Moin Akhter’s Death Anniversary – معروف اداکار معین اختر کی برسی

اداکاری کی ہر صنف اپنے صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے معین اختر 24 دسمبر 1950ءکو کراچی میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے 1966ءمیں سولہ سال کی عمر میں اپنی فنکارانہ زندگی کا آغاز6ستمبر کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی ایک تقریب سے کیا اور حاظرین کے دل جیت لئے۔

اس زمانے میں کراچی میں ٹیلی ویژن شروع نہیں ہوا تھا اسی لئے معین اختر اسٹیج پر ہی اپنی فنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے رہے۔انہیں نقالی کے فن میں مہارت حاصل تھی، تاہم انھوں نے خود کو اس تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے ایک قدم آگے جا کر اداکاری کے تخلیقی جوہر تک رسائی حاصل کی۔

کراچی میں ٹیلی ویژن کی آمد کے ساتھ ہی معین اختر کا فن سٹیج سے نکل کر لوگوں کے ڈرائنگ روم تک پھیل گیا اور انیس سو ستر تک معین اختر پاکستانی ناظرین کا ایک جانا پہچانا چہرہ بن گئے۔

انیس سو ستر کے انتخابات کے دوران ٹیلی ویژن پر پیش کئے جانے والے خاکوں میں معین نے اپنے کئی نئے رنگ دکھائے اور یوں ستّر کی دہائی ا±ن کے بامِ عروج پر پہنچنے کا زمانہ ٹھہرا۔مختلف ڈراموں میں منچلے نوجوان سے لیکر ایک سنکی بڈ ّھے تک کے جو کردار انھوں نے ادا کئے وہ ان کی فنی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ان کے مشہور اسٹیج، ٹی وی ڈراموں اور پروگرامز میں سے کچھ کے نام یہ ہیں، بکر ا قسطوں پر، بڈھا گھر پر ہے، روزی، ہاف پلیٹ، عید ٹرین، بندر روڈ سے کیماڑی، سچ مچ، فیملی 93، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، لوز ٹاک وغیرہ۔ لوز ٹاک چار سو قسطوں پر مشتمل تھا اور اس کی ہر قسط میں معین اختر نے ایک الگ بہروپ اختیار کیا تھا۔

معین اختر نے اپنی فنی زندگی کے دوران ہزاروں روپ دھارے ، شاید ہی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا ہوجس پر انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر نہ دکھائے ہوں۔ پاکستان میں کامیڈی، سنجیدہ اداکاری، فلم، اسٹیج، ریڈیو، گلوکاری، نقالی، میزبانی، لطیفہ گوئی، ماڈلنگ ، غرض فن کے ہر شعبے میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جبکہ انہیں اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی، سندھی، پنجابی، میمنی، پشتو، گجراتی اور بنگالی زبان پر عبور حاصل تھا۔22 اپریل 2011ءکو وہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث دنیا سے چل بسے۔

معین اختر کو ان کی فن کارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سمیت بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔