(Dalit newspaper breaks new ground) دلت اخبار کی اشاعت

 

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست بھی کہا جاتا ہے جہاں متعدد میڈیا ادارے کام کررہے ہیں، مگر بھوپال شہر سے شائع ہونے والے اخبار بال کی کھال کی بات ہی الگ ہے۔اس اخبار میں بھارت میں کمتر سمجھی جانے والی ذات دلت(Dalit) کے امور پر توجہ دی جاتی ہے۔

Suresh Nandmehar دن میں جوتے مرمت کا کام کرتے ہیں، جہاں انہیں آرام کا بالکل بھی وقت نہیں ملتا۔

مگر اسکول سے بھاگ جانے والے سریش 2003ءمیں ایک اخبار کے ایڈیٹر بن گئے، انھوں نے اپنا پندرہ روزہ اخبار بھوپال میں موچیوں کے زبردست احتجاج کے بعد جاری کیا، اس احتجاج کے دوران موچی برادری کی جانب سے حکومت سے زمین فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بھارت میں تمام موچی دلت برادری یا نچلی ذات سے تعلق رکھتے ہیں، چونکہ اس برادری کو ناپاک سمجھا جاتا ہے، اس لئے یہ کام ان کیلئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ اس برادری کو سماجی اور اقتصادی استحصال کا سامنا ہوتا ہے، جس سے نمٹنے کیلئے حکومت کی جانب سے کئی اقدامات بھی کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک موچیوں کو مفت زمین دینا بھی ہے۔

سریش  (male) “ء2003میں موچیوں نے بھوپال کے علاقے روشن پورہ میں دھرنا دیا، تاکہ حکومت پر دباﺅ ڈالا جاسکے۔ یہ احتجاج 27 روز تک جاری رہا، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بھوپالی میڈیا میں اس معاملے پر توجہ ہی نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ہمارے لئے مختص زمین میں توسیع سے انکار کردیا”۔

اگرچہ بھارتی آئین کے تحت دلتوں کو امتیازی سلوک سے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ موچی، خاکروب اور ایسے ہی چھوٹے کام اس برادری کیلئے مختص ہے، اور انہیں اکثر مندروں یا اونچی ذات کے ہندوﺅں کے گھروں میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ اس چیز نے سریش کو اپنا اخبار نکالنے کیلئے تیار کیا۔

سریش(male) “میڈیا کی جانب سے ہمیں نظرانداز کئے جانے کے عنصر نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی، اور میں نے اپنا اخبار جاری کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ دلتوں یا دیگر پسماندہ ذاتوں کے دکھوں اور حقوق کی آواز کو سامنے لایا جاسکے”۔

اس اخبار کا نام بال کی کھال رکھا گیا، سریش یہ نام رکھنے کی وضاحت کررہے ہیں۔

سریش(male) “میرے پاس اخبار کی اشاعت کے اخراجات کیلئے رقم نہیں تھی، اس لئے میں نے اپنے ایک حجام دوست سے مدد طلب کی، میں نے اسے کہا کہ میں ایک موچی ہوں اور میں کھال یا لیدر کا کام کرتا ہوں، جبکہ تم بال کا کام کرتے ہوں، تو آﺅ ہم دونوں ملکر ایک اخبار نکالیں۔ اس طرح ہم نے اخبار کا نام رکھ دیا”۔

سریش کے ایک صحافی دوست نے بھی اس سلسلے میں مدد فراہم کی، مگر کئی برس تک سریش ہی لکھنے، تدوین، پرنٹنگ اور اشاعت کا کام تنہا کرتے رہے۔اب ان کے پاس پانچ رپورٹر ہیں، مگر مالی حالات بہتر

نہ ہونے کی وجہ سے یہ رپورٹر معاوضے کے بغیر کام کررہے ہیں۔ یہ اخبار دلت برادری کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ سریش اس بارے میں بتارہے ہیں۔

سریش(male) “جب میں نے اپنا منصوبہ اپنی برادری کے سامنے رکھا تو انھوں نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ تاہم طویل عرصے کی جدوجہد کے بعد میں انہیں قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ یہ اخبار بااثر اور امیر افراد کے لئے شائع نہیں کیا جارہا”۔

اب اس اخبار کی اشاعت آٹھ ہزار تک جاپہنچی ہے، اور دلت برادری کے متعدد افراد اسے اپنا نگہبان سمجھنے لگے ہیں۔

سریش(male) “میں نے بھوپال کے متعدد دیہات کا پیدل دورہ کیا اور وہاںدلتوں کے بارے میں شعور اجاگر کیا، اس کے علاوہ ان مقامات سے دلتوں کی کہانیوں کو حاصل کیا، جن میں حکومتی افسران کے مظالم کو سامنے لایا گیا”۔

امیتابھ پانڈے اس اخبار کے قاری ہیں، حیرت انگیز طور پر دلت نہیں بلکہ اونچی ذات یعنی برہمن برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

امیتابھ(male) “بہت کم پیسوں کے ساتھ اس طرح کے اخبار کی اشاعت واقعی قابل تحسین امر ہے۔ سریش واقعی اپنی برادری کی خدمت کررہے ہیں، نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور ان کے مسائل کو بہت کم میڈیا میں جگہ ملتی ہے۔ سریش نے اپنا اخبار شائع کرکے اچھا کام کیا ہے،اس کام کو جاری رکھنے کیلئے ہمیں ان کی حمایت کرنی چاہئے”۔

سریش اب اپنے قارئین کے ردعمل پر خوش ہیں۔

سریش(male) “میں اب ہفت روزہ اخبار شروع کرنے کا خواب دیکھ رہا ہوں، میرے پاس فی الحال اس کیلئے رقم نہیں مگر میں مستقبل میں اس خواب کو ممکن بنانا چاہتا ہوں۔ بال کی کھال اس ملک میں دلتوں کی آواز بنے گا۔میرے خیال میں جو لوگ میرا اخبار پڑھتے ہیں وہ دلتوں کو درپیش مسائل کا احساس کرسکتے ہیں۔ میں اس سلسلے میں حکومت کی مدد چاہتا ہوں، جو وہ سرکاری اشتہارات میرے اخبار میں شائع کراکے کرسکتی ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *