان بے کس افراد کی مدد سے روک دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈونیشین صدر Susilo Bambang Yudhoyono کا کہنا ہے کہ ہم برمی مسلمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

 (male) Susilo Bambang Yudhoyono “ایشیاءکے متعدد ممالک نے Rohingyas پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، تاہم انڈونیشیاءانہیں خوش آمدید کہتا ہے۔ ہم اس وقت سینکڑوں Rohingya پناہ گزینوں کو رہائشی سہولیات فراہم کرچکے ہیں، ہم اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی معاونت کررہے ہیں۔ ہم ان افراد کو پناہ گزین کا اسٹیٹس دیکر کسی تیسرے ملک روانہ کرنے کیلئے بھی تیار ہیں”۔

انڈونیشین صدر نے برمی قیادت کو خط ارسال کرکے مغربی برما میں خونریز فسادات پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان فسادات میں اب تک درجنوں مسلمان ہلاک کئے جاچکے ہیں۔انڈونیشین عوام بھی برمی مسلمانوں کی مدد کیلئے پیش پیش ہیں۔ Rizal Fahrudin Rahman، انڈونیشین مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان ہیں۔

 (male) Rizal Fahrudin Rahman “ہم نے 98 ڈالر صرف دو گھنٹے میں جمع کرلئے، ہم یہ رقم ماہ رمضان کے دوران انڈونیشیا میں موجودRohingya مہاجرین کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے خرچ کریں گے، اس کے علاوہ ہم کچھ رقم برما میں موجود Rohingya برادری کو بھی ارسال کریں گے”۔

یہ امداد صرف مسلم گروپس کی جانب سے ہی فراہم نہیں کی جارہی۔ مغربی جاوا کے Yasmin and Filadelfia Church نے صدارتی محل کے باہر ان برمی مسلمانوں کیلئے دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا۔ Bona Sigalingging چرچ کے ترجمان ہیں۔

 (male) Bona Sigalingging “انڈونیشین آئین انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، ہم نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن کی بھی توثیق کررکھی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ Rohingya برادر ی کے خلاف یہ غیرمنصفانہ سلوک جلد ختم کردیاجائے گا”۔

تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انڈونیشیاءکے ساتھ ساتھ جنوب مشرقی ممالک کی تنظیم آسیان کو بھی Rohingya برادری کی مدد کیلئے کچھ کرنا چاہئے۔Yuyun Wahyuningrum، ایک سرگرم سماجی کارکن ہیں۔

 (female) Yuyun Wahyuningrum “آسیان کے کسی رکن ملک میں تنازعہ ہوتا ہے تو وہاں کے شہری دیگر آسیان ممالک میں پناہ لے لیتے ہیں، ہمیں دس رکن ممالک میں مردم شماری کرانی چاہئے اورتعاون کا فریم ورک تیار کرنا چاہئے۔ اس طرح ہم آسیان ممالک کے ہر شہری کو یہ ضمانت دے سکیں گے کہ وہ جس ملک کا بھی رہنے والا ہے آسیان رکن ممالک میں اسے یکساں حقوق ملیں گے۔ یہ خطے میں تعاون بڑھانے کیلئے اہم امر ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *