Where The Streets Have No Name – افغان پوسٹ

افغانستان میں پوسٹ مین یا ڈاکیے کو صرف خانہ جنگی کی ہی فکر لاحق نہیں بلکہ ان کے لئے دارالحکومت کابل میں مطلوبہ پتے ڈھونڈنا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

چھیالیس سالہ محمد رحیم خاکساراپنی پرانی سائیکل پر ڈاکخانہ میں داخل ہورہے ہیں، وہ گزشتہ دس برس سے ڈاکیے کا کام کررہا ہے۔

خاکسار”یہ پارسل ایران سے غلام نبی کیلئے آیا ہے جو ضلع دشت بارچی کے علاقے گریو ایوینیو میں مقیم ہے، یہ کوئی معروف جگہ نہیں اور اس پارسل پر گھر کا کوئی نمبر بھی درج نہیں، تاہم مجھے توقع ہے کہ میں مطلوبہ پتہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجاﺅں گا”۔

وہ اس گرمی میں مطلوبہ پتہ ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔

جگہ جگہ وہ رک کر راستے کا پوچھ رہے ہیں، ایک دکاندار نے انہیں بتایا کہ وہ اس وقت گریو ایوینیو پر موجود ہے، مگر اسے نہیں معلوم کہ مطلوبہ گھر کونسا ہے۔

وہ کافی دیر تک تلاش کرتا رہا مگر غلام نبی کا گھر نہیں ڈھونڈ سکا، تاہم ایک گھنٹے کی محنت کے بعد مطلوبہ شخص مل ہی گیا اور پارسل اسے سپرد کردیا گیا۔

غلام نبی”یہ خط ایران سے میرے بھائی نے بھیجا ہے، ہم خطوط کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں، کیونکہ یہ محفوظ اور سستا ذریعہ ہے، ہم افغان پوسٹل سروس سے خوش ہیں”۔

محمد رحیم کا کہنا ہے کہ یہ معمول کی ڈیلیوری تھی۔

خاکسار”مثال کے طور پر ہمیں امریکہ سے ایک خط موصول ہوا، اس کے لفافے پر لکھا تھا کہ اس خط کو دشت بارچی میں محمد حسین تک ضرور پہنچایا جائے اور کچھ بھی نہیں تھا۔ حالانکہ دشت بارچی بہت بڑا علاقہ ہے، آخر ہم اسی علاقے

میں ایک ہی جیسے نام کے ہزاروں افراد میں سے مطلوبہ شخص کو کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں؟”

چون سالہ پوسٹ مین نائک محمد تیس سال سے یہ کام کررہے ہیں، ان کے مطابق ماضی میں ایک خط کو پہنچانے میں پانچ دن لگ جاتے تھے۔

نائک محمد”ہم مطوبہ پتا ڈھونڈ کر خط پہنچانے کی ہرممکن کوشش کرتے تھے، اگر ہمیں پتہ نہیں ملتا تھا تو ہم اس خط کو واپس بھجوا دیتے تھے۔میں نے ایسا کئی بار کیا ہے”۔

کابل کی آبادی پچاس لاکھ کے لگ بھگ ہے، جن میں دیہی علاقوں یہاں آکر بسنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، حکومت اب شہر کا نظام بہتر بنانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں تمام گلیوں اور گھروں کے پتوں کا جامع نظام بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، محمد نسیم رحیمی افغان پوسٹل سروسز کے سربراہ ہیں۔

رحیمی”اگر اس منصوبے پر عملدرآمد ہوگیا، تو تمام پتے اور نقشے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہوجائیں گے۔ ہمارے عملے کے پاس نقشے ہوں گے جس کے ذریعے انہیں کسی پتے کو ڈھونڈنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی”۔
نائک محمد اور ان کے ساتھی اس دن کے بے تابی سے منتظر ہیں۔