پاکستان سمیت آج ساری دنیا میں دماغی سرطان یابرین ٹیومر کی بیماری سے آگاہی کا دن منایا جا رہا ہے،جس کا آغاز 9 برس قبل جرمن برین ٹیومر ایسوسی ایشن نے مرض میں مبتلا مریضوں ا ور ان کے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کیا تھا۔ اس بیمار ی میں انسانی دماغ میں خلیات کی موت اور حیات کا عمل اس طرح سے الٹ جاتا ہے کہ نئے خلیات تو تواتر کے ساتھ بنتے رہتے ہیں،لیکن پر انے مرتے نہیں، یوںخلیات، ٹشوز کا ایک ڈھیر بنادیتے ہیں جو ٹیومر یا دماغ کی رسولی کے نام سے جانا جاتا ہے۔120 اقسام والی اس بیماری کی دو بڑی اقسام میں ایک Benginبرین ٹیومرہے، جس پر قابو پایا جاسکتا ہے، جبکہ دوسری تیزی سے پھیلنے و الی قسم Maligant ٹیومرکینسر کے خلیات ہوتے ہیں اور یہ دماغ کے دیگر ٹشوز بلکہ کبھی کبھار ریڑھ کی ہڈی میں بھی سرایت کرجانے کی صلاحیت کے باعث زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ایک اندا زے کے مطابق پاکستان میں برین ٹیومرکے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 12 ہزار سے زائد کا اضافہ ہورہا ہے۔
یوں تو برین ٹیومر کسی بھی عمر میں حملہ آور ہوسکتا ہے لیکن عموماً یہ 35 سال سے زائد عمر کے افر اد میں پایا جاتا ہے۔طبی ماہرین نے برین ٹیومر کی سب سے بڑی وجہ موروثی طور پر جین کا ایک سے دوسری نسل کو منتقل ہونا قرار دیاہے۔اس کے علاوہ سی ٹی ا سکین ٹیسٹ اورآلودگی بھی مرض کی ایک وجہ ہے ۔اس مرض کا علاج ٹیومر کی دماغ میں موجودگی کے مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے سرجری، ریڈیئیشن تھراپی اور کیموتھراپی سے کیا جاتا ہے۔ برین ٹیومر کی علامات میں مسلسل سردرد ،متلی، آواز بصارت، سماعت، رویہ، شخصیت یا توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت میں تبدیلی، توازن برقرار رکھنے اور چلنے میں مشکلات، یادداشت برقرار رکھنے میں مشکلات، پٹھوں کا پھڑکنا اور بازو یا ٹانگ میں جھرجھری محسوس ہونا شامل ہیں۔