World Asthma Day دمے کا عا لمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج دمے کی بیما ری سے آ گا ہی کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ یہ دن ہر سال مئی کے پہلے منگل کو منایا جاتا ہے۔دمہ کے بارے میں آگاہی پھیلانے کےلئے عالمی دن کی ابتدا انیس سو اٹھاسی میں ہوئی تھی،جب یہ صرف پینتیس ملکوں میں منایا گیا تھا اور اب دنیا کے ہر ملک میں منایا جاتا ہے۔ امراض سینہ کے ما ہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 300ملین افراد اس بیماری سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں ہر100افراد میں سے 5دمے کے مریض ہیں۔ یعنی ملک میں دمے کے کل مریضوں کی تعدادتقریباً ایک کروڑ سے زائد ہیں جن میں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے ۔ماہرین کے مطابق بچوں میں دمہ کی شرح ان کی آبادی کا دس فیصد جبکہ بڑوں میں ان کی آبادی کا چھ فیصد ہے۔خدشہ ہے کہ آئندہ دس برسوں میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد میں بیس سے پچیس فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔
موسمی تبدیلی ‘فضائی آلودگی اور غیر معیاری طرز زندگی دمے کی بڑی وجوہات ہیں۔دمہ ایک موروثی بیماری ہے اور یہ ایک شخص سے دوسرے شخص کو نہیں لگتا بلکہ بعض اوقات ماحول کی آلودگی اور درد یا خون کا دباو کم کرنے والی دواو¿ں کا استعماال بھی اس کا باعث بنتا ہے۔
دمہ پھیپھڑوں میں ہوا پہنچانے والی نالیوں کی ایسی دیرینہ بیماری ہے جس میں معمول کے مطابق سانس لینے میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ پھیھپڑوں سے سیٹی کی آواز نکلتی ہے۔ دمے کے مرض میں دو طرح کی تکالیف ہوتی ہیں جن میں سانس کی نالیوں میں سوزش اور سانس کی نالیوں کے پٹھوں میں سکڑن شامل ہیں۔دمہ مسلسل بیماری نہیں بلکہ اس کا دورہ پڑتا ہے۔ جسکا صحیح علاج انہیلر کا استعمال ہے،جسے استعمال کرنے سے ڈرنا نہیں چاہیے بلکہ یہ کھانے والی دوا کی نسبت زیادہ موثر طریقہ علاج ہے جس سے دوا پندرہ منٹ میں متاثرہ جگہ تک پہنچ جاتی ہے۔اگرکسی شخص کومسلسل کھانسی رہے یا کھانسی کے ساتھ الٹی آئے تو یہ دمہ کی نشانی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *