We need peace and stability… – افغان امن مذاکرات

افغان طالبان نے حال ہی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اپنا پہلا غیرملکی دفتر کھولا ہے، متعدد افراد اسے طالبان کی جانب سے امن مذاکرات اور مصالحت کا اشارہ سمجھ رہے ہیں۔اس بارے میں کابل میں خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی رائے سنتے ہیں کی رپورٹ میں

ایک ہزار سے زائد خاندان مغربی کابل میں واقع کیمپ میں رہائش پذیر ہیں، یہ لوگ خانہ جنگی کے باعث اپنے گھر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، ان کے کئی پیارے مرے گئے، جبکہ گھربار تباہ ہوگئے۔ چالیس سالہ صوفی حیدر اس کیمپ میں اپنے خاندان کے ہمراہ گزشتہ پانچ برس سے مقیم ہیں۔

صوفی حیدر”میں یہاں جنگ کی وجہ سے پہنچا، اس وقت ہر جگہ لڑائی ہورہی ہے، جس کے دوران میرے چچا بھی ہلاک ہوگئے، میں نے انہین کیمپ میں آنے کا کہنا مگر انھوں نے میری بات نہیں سنی۔ ایک رات امریکی فورسز رات کو ہمارے گھر پر دھاوا بول کر انہیں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ میرے ملک میں بہت زیادہ تشدد ہورہا ہے”۔

صوفی صوبہ ہلمند کے ایک کاشتکار ہیں، وہ اب اس کیمپ میں رہنماءکا کردار ادا کررہے ہیں، مگر انہیں کہیں سے امداد نہیں مل رہی۔ انھوں نے اپنی جیبیں الٹ کر دکھایا جس میں صرف ایک ڈالر ہی موجود تھا۔

صوفی”ہماری زندگیاں بدتر ہوچکی ہیں، مگر ہم اب بھی زندہ ہیں، کوئی بھی ہمارے بارے میں سوچنے کیلئے تیار نہیں، ہم اس گرم موسم میں بھی خیموں کے اندر رہنے پر مجبور ہیں، آخر ہم یہاں کیسے رہ سکتے ہیں؟ یہاں کوئی بجلی نہیں، پنکھا نہیں اور کھانے کیلئے بھی کچھ نہیں۔ روزگار نہ ہونے کے باعث ہماری آمدنی بھی نہیں، ہمارے رہنماﺅں اچھے گھروں میں ائیرکنڈیشنز میں رہ رہے ہیں اور انہیں سب کچھ حاصل ہے، جب وہ اپنے غریب عوام کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے تو وہ امن مذاکرات کے بارے میں کیا سوچ سکتے ہیں؟ ہمارا سب کچھ کھو چکا ہے اور ہمیں امن اور استحکام کی ضرورت ہے”۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پانچ لاکھ کے لگ بھگ افراد اس جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر ناکافی سہولیات والی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، رواں برس جنوری میں طالبان نے براہ راست امن بات چیت کیلئے قطر میں ایک سیاسی دفتر کھولنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ ختم ہوگئی ہے۔ محمد سہیل شاہین قطر میں طالبان کے نئے دفتر کے ترجمان ہیں۔

سہیل شاہین”ابھی کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی، ابھی ہمارے پاس دو آپشنز موجود ہیں، ایک فوجی آپشن ، یعنی اتحادی افواج کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا آپشن، جبکہ دوسرا سیاسی آپشن ہے۔ گزشتہ بارہ برس سے ہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، وہ ہماری طاقت کو شکست دینے کی کوشش کررہے ہیں، مگر ہماری طاقت مزید بڑھ گئی ہے، اور اب ہم یہاں موجود ہیں۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے کہ انھوں نے بھی اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے، یہ افغانستان کے امن اور استحکام کیلئے بھی اچھا امر ہے”۔

کابل میں صدارتی محل پر طالبان کے حملے کے ایک روز بعد ہی افغانستان اور امریکہ نے طالبان سے امن مذاکرات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، قطر دفتر سے طالبان کا جھنڈا اور بینر افغان حکومت کے دباﺅ کے بعد ہٹا دیا، جبکہ اپوزیشن گروپس نے بھی طالبان سے امن بات چیت کا خیرمقدم کیا۔ فضل رحمان اوریا افغان نیشنل الائنس کے ترجمان ہیں۔

فضل رحمان”افغانستان فوجی طاقت سے جنگ ختم نہیں کرسکتا، یہ ضروری ہے کہ تنازعے کے خاتمے کیلئے مذاکرات کئے جائیں۔ تو طالبان کی جانب سے قطر میں کھولا جانے والا دفتر اچھی بات ہے، مگر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اسے اپنی طاقت مضبوط کرنے یا کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہ کرسکیں۔ اس کا استعمال صرف امن بات چیت کیلئے ہونا چاہئے”۔

اب واپس بے گھر افراد کے کیمپ پر چلتے ہیں، صوفی حیدر اپنے بیٹوں اور رشتے داروں سے بات کررہے ہیں، انہیں توقع ہے کہ امن بات چیت سے پائیدار امن قائم ہوسکے گا۔

صوفی حیدر”جب کوئی جنگ نہیں ہورہی تھی تو ہمارے ملک میں زندگی بہت اچھی تھی، ہم اپنے فارم اور باغات میں کام کرتے تھے، ہمارے گھر اچھے تھے، جہاں پانی اور سب کچھ موجود تھا۔ہم پرامن زندگی گزار رہے تھے مگر اب ہم اپنا سب کچھ کھوچکے ہیں، میں جنگ کے باعث اپنے خاندان سے محروم ہوچکا ہوں، ہمیں امن کی ضرورت ہے”۔