ملائیشیاءمیں اپوزیشن کے تین اہم رہنماﺅں کو بغاوت کے قوانین کے تحت گرفتار کرلیا، جبکہ ایک طالبعلم کو بھی عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگانے پر ان دفعات کے تحت پکڑا گیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
آدم عادل کو ملائیشیاءکے سماجی حلقوں میں کافی جانا جاتا ہے، انہیں پہلی عوامی توجہ اس وقت ملی جب انہیں ایک سرکاری یونیورسٹی میں تعلیمی آزادی کے جھنڈا لہرانے پر معطل کردیا گیا۔
آدم”انکا کہنا ہے کہ میں نے یونیورسٹی کے قوانین 3 اور 4 کی خلاف ورزی کی ہے، میں نے یونیورسٹی کے نام کی توہین کی ہے اور عوامی زمین پر امن کو متاثر کیا ہے، انکا کہنا تھا کہ میں نے وزیراعظم کا بینر گرایا ہے، جس سے ملائیشیاءکی ساکھ متاثر ہوئی”۔
یونیورسٹی میں دوبارہ داخلے کے انتظار کے دوران آدم نے ملائیشیاءمیں صاف و شفاف انتخابات کیلئے ہونیوالی متعدد ریلیوں میں شرکت کی، جبکہ انھوں نے ریڈیو بینگسراتاما میں بھی بطور اناﺅنسر کام کیا۔
آدم”مجھے فعالیت سے محبت ہے، اس کی بنیاد یہ ہے کہ آپ اپنی مرضی سے کام کریں اور مسائل کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ کم از کم ہم ایسا تو کچھ کررہے ہیں جو عام افراد کیلئے فائدہ مند ہے”۔
تاہم حکومت آدم کی سرگرمیوں کو بالکل مختلف نظر سے دیکھتی ہے، اٹھارہ مئی کو اسے بغاوت ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا، کیونکہ اس پر الزام تھا کہ اس نے لوگوں کو حالیہ انتخابی نتائج کیخلاف احتجاج کی کال دی تھی۔
آدم”میں اس مرحلے پر تاریخ کی بات نہیں کرتا، میں آج کی بات کرتا ہوں، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہم مزید پانچ برس تک حکمران اتحاد یو ایم این او کی حکومت ختم ہونے کا انتظار نہیں کرسکتے۔ آج میں ہر ایک سے کہتا ہوں کہ خود کو منظم کرکے گلیوں میں نکلیں اور اقتدار پر قابض ہوجائیں”۔
آدم کو ان کے دفتر کے باہر سے گرفتار کرکے پولیس اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔ ایس آرو ٹیچلوان انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپ سو ارما سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایس اے”آدم کو پانچ دن تک گرفتار رکھ کر سزا دی گئی، اس سے کوئی تفتیش نہیں ہوئی، ہمارے خیال میں یہ مقدمہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے ہے”۔
انسانی حقوق کے مختلف گروپس نے اس پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا جس میں آدم کو رکھا گیا۔ عبدالحلیم آدم کے والد ہیں۔
عبدالحلیم”کیا ہماری جمہوریت واقعی حقیقی جمہوریت ہے؟ اگر ایک شخص چاہتا ہے کہ اس کی آواز سنی جائے اور پھر اس کے ساتھ ایسا ہوجائے تو کیا یہ واقعی جمہوریت ہے؟ میں ملائیشین عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ آنکھیں کھولے اور اپنے مستقبل سے نظریں نہ چرائے”۔
آدم کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے، تاہم اگر اس پر الزامات درست ثابت ہوگئے تو اسے تین سال تک قید ہوسکتی ہے۔ آمبگا سرینواسن ،بیش موومینٹ کی چیئرپرسن ہیں۔
آمبگا”ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اس نوجوان کو اس کے چند الفاظ پر کیوں پکڑا گیا ہے،حالانکہ یہاں متعدد افراد اس سے بھی زیادہ سنگین بیان دیتے رہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ حکومت کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے اور یہ فوجداری نظام انصاف کی واضح خلاف ورزی ہے”۔
آدم کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی چپ نہیں رہے گا۔
آدم”یہ صرف میری ذات کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق ہم سب سے ہے”۔