کتاب کا تعلق انسان سے بڑا پرانا ہے۔ اسی تعلق کے اعتراف میں ہر سال 23 اپریل کو کتاب کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ کتاب نہ صرف انسان کی بہترین دوست ہے بلکہ یہ انسان کے علم و ہنر اور ذہنی استعداد میں بھی بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔ کتاب کا عالمی دن منانے کا مقصد لوگوں میں اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کتب بینی کا رجحان دم توڑ رہا ہے تاہم فلموں میں بہترین ناولوں کے استعمال سے اس صورتحال میں بہتری آرہی ہے، جس کی مثال ہیری پوٹر سیریز کی فلمیں ہیں، جس کے ناولوں نے بھی ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔ 1995ءمیں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جنرل کونسل کا اجلاس فرانس میں ہوا جس میں اس ادارے نے 23 اپریل کو کتاب کا عالمی دن قرار دیا جس کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے اسے منانے کا آغاز کیا۔ پاکستان میں ایک تو شرح خواندگی کم ہے اور دوسری طرف مہنگائی کی وجہ سے بھی کتاب دوستی میں کمی آئی ہے۔ اس طرح معلومات کے جدید طریقوں کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فونز کے استعمال کی وجہ سے بھی کتاب کی اہمیت متاثر ہوئی ہے مگر آج بھی یہ پاکستانی معاشرے میں 70 فیصد افراد کے لئے معلومات اور حصول علم کا ذریعہ ہے۔ ماضی میں پاکستان میں کتب بینی کا رجحان کافی بہتر تھا اور اسی دور میں بہترین ناول بھی سامنے آئے جن پر فلمیں اور ٹی وی ڈرامے بھی تخلیق کئے گئے، جس کی مثال پاکستان ٹیلیویژن کے ڈرامے خدا کی بستی ہے، جو شوکت صدیقی کے ناول پر مبنی تھا، اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جب یہ ڈرامہ نشر ہوتا تھا، شاہراہیں اور گلیاں سنسان ہوجاتی تھیں۔ اسی طرح ایک ناول جانگلوس تھا جس کی ڈرامائی تشکیل نے بھی بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں صرف ستائیس فیصد عوام کتب بینی کے شوقین ہیں،جبکہ تہتر فیصد عوام نے کتب بینی سے دوری کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم دانشور طبقے کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یلغار کے باوجود کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔مطالعے میں کمی کی بڑی وجہ کتاب کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مطالعے کا اشتیاق تو ہے مگر کتاب اب عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہے۔ تاہم اہم امر یہ ہے کہ کتاب جہاں انسان کے علم میں اضافہ کرتی ہے وہیں اس کی بہترین دوست اور تنہائی کی رفیق بھی ہے اور آدمی کی روحانی تسکین کا باعث بھی بنتی ہے۔