پاکستان کا قبائلی علاقہ اپنی سخت ثقافتی روایات اور قوانین کے حوالے سے جانا جاتا ہے،اور خواتین کے حوالے سے یہاں کے قوانین اور بھی سخت ہیں،جس کی سب سے بڑی مثال یہاں کی خواتین کی کسی بھی سماجی اور معاشی سرگرمیوں عدم شرکت ہے،یہاں کی خواتین کو کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی میں شریک نہیں کیا جاتا۔گل پانڑہ ایک اسکول ٹیچر ہیں،ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ چند تعلیم یافتہ والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے حصول کے لئے اسکول بھیجتے ہیں لیکن زےادہ تر والدین اس کو اپنی غیرت کے منافی سمجھتے ہیں،
فاٹا کی خواتین کے سب سے بڑے مسائل میں صحت اور تعلیم ایسے دو مسئلے ہیں جن کو اگر ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ فاٹا کی خواتین بھی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی بہترین صلاحیتوں کی حامل میں شامل ہو جائینگی،اس حوالے سے فریدہ آفریدی جو کہ ایک مقامی این جی او کی سرگرم کارکن کہتی ہیں،
رضیہ بانو ایک گھریلو خاتون ہیں،ان کا کہنا ہے کہ فاٹا کی خواتین کو آگے لانے کے لئے ضروری ہے کہ فاٹا کے مرد حضرات اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں تب ہی جا کر فاٹا کی خواتین کو ان کے جائز حقوق مل سکیں گے،
فاٹا کی اسکول جانے والی طالبات کا ایک بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے،جبکہ ایک تو اسکول بہت دور دور واقع ہیں ،اور اسکولوں کی تعداد بھی نہایت کم ہے،اس حوالے سے شبینہ گل جو کہ ایک اسکول کی طالبہ ہیں کہتی ہیں،
فاٹا کی خواتین آج بھی ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہے،اور قومی شناختی کارڈ بنوانے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاتا،ان خواتین کواسی طرح کے اور بھی بہت سے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو ختم کرنے کے لئے فاٹا کے قوانین میں تبدیلی اور وہاں اصلاحات نافذ کرنے کی نہایت اشد ضرورت ہے۔