World Day Against Child Labour بچوں سے مشقت کے خاتمے کا عالمی دن

پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے مہذب معاشرے میں آج بھی بچے سڑکوں پر بھیگ مانگنے اور جبری مشقت کا شکار ہیں۔
پاکستان میں ایک طرف کھربوں روپے کے بجٹ پیش کئے جا رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان میں لاکھوں بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی واضح اعداد و شمار نہیں ہیں اور 1996ءکے جاری اعداد و شمار اب تک حتمی سمجھے جاتے ہیں، جس کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچے چائلڈ لیبر فورس کا حصہ ہیں، تاہم غیر سرکاری تنظیموں کے مختلف سروے کے مطابق پاکستان میں چائلڈ لیبر فورس کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
پاکستان میں 95لاکھ مزدور بچوںمیں سے 25 فیصد خطرناک ماحول میں کام کرتے ہیں۔ جہاں انہیں مختلف دشواریوں اور بیماریوں کا سامنا رہتا ہے۔
10 فیصد محنت کش بچے اپنے گھر والوں تک کو نہیں جانتے۔ ملک میں جبری مزدور بچوں کے حوالے سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے اور چائلڈ لیبر میں شامل 57 فیصد بچوں کا تعلق پنجاب سے ہے،جبکہ 32 فیصد کے ساتھ خیبر پختونخواہ دوسرے، 10 فیصد کے ساتھ سندھ تیسرے اور صرف ایک فیصد کے ساتھ بلوچستان چوتھے نمبر پر ہے۔
پاکستان میں 73 فیصد لڑکے اور 27 فیصد بچیاں چائلڈ لیبر فورس کا حصہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ آئی ایل او کے مطابق دنیا میں21 کروڑ 50 لاکھ بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں، ان میں سے 74 فیصد مزدور بچے دیہات میں ہیں جبکہ 26 فیصد چائلڈ لیبر شہری علاقوں میں ہے۔
عالمی سطح پر 6 کروڑ 80 لاکھ کے ساتھ سب سے زیادہ جبری مشقت پر مجبور بچوں کا تعلق افریقہ سے ہے، جہاں ہر تیسرا بچہ چائلڈ لیبر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *