گزشتہ دنوں برمی پارلیمنٹ کے اجلاس کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی یا این ڈی ایل غیرحاضر رہی، اس بائیکاٹ کے باعث آنگ سان سوچی پارلیمنٹ کی نشست کا حلف نہیں لے سکیں
پارلیمنٹ کے فوجی ارکان ایوان کی خالی نشستوں کے سامنے اپنا حلف اٹھا رہے ہیں، یہ لوگ عوامی ووٹنگ سے منتخب نہیں ہوئے، بلکہ انہیں فوج نے آئین کے تحت نامزد کیا ہے۔ برمی پارلیمنٹ کی پچیس فیصد نشستیں فوج کیلئے مختص ہیں۔ اس وقت یہ لوگ اسپیکر کی جانب سے بولے جانے والے الفاظ دوہراتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم آئین کا ہرممکن تحفظ کریں گے۔
آئین کے تحفظ کیلئے بولے جانے لفظ Safeguard کے باعث ہی اپوزیشن لیڈر اور نومنتخب رکن پارلیمنٹ آنگ سان سوچی اور ان کی جماعت کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس کے پہلے روز غائب نظر آئے۔ این ایل ڈی کا مطالبہ ہے کہ اس لفظ کو تبدیل کیا جائے۔پارٹی ترجمان Nyan Win کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ان کی جماعت کوئی مذاکرات نہیں کرے گی۔
(male) Nyan Win “جب این ایل ڈی نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا تھا تو ہماری پارٹی نے پارلیمانی اجلاس میں حصہ لینے کا بھی فیصلہ کیا تھا، مگر حلف نامے کے الفاظ تبدیل ہونے تک ہم پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتے، ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ایک دن یہ مسئلہ حل ہوکر رہے گا”۔
حکومت نے پارلیمنٹ کی نشست کیلئے حلف نامہ اس وقت تبدیل کیا جب این ایل ڈی نے ضمنی انتخابات میں شامل ہونے کیلئے حامی بھری، تاہم حکومت نے پارلیمانی حلف کیلئے 2008ءکے آئین میں اضافی الفاظ شامل کرادیئے۔ آنگ سان سوچی عوامی سطح پر فوجی حکومت کی جانب سے تیار کردہ آئین کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیرجمہوری قرار دے چکی ہیں۔ اور اب اس کے تحفظ کا حلف اٹھانا ان کے انتخابی وعدوں کی نفی ثابت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک لفظ این ایل ڈی کیلئے ایک نئی جنگ شروع کرنے کا باعث بن گیا ہے۔تاہم حکمران جماعت Solidarity and Development یا یو ایس ڈی پی کے سیکرٹری جنرل Htay Oo کا نظریہ اس حوالے سے مختلف ہے۔
(male) Htay Oo “اس آئین کو تبدیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جس کی توثیق عوام کردیں۔ مجھے تو اس لفظ سیف گارڈ یا حفاظت کرنے اور لفظ احترام کرنے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ ہماری جماعت قومی مفاد میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہے، ہم لوگ انتہائی احتیاط سے این ایل ڈی کے تحفظات پر غور کررہے ہیں”۔
این ایل ڈی ضمنی انتخابات میں 43 نشستوں میں کامیابی حاصل کرکے ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی بن گئی تھی۔ اس وقت این ایل ڈی کی ایوان بالا میں چار، ایوان زیریں میں 37 اور مقامی ریاستی پارلیمنٹ میں 2 نشستیں ہیں۔ برما کی قومی اسمبلی کو ہی آئین میں تبدیلی کی طاقت حاصل ہے، مگر یہاں فوج اور اس کے سیاسی حامیوں کو واضح اکثریت حاصل ہے۔این ایل ڈی کے سابق رکن اور ایک نئی جماعت National Democracy Party کے چیئرمین Thein Nyut کا کہنا ہے کہ این ایل ڈی کا مطالبہ پورا ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔
(male) Thein Nyut “آئینی ترامیم یو ایس ڈی پی اور فوجی نمائندگان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ انہیں پارلیمنٹ کی اسی فیصد نشستیں حاصل ہیں، جبکہ آئینی ترامیم کیلئے پارلیمنٹ کی 75 فیصد اکثریت کی حمایت ضروری ہے”۔
Ko Ko Gyi جمہوریت پسند تحریک The 88 Generation Group کے رہنماءہیں۔
(male) Ko Ko Gyi “موجودہ آئین انتہائی سخت ہے اور اس میں ترامیم کا حق مکمل طور پر یو ایس ڈی پی اور فوج کو حاصل ہے، اور این ایل ڈی کے بائیکاٹ کے بعد ایک بار پھر گیند حکمران اتحاد کے کورٹ میں چلی گئی ہے۔ ان کی اجازت کے بغیر کوئی بھی پیشرفت ممکن نہیں، تاہم موجودہ آئین میں ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری اقدار اور لسانی مسائل کو حل کیا جاسکے۔ تمام سیاسی جماعتوں کوان معاملات پر ملکر کام کرنا چاہئے۔ میرے خیال میں این ایل ڈی دوسرے گروپس کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتی ہے، اور موجودہ تنازعہ حلف نامے کے الفاظ پر ہے، جس سے تعاون کا یہ عزم متاثر نہیں ہوگا”۔
جاپان کے حالیہ دورے کے دوران برمی صدر Thein Sein نے کہا کہ پارلیمانی حلف پر نظرثانی ممکن ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ نظرثانی فوج کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں، اور فوجی حمایت کی ضمانت صدر کی جماعت یو ایس ڈی پی نہیں دے سکتی۔مارچ میں ایک فوجی تقریب کے دوران برمی فوج کے سربراہ جنرل Min Aung Hlaing کا کہنا تھا کہ فوج آئین کا تحفظ کرے گی۔
(male) Min Aung Hlaing “آئین کے تحت فوج کو آئین کے تحفظ کیلئے اہم کردار دیا گیا ہے، یہ اب فوج کی ذمہ داری ہے۔ لہذامستقبل میں برما کو ایک جمہوری اور ترقی یافتہ ملک بنانے کیلئے فوج آئین کے تحفط کی ذمہ داری کو ہر حال میں پورا کرے گی”۔
عالمی برادری اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے، اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی حال ہی میں برما کا دورہ کیا۔اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ این ایل ڈی اور حکومت اس مسئلے کو ملکر حل کرلیں گے۔ Ko Ko Gyi بھی اس حوالے سے کافی پرامید نظر آتے ہیں۔
(male) Ko Ko Gyi “برمی سیاست غیر روایتی ہے اور یہ پارلیمنٹ پر انحصار نہیں کرتی۔ ملکی ترقی کیلئے پارلیمنٹ سے باہر مذاکرات اور مصالحت کو بھی انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے”۔