Burma’s Rohingya Family Spends Fasting Month as Refugees in Indonesia – برمی مسلمان خاندان کی آزمائش

دنیا بھر میں مسلمان اپنے رشتے داروں اور دوستوں کے ہمراہ عید الفطر کی خوشیاں منانے میں مصروف ہیں، مگر موجودہ سال بھی برما سے تعلق رکھنے والے مسلم خاندان کیلئے کچھ زیادہ ثابت نہیں ہوا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

محمد حنیف اٹھارہ رکنی روہنگیا مسلم خاندان کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔

یہ خاندان اس وقت انڈونیشین دارالحکومت جکارتہ کے لیگل ایڈ انسٹیوٹ نامی دفتر میں پناہ لئے ہوئے ہے، 38 سالہ محمد حنیف نے برما میں اپنا گھر اس وقت چھوڑا تھا جب وہ صرف تین سال کا تھا۔

حنیف”ہم فرار ہوئے تھے، ہمارا پیچھا بدھ افراد کررہے تھے اور فوجی ہم پر فائرنگ کررہے تھے، وہاں فوجی مسلمانوں پر حملہ کررہے تھے”۔

یہ خاندان پہلے ملائیشیاءپہنچا تھا جہاں وہ تین دہائیوں تک مقیم رہا، حنیف ایک تعمیراتی مقام پر مزدوری کرکے روزگار حاصل کرتا رہا، ملائیشیاءمیں اپنے قیام کے دوران اس خاندان کو توقع تھی کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین انہیں پناہ گزین کی حیثیت دیکر آسٹریلیا بھیج دے گا مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ اس سلسلے میں یہ لوگ کشتی کے ذریعے انڈونیشیاءپہنچے، سماٹرا آئی لینڈ میں حنیف کی ملاقات چند بروکرز سے ہوئی۔

حنیف”انھوں نے ہمارے خاندان کے ہر فرد کو سماٹرا سے آسٹریلیا پہنچانے کے بدلے میں پندرہ سو ڈالرز مانگے، ہمارے لئے اتنی رقم دینا ممکن نہ تھا، ہم انہیں فی کس نوسو ڈالرس ہی دے سکتے تھے، اور میں نے تیرہ ہزار ڈالرز ادا بھی کردیئے، اس کے بعد ہمارے پاس کچھ نہیں رہا تاہم ایجنٹ کا کہنا تھا کہ وہ ہماری مدد کرے گا، ہم بھی اس پر اعتماد کرتے تھے”۔

چند ماہ قبل یہ ایجنٹ حنیف کے خاندان جکارتہ اکے نواحی علاقے بو گور لے آیا، جہاں وہ کچھ روز ایک کمرے میں مقیم رہے، جس کے بعد انہیں جکارتہ منتقل کردیا گیا۔

حنیف”ہمیں ایک گاڑی کے ذریعے سوئکارنوہٹٹا ایئرپورٹ کے قریب ایک گیسٹ ہاﺅس میں لے جایا گیا، وہاں ایک کمرے میں ہم سب کو بندھ کردیا گیا، شروع میں تو ہمیں صحیح کھانا ملتا رہا مگر پھر وہ ہمیں بھولنے لگے”۔

ان لوگوں نے محدود خوراک کے ساتھ اس کمرے میں دوماہ گزارے، حنیف کا برادر نسبتی محمد قاسم پر تشدد بھی کیا گیا۔

قاسم”مجھے مارا گیا اور پیسے مانگے گئے، مگر ہمارے پاس دینے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا، ہم نے انہیں کئی بار یہ بات بتائی مگر وہ ماننے کیلئے تیار ہی نہیں تھے اسی لئے مجھ پر تشدد کیا گیا، پانچ یا چھ لوگوں نے اندھیرے کمرے میں مجھے مارا پیٹا”۔

ایک رات صفائی کرنے والے افراد کی مدد سے یہ لوگ وہاں سے نکل گئے اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے دفتر پہنچ گئے جہاں انہیں سیاسی پناہ گزینوں کے کارڈز دیئے گئے، مقامی صحافیوں کی مدد سے انہیں ایک این جی او انڈونیشین لیگل ایڈ فاونڈیشن کے دفتر میں رہائش بھی مل گئی۔ جو لیس ابرانی اس این جی او کے بانی ہیں۔

ابرانی”یہ انسان ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، عالمی معاشرے کا حصہ ہونے کے ناطے ان کی مدد کرنا ہمارے ملک کا فرض ہے، ہم اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور ہم نے کئی
عالمی معاہدوں کی توثیق کی ہوگئی ہے، یہ روہنگیا پناہ گزین اسی دنیا کے شہری ہیں”۔

مگر رقم یا ملازمت کے بغیر اس خاندان کی گزر بسر لوگوں کی ہمدردی پر ہی ہورہی ہے۔

حنیف”ہمیں یہ لوگ کچھ چاول اور راشن وغیرہ دیتے ہیں، میں ایک شخص کا نام تو نہیں جانتا مگر اس نے ہمیں کئی بار راشن دیا ہے، ہم اس کے بہت شکرگزار ہیں، کیونکہ اس نے ہمارے ساتھ اجنبیوں جیسا توہین آمیز سلوک نہیں کیا، انڈونیشین عوام بہت اچھے ہیں اور ہماری مدد خاندان کی طرح ہی کررہے ہیں”۔

حنیف کی بھانجی آٹھ کی نرما رو رہی ہے۔

حنیف”میں بہت اداس ہوں، یہ اللہ کی طرف سے ہماری آزمائش ہے جو ہمارے لئے کافی سخت ہے۔ یہ سب سے بڑی آزمائش تو نہیں مگر پھر بھی میں بہت اداس ہوں، مجھے اس لوگوں کو دیکھ کر شرم آتی ہے جو ہماری امداد کرتے ہیں، تاہم میں ان کے کام کو سراہتا بھی ہوں”۔

حنیف اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آسٹریلیا میں نئی زندگی تعمیر کرنے کا خواہشمند ہے۔

حنیف”میں برما واپس جانے پر کسی اور ملک میں مرنا زیادہ پسند کروں گا، میں اب کسی وعدے یا ضمانت پر بھروسہ کرکے وہاں واپس نہیں جاﺅں گا، آسٹریلیا ہم لوگوں کو قبول کرنے کیلئے تیار ہے، جبکہ وہ ہمارے لئے قریبی آپشن بھی ہے۔

وہاں ہمارے جاننے والوں کے تین خاندان ہمارا انتظار کررے ہیں، جبکہ میری والدہ کے دوست بھی وہاں پہنچ چکے ہیں”۔