Ethnic Languages to be Taught in Burmese Schools – برمی اسکولوں میں مقامی زبانوں کی تعلیم

چالیس برسوں میں پہلی بار برمی اسکولوں میں مقامی زبانوں میں بھی تعلیم دی جانے لگی ہے، رواں سال جون سے مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کاچن برادری کے یہ بچے ریاست کاچن کے علاقے میتکیانا کے نواح میں واقع اسکول میں برمی زبان سیکھ رہے ہیں۔ آٹھ سالہ جی پین کا کہنا ہے کہ اسے اسکول میں زبان سے عدم واقفیت پر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

جی پین”میری سہلیاں اور مجھے اسکول کے مضامین کو سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے کیونکہ ہمیں برمی زبان سمجھ نہیں آتی، جس پر اساتذہ ہمیں مارتے ہیں۔ اسی وجہ سے میری متعدد سہلیوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا ہے”۔

انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ برما بھر میں ساٹھ فیصد بچے پرائمری تعلیم زبان کی مشکلات کی وجہ سے مکمل نہیں کرپاتے، خصوصاً قبائلی علاقے میں صورتحال زیادہ بدتر ہے۔ برما میں آٹھ بڑے گروپس موجود ہیں، جن میں برمی کے نام سے معروف گروپ کو غلبہ حاصل ہے۔جب فوجی جنرل  اقتدار میں آئے تو برمی زبان کو سرکاری و قومی زبان کی حیثیت دیدی گئی، جبکہ اسکولوں میں علاقائی زبانوں میں تعلیم دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔

دی مون لینگو ئیج ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے والی این جی او ہے، جس کے تحت مختلف زبانوں کی تعلیم کی مفت کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

اس این جی او کے عہدیدارنائیں ماونگ توئی کا کہنا ہے کہ مقامی زبانوں کو سیکھنے سے متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

توئی”اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے آپ کو اپنی ثقافت اور ادب کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے، مختلف برادریوں کیلئے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنا ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے کیلئے بہت ضروری ہے، ورنہ یہ گروپ ختم ہوجائیں گے”۔

سولہ سالچن کا کاو کا تعلق مون قبیلے سے ہے۔

چن کا کاو”سرکاری اسکولوں میں اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے، گرما کی چھٹیوں میں اپنی زبان سیکھیں تو صرف ایک ماہ ہی اس کا موقع ملتا ہے، تاہم اسکولوں میں ہم ایک سال میں نو ماہ تک اسے سیکھ سکتے ہیں، اس لئے اسکولوں میں اس کی تعلیم زیادہ موثر طریقہ ہے”۔

رواں سال کے شروع میں حکومت نے ایک نیا تعلیمی منصوبہ متعارف کرایا، تاکہ ملکی تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جاسکے۔ اس مقصد کیلئے مقامی زبانوں کو پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے، تاکہ قبائلی افراد کو عوامی سطح پر اپنے جذبات کے اظہار کا موقع مل سکے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ علاقائی زبانوں کی یہ کلاسز اسکولوں کے اندر نہیں باہر سیکھایا جاتا ہے۔نائیں ماوونگ کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار زیادہ موثر نہیں۔

ماونگ”بچے صبح نو بجے سے سپ پہر تین بجے تک اسکولوں میں پڑھتے ہیں، اگر ہم انہیں تین بجے کے بعد مقامی زبان سیکھائیں گے تو یہ ان کے لئے بہت زیادہ بوجھ ہوگا، بلکہ میرے خیال میں تو یہ ان پر تشدد کے مترادف ہوگا۔ ہمیں معمول کے وقت کے اندر ہی مقامی زبانوں کی تعلیم دینی چاہئے”۔
ان کے خیال میں ان زبانوں کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔

ماوونگ”جب یہ بچے اسکول جاتے ہیں تو وہاں انہیں کوئی اور زبان بولنا پڑتی ہے، یعنی برمی زبان، انہیں اس نئی زبان میں پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے، کئی بار وہ اس زبان سے دلبرداشتہ یا خوفزدہ ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ےہ کہ متعدد بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ سبق سمجھ نہیں پاتے اور دیگر بچوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں”۔

نائیں موونگ توئی کا ماننا ہے کہ اگر لسانی گروپ اپنے ثقافت بچانے میں کامیاب رہے تو اس ملک میں اتحاد میں بڑھے گا۔

توئی)”سب کو مساوی حیثیت ملنی چاہئے، ہمیں کسی سے لسانی شناخت پر امتیازی سلوک نہیں کرنا چاہئے، مساوات کا بنیادی اصول کے تحت تمام اسکولوں میں مقامی زبانوں میں تعلیم دینے کی اجازت دی جانی چاہئے، کیونکہ ہم سب شہری ایک ملک کا حصہ ہیں”۔