Weight Loss Surgery on the Rise in India – بھارت میں وزن کم کرنے کیلئے سرجری کا رجحان

بھارت میں موٹاپے پر قابو پانے کیلئے سرجری کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اس وقت بھارتی شہروں میں اعلیٰ طبقے کے دوتہائی افراد موٹاپے کا شکار ہیں اور وہ اس کا علاج سرجری کی صورت میں نکال رہے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

اس وقت علی الصبح کا وقت ہے مگر 56 سالہ چندر کترینہ اور 65 سالہ موہن گلوتی اپنے صبح کے معمولات کیلئے تیار ہیں، وہ اس وقت جے پور کے بھگت سنگھ گارڈن میں چہل قدمی کررہے ہیں۔

چندر کا جسمانی وزن 85 کلو جبکہ موہن کا ایک سو بیس کلو سے زائد ہے، یہ دونوں اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں۔

چندر”میں ورزش اور جسم کے ہر عضو کو ہلاتا جلاتا ہوں مگر یہ طریقہ کار کام نہیں کررہا”۔

چندر نے وزن کم کرنے کیلئے ڈائٹنگ سمیت متعدد طریقہ کار اختیار کئے۔

وہ وزن کم کرنے کیلئے جم بھی جاتے رہے ہیں۔

چندر “یہ سائیکل پر میرا آٹھواں چکر ہے، میں نے بہت کچھ کیا ہے مگر کچھ بھی کام نہیں آسکا، اب میرے خیال میں سرجری ہی آخری راستہ رہ گیا ہے”۔

رانا کمار چند کے جم کوچ ہیں۔انکا کہنا ہے کہ چندر جیسے ایک چوتھائی امیر بھارتی موٹاپے کا شکار ہوچکے ہیں، جبکہ شہروں میں اسکولوں کے بچوں میں بھی یہ وباءتیزی سے پھیل رہی ہے۔

کمار”موٹاپے کی شرح میں اضافے کی وجہ لوگوں کا سست طرز زندگی ہے، لوگ ہر وقت بیٹھے رہتے ہیں، ورزش کم کرتے ہیں اور جنک فوڈ استعمال کرتے ہیں، ہم انہیں ورزش اور خوراک کنٹرول کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، اگر یہ کام نہ کرے تو پھر ہم سرجری کی تجویز دیتے ہیں”۔

اب وزن کم کرنے کی سرجری ایک بڑی صنعت بن گئی ہے، ابھیشیک کوسمیٹک سرگری سینٹر کے ڈاکٹر اکھیلیش شرما کا کہنا ہے کہ کاروبار تیزی سے ترقی کررہا ہے۔

اکھیلیش شرما”ہم ہر ہفتے ایک یا دو چربی نکالنے کی سرجری کرتے ہیں، اور ہمارے مریضوں کا تعلق ہر شعبہ زندگی سے ہوتا ہے، یعنی ان میں پڑھے لکھے، کم پڑھے لکھے یا اعلیٰ طبقے کے افراد وغیرہ شامل ہیں، ان کا مقصد وزن کم کرنا ہوتا ہے”۔
اس آپریشن کی لاگت ایک ہزار ڈالرز کے قریب ہے، اور ایک تخمینے کے مطابق بھارت میں سالانہ دس ہزار کے قریب اس طرح کے آپریشن ہوتے ہیں۔

یہ وہی ملک ہے جسے دنیا میں بھوک کا دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے، بھارت کی ایک چوتھائی آبادی کو مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں،

شیاموتی دیویی نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجا جسکی وجہ تعلیم کا حصول نہیں بلکہ دوپہر کے کھانے کا حصول ہے۔

شیاموتی “بچے مفت کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں، میرے چار بچے تھے مگر ہماری غربت کی وجہ سے اب دو بیٹیاں ہی رہ گئی ہیں۔ میرے شوہر انتقال کرچکے ہیں اور میرے پاس کوئی ملازمت نہیں۔ میرے دیگر دو بچے رشتے داروں کے پاس مقیم ہیں کیونکہ میں انہیں کھلانے کی سکت نہیں رکھتی”۔

مگر اسی شہر میں چندرا اور اعلیٰ طبقے کے دیگر افراد بہت زیادہ کھانے سے موٹاپے کا شکار ہوچکے ہیں، بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کی بناءپر یہاں بین الاقوامی فوڈ چینز کی شاخیں کھل رہی ہیں، جس کی وجہ سے شہری آبادی کی خوراک تبدیل ہوگئی ہے۔ چندارا کی بہن 43 سالہ پریتی گپتابھی سرجری کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔

پریتی گپتا”میں فٹ ہونے کیلئے وزن کم کرنا چاہتی ہوں، میں اس عمر میں جوڑوں کے درد کا شکار نہیں ہونا چاہتی، تو اسی لئے میں وزن کم کرنا چاہتی ہوں”۔