ملائیشیاءکے نائب وزیراعظم نے اپنے ملک کے تعلیمی نظام کو دنیا میں سب سے بہترین قرار دیا ہے، جبکہ ورلڈ اکنامک فورم نے بھی ملائیشیاءکو بہتر تعلیم کے حوالے سے پندرہ بہترین ممالک میں شامل کیا ہے، مگر متعدد ملائیشن شہریوں کے خیالات کافی مختلف ہیں۔
Fahri Azzat ایک وکیل اور دو بچوں کے باپ ہیں۔
(male) Fahri Azzat“میں اپنے بچوں کو پہلے سرکاری اسکول میں داخل کرانا چاہتا تھا، تاہم پھر میں نے اپنا ارادہ تبدیل کرلیا”۔
Fahri Azzat کا بچہ کوالالمپور کے ایک نجی اسکول میں داخل ہوا ہے، انھوں نے یہ فیصلہ خود کو ہونے والے ناگوار تجربات کے بعد کیا۔
(male) Fahri Azzat“جب بھی میں سرکاری اسکولوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے کمی کا احساس ہوتا ہے۔ ایک تو وہاں کے اساذہ کا معیار بہتر نہیں، جبکہ وہاں کا نصاب بھی غیرتسلی بخش ہے۔میں اپنے بچوں کو Malay اور انگریزی زبان میں تعلیم دینا چاہتا ہوں، مگر ہمارے سرکاری اسکولوں میں تو انگریزی کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔میرا مطلب ہے کہ میرے دور میں انگریزی زبان کی تعلیم ہی ختم کردی گئی تھی۔ میرے دور تعلیم میں تو اسکولوں کی حالت انتہائی خراب تھی”۔
تاہم تعلیم کے وزیر اور نائب وزیراعظم محی الدین یاسین کا خیال بالکل مختلف ہے۔ رواں سال کے شروع میں ایک تقریب کے دوران انھوں نے ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کا تذکرہ کیا، جس میں ملائیشیاءکو بہتر معیار تعلیم کے حوالے سے 14 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ محی الدین یاسین کا کہنا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملائیشیا کا نظام تعلیم امریکہ، برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک سے بھی اچھا ہے۔دوسری جانب ایک این جی او Parent Action Group for Education یا پی اے جی ای سے تعلق رکھنے والی Noor Azimah Abdul Rahim کا کہنا ہے کہ عالمی فورم کی رپورٹ حقیقی صورتحال کی عکاس نہیں۔
نور(female) “اس رپورٹ میں ملک بھر کے تعلیمی نظام کا سروے نہیں کیا گیا، بلکہ اس میں لوگوں کے ایک خاص طبقے سے ان کی رائے پوچھی گئی۔ یہ گروپ بزنس ایگزیکٹوز پر مشتمل تھا جو کہ اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس گروپ کے بچے نجی اسکولوں یا بین الاقوامی اداروں میں زیرتعلیم ہیں، اسی وجہ سے انھوں نے نظام تعلیم کو بہترین قرار دیا۔ اس لئے ہمارا ماننا ہے کہ عالمی فورم کی رپورٹ ہمارے ملک کے نجی تعلیمی اداروں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں سرکاری نظام تعلیم شامل نہیں”۔
UCSI University College کے لیکچرار ڈاکٹر Ong Kian Meng ملائیشین نظام تعلیم کے چند پہلوﺅں کو اجاگر کررہے ہیں۔
(male) Ong Kian Meng “آپ ہمارے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے چند پہلوﺅں جیسے داخلے کی شرح، عالمی معیار کے امتحانات کے نتائج کا جائزہ لیں، جس سے معلوم ہوگا کہ ملائیشیاءابھی بھی دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے”۔
سائنس اور حساب میں عالمی سطح پر طالبعلموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے والی تنطیم Program for International Student Assessment کی 2009ءکی رپورٹ میں ملائیشیاءکو 74 ممالک کی فہرست میں 50 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔Noor Azimah کا کہنا ہے کہ تعلیم کا معیار اس وقت گرنا شروع ہوا جب انگلش میڈیم اسکولوں کو ختم کردیا گیا۔ واضح رہے کہ 1970ءمیں ملائیشین حکومت نے تمام سرکاری اسکولوں میں انگریزی کی جگہ Malay زبان میں تعلیم کا پروگرام شروع کیا تھا۔
(female) Noor Azimah “ہمارا ماننا ہے کہ تعلیمی معیار گرنے کی وجہ ملائیشین عوام میں انگریزی زبان سے عدم واقفیت بنا، انگریزی اس وقت عالمگیر زبان ہے اور اسے علم کی زبان بھی سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ کی انگریزی کمزور ہوگی تو تعلیمی قابلیت بھی متاثر ہوگی”۔
رواں برس network of research-intensive universities نے ایشیاءمیں تعلیم کے حوالے سے سنگاپور کو سرفہرست قرار دیا، جبکہ ملائیشیا کو 36 واں نمبر دیا۔ Ong Kian Meng کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملائیشیاءمیں اساتذہ کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔
(male) Ong Kian Meng “اگر آپ ذہین طالبعلم ہیں، تو آپ ڈاکٹر بننا تو پسند کریں گے، مگر کبھی استاد بننے کا سوچے گے بھی نہیں، جبکہ سنگاپور میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ وہاں اساتذہ کو بے پناہ مراعات حاصل ہیں، انہیں ترقیاں دی جاتی ہیں اور آگے بڑھنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔سنگاپور میں اساتذہ کو تربیت اور دیگر وسائل فراہم کئے جاتے ہیں جس سے وہ تعلیمی لحاظ سے آگے بڑھ رہا ہے۔ میرے خیال میں ملائیشیا میں بھی ان اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھا جاسکتا ہے”۔
وزیراعظم نجیب رزاق کی جانب سے رواں ماہ کے دوران تعلیمی اصلاحات کا اعلان متوقع ہے، تاہم Fahri Azzat حکومتی وعدوں پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں۔
(male) Fahri Azzat “ہر بار ایک نیا وزیر تعلیم پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کرتا ہے، جس کی وجہ سے نظام میں استحکام پیدا نہیں ہوتا۔ مجھے تو حکومتی اقدامات میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی، لگتا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں کہ ہمارے طالبعلموں کو کیا تعلیم فراہم کرنی ہے۔ یہ ایک سیاسی معاملہ بن گیا ہے، حکومت اس حوالے سے سنجیدہ نہیں”۔