چین میں برڈ فلو کی وباءپھیلنے پر عالمی ادارہ صحت نے انتباہ جاری کیا ہے، اب تک اس وبا سے سات افراد ہلاک جبکہ بیس متاثر ہوئے ہیں۔ چینی حکام نے پولٹری صنعت کو بند کرتے ہوئے پرندوں کی ملک میں نقل و حمل پر پابندی عائد کردی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
عالمی ادارہ صحت نے ایچ سیون این نائن برڈ فلو کی وباءپھیلنے پر چین کے اقدامات کو سراہا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے اپنی ایک ٹیم بھیجنا چاہتا ہے۔یہ کافی حساس معاملہ ہے اور اب تک اس کی تفصیلات سامنے آنے کے لئے تحقیقی ٹیم کی آمد کا انتظار ہے۔ چین میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ مائیکل او لیری کا کہنا ہے کہ یہ وقت افراتفری پھیلانے کا نہیں۔
مائیکل”ہمیں ابھی تک ایک فرد سے دوسرے فرد میں وائرس منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے، اور ہمیں توقع ہے کہ یہ صورتحال برقرار رہے گی، تاہم ہم میں سے کوئی بھی مستقبل کے بارے میں پیشگوئی نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں”۔
ابھی برڈ فلو کے کیسز شنگھائی اور اس کے قریبی صوبوں میں سامنے آئے ہیں، لئیانگ وانین ، چین کے ایچ سیون این نا ئن پریوینشن اینڈ کنٹرول آفس کے ڈائریکٹر ہیں۔
لیانگ”برڈ فلو ایچ سیون این نائن کی وباءکا سبب ایک نئے ٹائپ کا وائرس بنا ہے، اور یہ پھیلنا شروع ہوگیا ہے، تاہم ابھی ہمیں ایک سے دوسرے شخص میں اس وائرس کے منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں”۔
دس روز قبل پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے ہلاکتوں یا مریضوں کی تعداد کی رفتار میں تبدریج اضافہ ہورہا ہے۔ برڈ فلو کے واقعات بڑھنے کے بعد حکام نے مرغیوں کی نقل و حمل پر پابندی عائد کردی ہے، ہانگ کانگ جہاں چین سے ہزاروں مرغیاں درآمد کی جاتی ہیں، نے اپنی سرحد پر ان پرندوں میں وائرس کے ٹیسٹ کرنا شروع کردیئے ہیں۔
آسٹریلیا نیشنل یونیورسٹی میڈیکل اسکول سے تعلق رکھنے والے ماہر طب پروفیسر پیٹر کو لگ نان کا کہنا ہے کہ یہ اچھا اقدام ہے۔
پیٹر”پرندوں کی نقل و حمل بڑے رقبے پر روکنے کیلئے مناسب اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسا نہ ہوا تو وائرس ہر جگہ پھیل جائے گا۔ اگرچہ ایک علاقے میں مخصوص پرندوں کے باعث اس وائرس کا پھیلاﺅ بدقسمتی ہے، مگر کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ان پرندوں کی نقل و حمل سے دیگر علاقوں میں متعدد افراد بھی اس وائرس کا شکار بن جائیں”۔
ایک دہائی قبل سارس یا سیور اکٹ ریسپیریٹری سینڈروم کی وباءپھیلنے کے بعد چین پر انتہائی سست روی سے اقدامات پر شدید تنقید کی گئی تھی، تاہم پیٹر کولگ نن کا کہنا ہے کہ اس بار صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
پیٹر “ہر ملک میں امراض کے بارے میں اطلاعات کو پھیلنے سے روکا جاتا ہے، کیونکہ جیسے جیسے یہ وبا پھیلتی ہے صورتحال تبدیل ہوتی جاتی ہے اور یہ اطلاعات نامکمل محسوس ہونے لگتی ہیں”۔
سوال” کیا آپ کے خیال میں چین نے 2003ءکی سارس وباءسے کوئی سبق سیکھا ہے؟
پیٹر”مجھے ایسا ہی لگتا ہے کیونکہ اس بار انھوں نے بامقصد انداز میں زیادہ معلومات ہمیں فراہم کی ہیں”۔
انکا کہنا ہے کہ ہمیں اس وقت تک فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں جب تک اس وائرس کے حوالے سے صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آجاتی۔
پیٹر”اس طرح کی صورتحال انفلوائنزا پھیلنے پر ہوہی جاتی ہے، جس کے بعد عوام کی بڑی اکثریت گھروں میں علاج کرانے کو ترجیح دیتی ہے”۔